anwarulnajaf.com

مہمان نوازی

مروی  ہے کہ ایک
مرتبہ حضرت رسالتمآب
  نے اولاد
عبدالمطب
  کو جمع کیا اور فرمایا اے اولاد
عبدالمطلب
  مہمانوں کو کھانا کھلاؤ کلام
پاکیزہ کرو سلام کو عام کرو صلہ رحمی کرو اور اللہ کا سجدہ کرو جبکہ لوگ سوئے ہوں
تو بےشک سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ

امام محمد باقر علیہ 
نے فرمایا ایک مسلمان کو کھانا کھلانا 
دس ہزار غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے

امام جعفر صادق علیہ السلام  نے فرمای ایک بھوکے مومن کو جس نے
کھاناکھلویا  اس پر جنت واجب ہے

حضرت رسالتمآب 
مہمانوں  کوٹھیرانا بہت پسند فرماتے
تھے کہ مہمان نوازی کرنا نیک مومن کا کام ہے

اور آپ نے فرمایاجب کوئی مہمان کسی کےہاں جاتاہے  وہ اپنارزق ساتھ لے جاتاہے

آپ  نے فرمایا جب
دستر خوان پر خاندان والے مل بیٹھتے ہیں تو بسم اللہ اور آخر میں الحمد للہ  پڑھ لیں تو دستر خوان سے اٹھتے  ہی ان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں

آپ  نے ابوذر سے
فرمایا  کہ مومن کے ساتھ دوستانہ رکھو اور
تیرے گھر کھانا وہی کھائے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو تم خود بھی فاسقوں  کےہا ں کھان امت کھاؤ پس ایسے  شخص کو کھانا کھلاؤ جس کو اللہ کے لئے محبوب
رکھتے ہو اور ایسے شخص سے کھاؤ  جو تمہیں
اللہ کے لئے محبوب سمجھے

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  نے فرمایا جو شخص  مومن کو میٹھا لقمہ کھلائے خدا اس سے قیامت کی
تلخی کو دور کرے گا

ایک مرتبہ امام حسین علیہ السلام  مساکین کے پاس سے گزرے کہ وہ ایک چادر بچا کر
اوپر روٹی کے ٹکڑے رکھے بیٹھے تھے  انہوں
نے آپ سے استدعا کی کہ اے فرزندرسول آپ 
ہماری  دعوت کو قبول فرمائیں چنانچہ
آپ بیٹھ گئے اور فرمایا  بے شک  خداتکبرکرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اسکے

بعد ان سے فرمایاکہ میں نے تمہاری دعوت کو قبول کیاہے تو

اب تم  بھی میری
دعوت کو قبول کرو اور میرے ساتھ چلو چنانچہ 
ان کو اپنے مہمان خانہ پرلائے اور گھر جاکر جناب رباب سے فرمایا کہ جو
کھانا تیارہے وہ لاؤ پس مہمانوں مسکینوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ  نے تناول فرمایا

حضرت رسالتمآب  نے
فرمایا مہمان کا حق  ہے کہ اس کا اکرام
کرے  آپ نے فرمایا جب مہمان آتاہے تو
آسمان  سے اپنا رزق ساتھ  لاتاہے اور جب کھاناکھاتا  ہے تو گھر والوں کے گناہ بخشے جاتے ہیں

امام جعفر صادق علیہ السلام  نے فرمایا کہ مہمان  دو دن ہوتاہے اور تیسرے دن وہ گھر والوں میں
شمار ہوتا ہے  پس جو کچھ گھر میں پکے گا اس
کو کھلایاجائے گا

روایت میں ہے جب کھانا شروع کرنا ہوتو سب سے پہلے میز بان
ہاتھ دھوئے پھر اس کادایاں آدمی اور اس طرح دور چلتاجائے  اور جب کھانا کھاچکیں تو پہلے میز بان ہاتھ
دھوئے  اور بائیں طرف دور چلاجائے  اور حضرت علی علیہ السلام  سے منقول ہے کہ ایک ہی برتن  میں ہاتھ دھوئے جائیں اس سے اخلاق بڑھتے
ہیں  اور ایک روایت میں ہے کہ میزبان کو
آخر میں ہاتھ دھونے چائیں اور انہیں کھانا سب سے پہلے شروع کرنا چائیے  اور آخر میں ختم کرنا چائیے


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *