حدیث کے الفاظ پر غور کرنے اور مطلب کی تہ تک پہنچنے
کے بعد یہ حقیقت روزروشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حضرت علیؑ تبلیغ
آیات قرآنیہ کےلئے خداوند کریم کی
جانب سے نامزد تھے اور ان کی حیثبت تھی تو جب قرآن کےایک مختصر حصہ کی تبلیغ کےلئے ایک محدود قوم تک ومحدود علاقہ میں کوئی شخص ان فٹ قرار دیا جاتاہے یہ
عقل سلیم
کیسے تسلیم کرے کہ وہ کل قرآن کا
مبلغ ہو اور تمام قوموں اور تمام ملکوں
کاخدا کی جانب سے پیشیرہو پس حضرت
علیؑ کی پوزیشن کو واضح کرکے گویا رسولﷺ
خداعملی اعلان فرمارہے تھے کہ میری جگہ پر تبلیغ قرآن کےلئے حضرت علیؑ کے علاوہ
کوئی بھی موزوں نہیں
کے بعد یہ حقیقت روزروشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حضرت علیؑ تبلیغ
آیات قرآنیہ کےلئے خداوند کریم کی
جانب سے نامزد تھے اور ان کی حیثبت تھی تو جب قرآن کےایک مختصر حصہ کی تبلیغ کےلئے ایک محدود قوم تک ومحدود علاقہ میں کوئی شخص ان فٹ قرار دیا جاتاہے یہ
عقل سلیم
کیسے تسلیم کرے کہ وہ کل قرآن کا
مبلغ ہو اور تمام قوموں اور تمام ملکوں
کاخدا کی جانب سے پیشیرہو پس حضرت
علیؑ کی پوزیشن کو واضح کرکے گویا رسولﷺ
خداعملی اعلان فرمارہے تھے کہ میری جگہ پر تبلیغ قرآن کےلئے حضرت علیؑ کے علاوہ
کوئی بھی موزوں نہیں
اب سوال یہ
پیدا ہوتاہے کہ اگر حضرت ابوبکر اس کے اہل
نہ تھے تو جناب رسالت مآب نے پہلے
سے ہی حضرت علیؑ کو بھیج دیتے تو کہنے کو
بات رہ جاتی کہ آپ اپنی مرضی سے ہر عہدہ جلیلہ کے لئے حضرت علیؑ کوہی نامزد
فرمالیتے ہیں ورنہ ہم کسی سے کیا کم ہیں جنگ احد میں جب علیؑ نے لافتی
الاعلی کاتمغہ پایا تو شاید کسی دل میں اس
تمغہ کالالچ بھی پیدا ہوا ہو پس اس قسم کے
شکوک رفع کرنے کی خاطر حضور نے بعض غزوات
میں پہلی دفعہ حضرت علیؑ کو نامزد نہ فرمایا جیساکہ غزوہ ذات السلاسل کا قصہ تاریخوں میں محفوظ ہے ایک صحابی کو فوج کی کافی جمیعت دے کرروانہ
فرمایاجب وہ میدان جنگ سے بھاگ کر واپس ائے تو دوسرے کوعلم عطافرمایا تاکہ دل میں
اس کی بھی حسرت نہ رہے جب وہ بھی ناکام واپس پلٹے تو حضرت علیؑ کو رونہ
فرمایااور حضرت علیؑ فتح وکامرانی سے واپس پلٹے
تو سورہ والعادیات کی آیتیں اُتریں
جن میں پروردگار نے علیؑ کے گھوڑوں کی قسمیں
کھائیں ینابیع المودۃ سے بھی اس واقعہ کو نکل کیا گیاہے پھر جنگ خندق میں عمر وبن عبدود کے
مقابلہ کےلئے صحابہ کو مخاطب فرمایالیکن علی روسھم الطیر کان
گویاکہ ان کے سروں پر پرندے پیٹھے ہوئے
تھے اور بحکایت قرآن بلغت القلوب الحناجر
سانس حلقوم تک پہنچ گئے تھے اور
آنکھیں خوف سے دھنس گئی تھیں پس حضرت علی ؑنے مردانہ وا ر اس سے مقابلہ کیا
اورسر قلم کرکے خدمت نبوی میں لائے
جاتے ہوئے کل ایمان کا لقب لیا برزالایمان
کلہ الخ اور پلٹ کر ضربۃ علی یوم الخندق افضل میں عبادۃ الثقلین کا تمغہ
پایا ایسے گرانقدر خطابات اور تمغے
طبیعتوں کی للچاہٹ کےلئے مہمیز تھے ضرور
طبیعتیں اُبھرتی ہوں گی تو حضرت رسالت مآب
نے حاصل کرنیوالوں کےلئے راستہ
کھول دیااب خبیر کامعرکہ سامنے تھا تو علم
فوج ایک صحابی کو دیا تاکہ اس کادلی ارمان مٹ جائے جب وہ ویسے کے ویسے پلٹے تو دوسرے کو اۤگے بڑھایا وہ بھی زودرو ہوکر
واپس پلٹے اور کہتے تھے کہ ساتھیوں نےبزدلی کی ساتھی کہتے تھے علمبردار پہلے بھاگ
کھڑۓ ہوئے اور ہم بعد میں میدان سے بھاگے خیر سب کی حقیقت کھل گئی اۤ
خری دن حضرت علیؑ نے میدان جیت کر فوج اسلام کا بھرم رکھ لیا اور بفرمان
رسالت محب ومحبوب خدا کرار وغیر فرار کے لقب سے سرفراز ہوئے پوری تفصیل تفسیر کی
جلد 13 میں
اۤئے گی
پیدا ہوتاہے کہ اگر حضرت ابوبکر اس کے اہل
نہ تھے تو جناب رسالت مآب نے پہلے
سے ہی حضرت علیؑ کو بھیج دیتے تو کہنے کو
بات رہ جاتی کہ آپ اپنی مرضی سے ہر عہدہ جلیلہ کے لئے حضرت علیؑ کوہی نامزد
فرمالیتے ہیں ورنہ ہم کسی سے کیا کم ہیں جنگ احد میں جب علیؑ نے لافتی
الاعلی کاتمغہ پایا تو شاید کسی دل میں اس
تمغہ کالالچ بھی پیدا ہوا ہو پس اس قسم کے
شکوک رفع کرنے کی خاطر حضور نے بعض غزوات
میں پہلی دفعہ حضرت علیؑ کو نامزد نہ فرمایا جیساکہ غزوہ ذات السلاسل کا قصہ تاریخوں میں محفوظ ہے ایک صحابی کو فوج کی کافی جمیعت دے کرروانہ
فرمایاجب وہ میدان جنگ سے بھاگ کر واپس ائے تو دوسرے کوعلم عطافرمایا تاکہ دل میں
اس کی بھی حسرت نہ رہے جب وہ بھی ناکام واپس پلٹے تو حضرت علیؑ کو رونہ
فرمایااور حضرت علیؑ فتح وکامرانی سے واپس پلٹے
تو سورہ والعادیات کی آیتیں اُتریں
جن میں پروردگار نے علیؑ کے گھوڑوں کی قسمیں
کھائیں ینابیع المودۃ سے بھی اس واقعہ کو نکل کیا گیاہے پھر جنگ خندق میں عمر وبن عبدود کے
مقابلہ کےلئے صحابہ کو مخاطب فرمایالیکن علی روسھم الطیر کان
گویاکہ ان کے سروں پر پرندے پیٹھے ہوئے
تھے اور بحکایت قرآن بلغت القلوب الحناجر
سانس حلقوم تک پہنچ گئے تھے اور
آنکھیں خوف سے دھنس گئی تھیں پس حضرت علی ؑنے مردانہ وا ر اس سے مقابلہ کیا
اورسر قلم کرکے خدمت نبوی میں لائے
جاتے ہوئے کل ایمان کا لقب لیا برزالایمان
کلہ الخ اور پلٹ کر ضربۃ علی یوم الخندق افضل میں عبادۃ الثقلین کا تمغہ
پایا ایسے گرانقدر خطابات اور تمغے
طبیعتوں کی للچاہٹ کےلئے مہمیز تھے ضرور
طبیعتیں اُبھرتی ہوں گی تو حضرت رسالت مآب
نے حاصل کرنیوالوں کےلئے راستہ
کھول دیااب خبیر کامعرکہ سامنے تھا تو علم
فوج ایک صحابی کو دیا تاکہ اس کادلی ارمان مٹ جائے جب وہ ویسے کے ویسے پلٹے تو دوسرے کو اۤگے بڑھایا وہ بھی زودرو ہوکر
واپس پلٹے اور کہتے تھے کہ ساتھیوں نےبزدلی کی ساتھی کہتے تھے علمبردار پہلے بھاگ
کھڑۓ ہوئے اور ہم بعد میں میدان سے بھاگے خیر سب کی حقیقت کھل گئی اۤ
خری دن حضرت علیؑ نے میدان جیت کر فوج اسلام کا بھرم رکھ لیا اور بفرمان
رسالت محب ومحبوب خدا کرار وغیر فرار کے لقب سے سرفراز ہوئے پوری تفصیل تفسیر کی
جلد 13 میں
اۤئے گی
حضرت رسالت مآب جانتے تھے کہ ان مقامات میں علیؑ کے سواکوئی بھی اہل نہین
ہے لیکن یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ وقت گذر
جانے کے بعد کوئی دوسرا اپنی اہلیت کا ڈھنڈورا پیٹتارہے یہاں تبلیغ آیات برات کے موقعہ پر بھی حضوؐر کو معلوم تھا کہ
حضرت علیؑ ہی اس عہدہ جلیلہ کے اہل ہیں
لیکن بعد کی چہ میگوئیوں کا سد باب کرنے کےلئے پہلی دفعہ حضرت علیؑ کاانتخاب نہ
فرمایا بلکہ پہلے حضرت ابوبکر کو نامزد کیا اور
پھر بحکم پروردگار ان کو معزول
کرکے حضرت علیؑ کو متعین فرمایا
ہے لیکن یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ وقت گذر
جانے کے بعد کوئی دوسرا اپنی اہلیت کا ڈھنڈورا پیٹتارہے یہاں تبلیغ آیات برات کے موقعہ پر بھی حضوؐر کو معلوم تھا کہ
حضرت علیؑ ہی اس عہدہ جلیلہ کے اہل ہیں
لیکن بعد کی چہ میگوئیوں کا سد باب کرنے کےلئے پہلی دفعہ حضرت علیؑ کاانتخاب نہ
فرمایا بلکہ پہلے حضرت ابوبکر کو نامزد کیا اور
پھر بحکم پروردگار ان کو معزول
کرکے حضرت علیؑ کو متعین فرمایا
ان دونوں مقاموں
میں فرق یہ ہے کہ مقام جنگ میں جب دوسروں کو علم عنایت فرماتے رہے تو ان کو راستہ
سے واپس نہیں
میں فرق یہ ہے کہ مقام جنگ میں جب دوسروں کو علم عنایت فرماتے رہے تو ان کو راستہ
سے واپس نہیں
بلوایا بلکہ وہ ناکام پلٹے
تو دوسرے کو دیا اور آخر میں حضرت
علیؑ کو مامور فرمایا اور اس مقام پر راستے سے بلوالیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مقام جنگ میں بعض مجاہدین
کی کمزوری یاپسپائی کا فورامرد میدان مجاہد اور جانباز بہادر سے تدارک کیا
جاسکتاتھا لیکن مقام تبلیغ میں ایک مبلغ
کی ناکامی اس نازک دور میں پورے اسلامی مشن کی توہین وتذلیل کے مترادف تھی جس کا کا تدارک صرف زوربازو سے نہیں ہو سکتا تھا بنابریں خالق کو گوارا نہ ہوااور جو اہل نہ سمجھا گیا اسکو فوراواپس
بلوالیا گیا اور اہل کو مامور کرکے بھیج دیاگیا
تو دوسرے کو دیا اور آخر میں حضرت
علیؑ کو مامور فرمایا اور اس مقام پر راستے سے بلوالیا اس کی وجہ یہ ہے کہ مقام جنگ میں بعض مجاہدین
کی کمزوری یاپسپائی کا فورامرد میدان مجاہد اور جانباز بہادر سے تدارک کیا
جاسکتاتھا لیکن مقام تبلیغ میں ایک مبلغ
کی ناکامی اس نازک دور میں پورے اسلامی مشن کی توہین وتذلیل کے مترادف تھی جس کا کا تدارک صرف زوربازو سے نہیں ہو سکتا تھا بنابریں خالق کو گوارا نہ ہوااور جو اہل نہ سمجھا گیا اسکو فوراواپس
بلوالیا گیا اور اہل کو مامور کرکے بھیج دیاگیا
بہر کیف سمجھنے والوں کےلئے یہ مقام تاریخ اسلام میں ایک
اہم حقیقت کا حامل ہے اور اس موقع پر فرمان نبوی حضرت علیؑ کی خلافت بلا فصل کا
غیر مبہم بیان ہے ایک کی برطرفی اور دوسرے
کا تعین دونوں کے مراتب ومنازل میں زمین وآسمان کے فرق کا بنانگ دہل اعلان ہے جسکو حقیقت اشنا کان سن رہے ہیں اور دور رس
دماغ قبول کررہے ہیں
اہم حقیقت کا حامل ہے اور اس موقع پر فرمان نبوی حضرت علیؑ کی خلافت بلا فصل کا
غیر مبہم بیان ہے ایک کی برطرفی اور دوسرے
کا تعین دونوں کے مراتب ومنازل میں زمین وآسمان کے فرق کا بنانگ دہل اعلان ہے جسکو حقیقت اشنا کان سن رہے ہیں اور دور رس
دماغ قبول کررہے ہیں
علامہ حلی اعلی اللہ مقامہ نے اس حدیث کو دلیل خلافت قرار
دیا تو فصل بن روز بہان متعصب سیخ پاہو کر
اس کے جواب میں لکھتاہے س8ھ میں حضور نے
حضرت ابوبکر کو امیر الحاج بناکر مکہ روانہ فرمایا اور یہ ہدایت کی کہ موسم حج میں
سورہ براۃ کی پہلی آیتیں مشرکین کو سنائیں
اور چونکہ حضرت رسالتماب کا قبائل عرب کے
ساتھ عہدوپیمان تھا اسلئے انکو حکم دیا کہ ان کےعہدو پیمان کی چار ماہ حد مقرر
کردیں جیسے خود ارشاد خداوندی ہے سورہ کی دوسری آیت میں
فرماتاہے کہ تم زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور ابوبکر کو یہ بھی حکم دیاکہ کوئی
برہینہ بیت اللہ کا طواف نہ کرے گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے گا جب
حضرت ابوبکر روانہ ہوچکے تو حضرت رسالتمآب کی سورہ براۃ کی تبلیغ کے بارےمیں رائے
تبدیل ہوگئی کیونکہ اس میں عہد ختم کرنے کا اعلان تھا یاان کی 4ماہ تک حدبندی کا حکم تھا اور عرب کسی عہد کو ختم
کرنےکےلئے سوائے صاحب عہد یا اس کی قوم کے اۤدمی کے دوسرے کسی کی بات کو
باور نہیں کرتے تھے ابوبکر چونکہ بنی تیم میں تھا
پس حضرت علی کو بھیجا اب ابوبکر امیر حج بھی رہا اور دوسرے اعلانات بھی اس
کے ذمے تھے جب پیچھے سے حضرت علیؑ پہنچتے تو ابوبکر نے پوچھا کیا آپ امیر حج بن
کرائے ہیں تو حضرت علیؑ نے جواب دیانہیں بلکہ میں تو عہد وپیمان ختم کرنے کی ڈیوٹی
پر مامور ہیں پس دونوں اکٹھے روانہ حج سے فارغ ہو کر واپس اۤئے تو ابوبکر نے پوچھا
حضورؐ کیا میرے بارے میں کوئی آیت اُتری
تھی اپنے فرمایانہیں بلکہ یہ چیز یامیں نے پہنچانی تھی یاوہ پہنچاتا جومیری اہلبیت
سے ہو اس کے بعد کہتاہے یہ ہے حقیقت خبر
نہ اس میں نص خلافت ہے او رنہ اس میں حضرت
ابوبکر کی کوئی تفتیص ہے اور یہ جو کہتے
ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا مجھے جبریل نے بتایا ہے یہ غلط بات ہے اصل حدیث میں اس کا
کوئی تذکرہ نہیں دیکھئے اس ناصبی نے حضرت
علیؑ کی دشمنی میں اندھے ہوکر کس قدر حق
پر پردہ ڈالنے کی ناپاک سعی لا حاصل کی ہے
تمام کتب احادیث سے نقل شدہ رواۤیات کو قطع وبریدک کرکے ایک نئے سانچے میں ڈھال کر
نہی روایت تیار کرلی اور نہایت نڈر ہو کر
اۤ خر میں یہ بھی کہہ دیا کہ یہ ہے
حقیقت خبر حالانکہ اگر اس حقیقت خبر میں نظر تحقیق ڈالی
جائے تو کئی وجوہ سے یہ خبر بے حقیقت ثابت ہوئی ہے
دیا تو فصل بن روز بہان متعصب سیخ پاہو کر
اس کے جواب میں لکھتاہے س8ھ میں حضور نے
حضرت ابوبکر کو امیر الحاج بناکر مکہ روانہ فرمایا اور یہ ہدایت کی کہ موسم حج میں
سورہ براۃ کی پہلی آیتیں مشرکین کو سنائیں
اور چونکہ حضرت رسالتماب کا قبائل عرب کے
ساتھ عہدوپیمان تھا اسلئے انکو حکم دیا کہ ان کےعہدو پیمان کی چار ماہ حد مقرر
کردیں جیسے خود ارشاد خداوندی ہے سورہ کی دوسری آیت میں
فرماتاہے کہ تم زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور ابوبکر کو یہ بھی حکم دیاکہ کوئی
برہینہ بیت اللہ کا طواف نہ کرے گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے گا جب
حضرت ابوبکر روانہ ہوچکے تو حضرت رسالتمآب کی سورہ براۃ کی تبلیغ کے بارےمیں رائے
تبدیل ہوگئی کیونکہ اس میں عہد ختم کرنے کا اعلان تھا یاان کی 4ماہ تک حدبندی کا حکم تھا اور عرب کسی عہد کو ختم
کرنےکےلئے سوائے صاحب عہد یا اس کی قوم کے اۤدمی کے دوسرے کسی کی بات کو
باور نہیں کرتے تھے ابوبکر چونکہ بنی تیم میں تھا
پس حضرت علی کو بھیجا اب ابوبکر امیر حج بھی رہا اور دوسرے اعلانات بھی اس
کے ذمے تھے جب پیچھے سے حضرت علیؑ پہنچتے تو ابوبکر نے پوچھا کیا آپ امیر حج بن
کرائے ہیں تو حضرت علیؑ نے جواب دیانہیں بلکہ میں تو عہد وپیمان ختم کرنے کی ڈیوٹی
پر مامور ہیں پس دونوں اکٹھے روانہ حج سے فارغ ہو کر واپس اۤئے تو ابوبکر نے پوچھا
حضورؐ کیا میرے بارے میں کوئی آیت اُتری
تھی اپنے فرمایانہیں بلکہ یہ چیز یامیں نے پہنچانی تھی یاوہ پہنچاتا جومیری اہلبیت
سے ہو اس کے بعد کہتاہے یہ ہے حقیقت خبر
نہ اس میں نص خلافت ہے او رنہ اس میں حضرت
ابوبکر کی کوئی تفتیص ہے اور یہ جو کہتے
ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا مجھے جبریل نے بتایا ہے یہ غلط بات ہے اصل حدیث میں اس کا
کوئی تذکرہ نہیں دیکھئے اس ناصبی نے حضرت
علیؑ کی دشمنی میں اندھے ہوکر کس قدر حق
پر پردہ ڈالنے کی ناپاک سعی لا حاصل کی ہے
تمام کتب احادیث سے نقل شدہ رواۤیات کو قطع وبریدک کرکے ایک نئے سانچے میں ڈھال کر
نہی روایت تیار کرلی اور نہایت نڈر ہو کر
اۤ خر میں یہ بھی کہہ دیا کہ یہ ہے
حقیقت خبر حالانکہ اگر اس حقیقت خبر میں نظر تحقیق ڈالی
جائے تو کئی وجوہ سے یہ خبر بے حقیقت ثابت ہوئی ہے
1 کتب صحاح اور
مسانید معتبرہ ہیں اس طریق بیان سے قطعا
یہ روایت کہیں نہیں ملتی چنانچہ ہم نے
متعدد کتابوں سے یہ روایت نقل کی ہے اور الغدیر میں دیگر متعددکتب سے اس روایت کے الفاظ منقول ہیں لیکن یہ بیان
کسی کتاب میں نہیں ہے
مسانید معتبرہ ہیں اس طریق بیان سے قطعا
یہ روایت کہیں نہیں ملتی چنانچہ ہم نے
متعدد کتابوں سے یہ روایت نقل کی ہے اور الغدیر میں دیگر متعددکتب سے اس روایت کے الفاظ منقول ہیں لیکن یہ بیان
کسی کتاب میں نہیں ہے
2حضرت رسالت مآ ب
کی عمر اس وقت تقریبا ساٹھ برس تھی تو کیا اس لمبی عمر میں حضورؐ کو عربوں
کےعادات واطوار اور طرز وتمدن سے واقفیت
حاصل نہ ہوسکی تھی کہ عرب لوگ کسی عہد کی ترمیم یاتنسیخ کےلئے صاحب عہد یااس کے
کسی قریبی کے علاوہ کسی دوسرے کی بات پر باور نہیں کیا کرتے اور پاس بیٹھنے والے بھی سارے عرب تھے کیا
عربوں کے اس دستور کا مہاجرین وانصار کوبھی پتہ نہیں تھا اور حضرت ابوبکر جس کے پہلے یہ عہدہ دیا جارہاتھا وہ بھی عربوں کی خصوصا مکہ والوں کی اس عادت
کونہیں جانتے تھے اگر جواب نفی میں ہے تو سراسر
غلط اور بے بنیاد ہے کیونکہ حضورؐ
عربوں کےعمومی دستور کو خوب جانتے تھے لیکن جاننے کی صورت میں پہلی دفعہ معازاللہ غلط قدم کیوں
رکھا کیا خدانے اس غلطی پر امادہ
کیا یاخود لاپرواہی سےکام لیا اور یہ دونوں صورتیں قابل قبول نہیں علاوہ ازیں مہاجرین وانصار نے جو خود خالص عرب
تھے کیوں نہ روکا اور خود حضرت ابوبکر نے یہ عہدہ دیدہ دانستہ کیوں قبول کرلیا
کی عمر اس وقت تقریبا ساٹھ برس تھی تو کیا اس لمبی عمر میں حضورؐ کو عربوں
کےعادات واطوار اور طرز وتمدن سے واقفیت
حاصل نہ ہوسکی تھی کہ عرب لوگ کسی عہد کی ترمیم یاتنسیخ کےلئے صاحب عہد یااس کے
کسی قریبی کے علاوہ کسی دوسرے کی بات پر باور نہیں کیا کرتے اور پاس بیٹھنے والے بھی سارے عرب تھے کیا
عربوں کے اس دستور کا مہاجرین وانصار کوبھی پتہ نہیں تھا اور حضرت ابوبکر جس کے پہلے یہ عہدہ دیا جارہاتھا وہ بھی عربوں کی خصوصا مکہ والوں کی اس عادت
کونہیں جانتے تھے اگر جواب نفی میں ہے تو سراسر
غلط اور بے بنیاد ہے کیونکہ حضورؐ
عربوں کےعمومی دستور کو خوب جانتے تھے لیکن جاننے کی صورت میں پہلی دفعہ معازاللہ غلط قدم کیوں
رکھا کیا خدانے اس غلطی پر امادہ
کیا یاخود لاپرواہی سےکام لیا اور یہ دونوں صورتیں قابل قبول نہیں علاوہ ازیں مہاجرین وانصار نے جو خود خالص عرب
تھے کیوں نہ روکا اور خود حضرت ابوبکر نے یہ عہدہ دیدہ دانستہ کیوں قبول کرلیا
حضرت علی ؑ کی تقرری اگر دستور عرب کے مطابق تھی تو حضرت ابوبکر کو
اپنی معزولی پر غم کیوں ہوا اور وہ رونے کیوں لگ گئے اوران کو واپس اکر یہ دریافت
کرنےکی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ کیا میرے بارےمیں کوئی چیز نازل ہوئی ہے بلکہ حق
تو یہ ہےکہ وہ دستور عرب کے خلاف ایک عہدہ
پر مامور تھے جو ان کےلئے معرض خطر تھا پس ان کی معزولی ان کےلئے باعث خوشی تھی نہ
کہ مقام گریہ عربوں کا جوقاعدہ بیان کیا ہے قطعا بےبنیاد ہے صاحب
عہد کی طرف سے جو بھی بحثیت سفیر یا قاصد جائے اسی کا ہی قول معتبر ہو
اکرتا ہے خصوصا جب کہ حضر کی طرف سے تحریر بھی اس کے پاس موجود ہو انکےکہنےکےمطابق
اگر و ہ بدستور امیر الحاج رہے تو صرف نسخ
عہد کی ڈیوٹی سے سبکدوش کئے جانے پر تشویش ان کو کیوں لا حق ہوئی اگر عام عرب دستور کی
مطابقت مقصود تھی تو اس کو صاھبان مسائید وصحاح نے حضرت کے فضائل ومناقب میں بلکہ خصوایات میں
کیوں درج کرلی احتی کہ سعد بن ابی وقاص
کوکہنا پڑا کہ حضرت نوح کی عمر کے برابر کی روئے زمین پرحکومت سےبھی افضل اور محبوب تر ہے
اپنی معزولی پر غم کیوں ہوا اور وہ رونے کیوں لگ گئے اوران کو واپس اکر یہ دریافت
کرنےکی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ کیا میرے بارےمیں کوئی چیز نازل ہوئی ہے بلکہ حق
تو یہ ہےکہ وہ دستور عرب کے خلاف ایک عہدہ
پر مامور تھے جو ان کےلئے معرض خطر تھا پس ان کی معزولی ان کےلئے باعث خوشی تھی نہ
کہ مقام گریہ عربوں کا جوقاعدہ بیان کیا ہے قطعا بےبنیاد ہے صاحب
عہد کی طرف سے جو بھی بحثیت سفیر یا قاصد جائے اسی کا ہی قول معتبر ہو
اکرتا ہے خصوصا جب کہ حضر کی طرف سے تحریر بھی اس کے پاس موجود ہو انکےکہنےکےمطابق
اگر و ہ بدستور امیر الحاج رہے تو صرف نسخ
عہد کی ڈیوٹی سے سبکدوش کئے جانے پر تشویش ان کو کیوں لا حق ہوئی اگر عام عرب دستور کی
مطابقت مقصود تھی تو اس کو صاھبان مسائید وصحاح نے حضرت کے فضائل ومناقب میں بلکہ خصوایات میں
کیوں درج کرلی احتی کہ سعد بن ابی وقاص
کوکہنا پڑا کہ حضرت نوح کی عمر کے برابر کی روئے زمین پرحکومت سےبھی افضل اور محبوب تر ہے
روایات منقولہ میں صاف ہے کہ حضرت ابوبکر کو وہاں سے ہی
واپس پلٹایا گیا جہاں حضرت علی نے اپنےعہدہ کا چارج لیا اور بعض روایات میں صراحت سے مذکور ہے کہ جناب
رسالت مآب نے ہدایت کی تھی کہ ابوبکر سے لے کر خود جاؤ
اور ان کو واپس بھیج دو چنانچہ وہ روتے
ہوئے غمگین واپس ائے
واپس پلٹایا گیا جہاں حضرت علی نے اپنےعہدہ کا چارج لیا اور بعض روایات میں صراحت سے مذکور ہے کہ جناب
رسالت مآب نے ہدایت کی تھی کہ ابوبکر سے لے کر خود جاؤ
اور ان کو واپس بھیج دو چنانچہ وہ روتے
ہوئے غمگین واپس ائے
روایات میں ہے کہ
تنسیخ عہد کے علاوہ باقی اعلانات بھی حضرت
علیؑ علیہ السلام نےخود ہی کئے تھے
تنسیخ عہد کے علاوہ باقی اعلانات بھی حضرت
علیؑ علیہ السلام نےخود ہی کئے تھے
اس سال کے بعد کوئی
مشرک حج نہ کرے گا
مشرک حج نہ کرے گا
بیت اللہ کا طواف کوئی برہنہ نہ کرے گا
جن لوگوں کےعہد کی جناب رسالت مآب کےساتھ مدت مقرر ہے وہ
اپنی مقررہ مدت تک رہیں گے اور جن کی مدت مقرر نہیں ہےتو اب اس کی مدت چارماہ تک
ہے
اپنی مقررہ مدت تک رہیں گے اور جن کی مدت مقرر نہیں ہےتو اب اس کی مدت چارماہ تک
ہے
جنت میں صرف مومن ہی جائیں گے کنزالعمال ج اص 248 ترمزی شریف سورہ توبہ
بہر کیف ہزار کوشش کرکے حضرت علی ؑکی فضیلت
پرپردہ ڈالا جائے لیکن بالاخر حقیقت بے
نقاب ہو کر رہتی ہے خداورسولؐ کو علم تھا
کہ اس عہدہ جلیلہ کے لئے سوائے علیؑ کے
کوئی دوسرا موزوں نہیں ہے پس پہلے حضرت
ابوبکر کو متعین کیاگیا اور جب یہ چرچا
عام ہوگیاور لوگوں میں خبر پھیل گئی تو اس کو معزول کرکے واپس بلالیا گیا اور حضرت علیؑ کو اس کی جگہ مقرر کیاگیا تاکہ
ہر خاص وعام کے ذہن نشین ہوجائے کہ نیابت رسولؐ کے عہد کے لئے حضرت ابوبکر موزوں نہیں تھے اور حضرت علی ؑ ہی موزوں تھے
اور جب جزوی تبلیغ میں حضرت علیؑ کے سوا
کوئی دوسرا رسولؐ کی قائم مقامی کا اہل نہیں ہو سکا تو کلی وعمومی تبلیغ کےلئے
خدورسولؐ اس کو کیسے نامزد کر سکتے ہیں
اور ظاہر
ہے کہ اگر پہلی مرتبہ ہی حضرت علیؑ کو بھیجاجاتا تو یہ تنبیہ حاصل نہیں
ہوسکتی تھی
پرپردہ ڈالا جائے لیکن بالاخر حقیقت بے
نقاب ہو کر رہتی ہے خداورسولؐ کو علم تھا
کہ اس عہدہ جلیلہ کے لئے سوائے علیؑ کے
کوئی دوسرا موزوں نہیں ہے پس پہلے حضرت
ابوبکر کو متعین کیاگیا اور جب یہ چرچا
عام ہوگیاور لوگوں میں خبر پھیل گئی تو اس کو معزول کرکے واپس بلالیا گیا اور حضرت علیؑ کو اس کی جگہ مقرر کیاگیا تاکہ
ہر خاص وعام کے ذہن نشین ہوجائے کہ نیابت رسولؐ کے عہد کے لئے حضرت ابوبکر موزوں نہیں تھے اور حضرت علی ؑ ہی موزوں تھے
اور جب جزوی تبلیغ میں حضرت علیؑ کے سوا
کوئی دوسرا رسولؐ کی قائم مقامی کا اہل نہیں ہو سکا تو کلی وعمومی تبلیغ کےلئے
خدورسولؐ اس کو کیسے نامزد کر سکتے ہیں
اور ظاہر
ہے کہ اگر پہلی مرتبہ ہی حضرت علیؑ کو بھیجاجاتا تو یہ تنبیہ حاصل نہیں
ہوسکتی تھی
Leave a Reply