anwarulnajaf.com

احمد بن حسن ؑ

’’رجال
مامقانی‘‘ سے منقول ہے کہ احمد بن حسن ؑ کی والدہ امّ بشر بنت ابی مسعود انصاری
تھی یہ اپنے بھائی قاسم اوردوبہنوں امّ الخیر وامّ الحسن کو ساتھ لے کر اپنے عم ّ
بزرگوار کے ساتھ کربلا میں آیا تھا۔۔ اس کی عمر واقعہ کربلا میں سولہ سال تھی۔
’’ناسخ‘‘
سے منقول ہے کہ یہ جو ان ہاشمی شجاعت وسماحت کے علاوہ حسن صورت میں یگانہ روزگار
تھا اپنے عم ّ بزرگوار سے اذن حاصل کرکے رجز پڑھتا ہوا شیر غضبناک کی طرح
للکارتاہوا۔۔ تلوارشرربار کو اچھالتا ہو ا۔۔ نیزہ لچکدار کو ہوا میں لہراتاہوا
میدانِ کا رزار میں آگے بڑھا اوراپنے جد ّ نا مدار حیدرکرار کی طرح شعلہ جوالہ بن
کر لشکر اعدا ٔ کے میمنہ ومیسرہ پرچھا گیا اورایک ہی حملہ میں اَسّی ملاعین کو فی
النار کرکے دم لیا، پس خدمت امام ؑ میں حاضر ہوکر عرض کیا جب کہ پیاس کی شدت سے
آنکھیں دھنس چکی تھیں اے چچا جان! اگر ایک گھونٹ پانی مل جاتاتو میں ایک بار جگر
کو ٹھنڈا کر لیتا اوردشمنان خداورسول پر مجھے طاقت مل جاتی؟ امام ؑ نے فرمایا اے
برادرزادے صبر کروابھی تمہیں اپنے جدّ بزرگوار سیراب کریں گے کہ کبھی پیاسے نہ
ہوگے، احمد نے یہ سن کر دربارہ میدان کا رخ کیا اورپھر رجز پڑھتے ہوئے شیر غضبناک
کی طرح فوج اشقیا ٔ پر حملہ آور ہوئے اوراس حملہ میں پچاس کا فروں کو واصل جہنم
کیا اورتھوڑا سا دم لے کر تیسری مرتبہ پھر حملہ آور ہوا۔۔ شیر خداکے پوتے نے اپنے
تینوں حملوں میں حیدر کرار کی جنگوں کی یاد تازہ کی، دشمنان خداکو اس پیاسے جوان
کے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہ رہی اس تیسرے حملہ میں اس امام زادے نے ساٹھ
ملاعین کو تہِ تیغ کیا گویا اپنی پوری جنگ میں ایک سونوے (
۱۹۰) دشمنان خداکو قتل کیا اورآخرکار جام شہادت پی کرلب کوثر
پہنچے۔

Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *