anwarulnajaf.com

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

تمدن انسان  کی
بقاوارتقاء
  کا دارومدار اس پر ہے کہ ہر
قوم وملت میں ایسے افراد مومود ہوں جو افراد کے کردار
  کا نوٹس لیں اور افراط وتفریط کی روک تھام کے
لئے مناسب اقدام کرکے توازن
  کو برقرار
رکھنے
  کی سعادت راصل کریں  پس معاشرہ کی رائیوں  کو دور کرنے اور معاشرہ میں نیکیوں  کی ترویج کرنے میں ان کامثبت اقدام قوم وملت کی
فلاح
  کا ضامن ہوتا ہے حضور  نے فرمایا 
الدال علی الفعل کفاعلہ  یعنی کسی
کام کی طرف رہبری کرنے والا ایسا ہے جس طرح کہ اس نے خود وہکام کیا ہو حضور سے ایک
شخص نے سوال کیا کہ اسلام میں بہترین
  عمل
کونسا ہے تو آپ
  نے فرمایا اللہ پر ایمان
رکھنا
  اس نے عرض کی کہ اس کے بعد کونسی
چیز ہے تو آپ
  نے فرمایاکہ صلہ رحمی اس نے
عرض کی پھر کیا آپ نے فرمایا امر بالمعروف اور نہی
  عن المنکر اس نے عرض کہ بدترین عمل کیا ہے آپ
نے فرمایا شرک اس نے کہا پھر آپ نے فرمای اقطع رحمی اس نے کہا پھر آپ نے فرمایا
برائیوں کا حکم دینا اورنیکیوں سے روکنا

حضرت رسالتمآب  سے
منقول  ہے کہ جس شخص میں تین صنعتوں میں سے
ایک صفت بھی ہو وہ اس دن اللہ کے عرش کے سایہ میں ہوگا جس دن کوئی دوسرا سایہ
موجود نہ ہوگا اور ان تین صفتوں میں سے ایک صفت یہ ہے کہ جب کسی دوسرے مومن مسلمان
کا عیب دیکھ  کر بیان کرنے لگے تو پہلے
اپنے عیب کو دور کرلے کیونکہ جب وہ اپنے عیب کو دور کرے گا تو اسے اپنے اندر ایک
اور عیب نظر آجائے گا پس وہ اس کو بھی دور کرے گا پھر تیسرا عیب نظر آئے  گا اور اس کو بھی دور کرنے کی کوشش کرے گا حتیٰ  کہ وہ شخص اپنے عیوب کے دور کرنے میں مشغول
ہوکر دوسروں  کے عیب بھول جائے گا

حضرت امام محمد باقر علیہ السلما  نے فرمایا جو شخص کسی جابر حکمران  کےسامنے جائے اور اس کو خوف خدا اور تقوی کی
نصیحت کرے تو اس کو جن وانس اکے اجر کے برابر 
اجر ملے گا

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  سے سوال کیا گیا کہ کیا امر بالمعروف اور نہی
عن المنکر پوری امت پر واجب ہے تو آپ نے فرمایاکہ نہیں جب وجہ پوچھی گئی تو
آپ  نے فرمایاکہ یہ ان لوگوں پر واجب ہے جو
طاقتور ہوں اور ان کی بات مانی جاتی ہو اور معروف ومنکر کی پہچان بھی رکھتے ہوں
بخلاف  اس کے جو شخس کمزور ہے یاجس کو خود
معروف ومنکر کی سمجھ نہیں اس سے یہ فریضہ ساقط ہے چنانچہ ارشاد خداوندی ہے ولتکن
منکم امتہ یدعون  الایہ  یعنی تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو
نیکیوں کا حکم  دے  اور برائیوں سے  روکے گویا 
یہ فریضہ عام نہیں بلکہ ایک خاص گروہ کے لئے ہے اسی طرح دوسرے مقام پر
فرمایا ومن قوم موسی  امتہ یھدون الایہ
یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم  میں
سے ایک گروہ تھا جو نیکیوں کی ہدایت کرتا تھا یعنی پوری موسیٰ کی اُمت پر یہ فریضہ
عائد نہ تھا بلکہ ایک مخصوص  گروہ کا فریضہ
تھا الحدیث  آپ  سے پیغمبر کی اس حدیث کے متعلق سوال کیا گیا
افضل الجھاد کلمتہ عدل عند امام جائر یعنی حاکم ظالم کے سامنے کلمہ عدل کہنا بہت
جہاد ہے  کہ اس کا پھر کیا مطلب ہے تو
آپ  نے فرمایا اسکا مطلب یہ ہے کہ پہلے جان
لے کہ آیا  وہ نصیحت کوقبول  کرے گا 
؟ یانہ  اگر یہ یقین پیدا ہوجائے کہ  اس پر نصیحت اثر انداز  نہیں ہوسکتی تو ایسی صورت میں یہ فریضہ ساقط ہے
آپ نے فرمایا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مومن کے لئے ہے جو نصیحت حاصل کرے
یاجائل کے لئے ہے جو درس سیکھے  لیکن وہ
شخص جس کے پاس تازیانہ یا تلوار ہو نصیحت کرنے والے کو جان کا خطرہ ہو تو وہاں پر
فریضہ ساقط ہے  بلکہ آپ نے فرمایا   ناسازگار حالات میں اگر سلطان جائز کو اس نے
امر بالمعروف کے طریقہ پروعظ  کیا اور اس
پرکوئی مصیبت  بن گئی تو اس کو کوئی اجر نہ
ملے گا  کیونکہ اس نے خود اپنے آپ کو ہلاکت
میں ڈالا ہے

 مروی ہے کہ حضرت
امام جعفر صادق علیہ السلام کہیں جارہے تھے اور کسی شخص کو امر بالمعروف کیا لیکن
اس نے پرواہ نہ کی پس آپ نے سرجھکالیااور وہاں سے چل دئیے اور  فرمایاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمایاکرتے
تھے کہ اگر کوئی شخص کسی زخمی آدمی کے زخم کا علاج  کرسکتا ہو اور علاج نہ کرے تو گویا اس کو زخمی
کرنے کا مجرم ہے پھر آپ فرماتے تھے کہ دانائی کی باتیں ایسے لوگوں سے نہکہوں جو اس
کے اہل نہ  ہوں ورنہ تم خود جاہل کہلاؤ گے
اور علم کی باتوں کا اہل سے بخل نہ کیاکرو ورنہ گنہگار  ہوگے 
اور تمہیں طبیب ہونا چائیے  کہ اگر
دوا موثر ہو تو علاج کرو ورنہ چھوڑ دو اور آپ نے فرمایاامر بالمعروف اور نہی
المنکر واجب ہیں لیکن اس شخص پر جو کرسکتا ہو اور اپنی اور ساتھیوں کی جان  کا خطرہ نہ ہو ورنہ یہ فریضہ ساقط ہے

حضرت رسالتمآب  سے
ایک حدیث میں منقول  ہے کہ خداوندکریم  نے ایک قوم کو عذاب  کرنے کا ارادہ فرمایا اور جبرئیل  کو حکم دیا تو جبریل نے عرض  کی اے پروردگار ان میں سے فلاں آدمی  تو بالکل بے گناہ  ہے پس ارشاد قدرت ہواکہ اس کو بھی شامل عذاب
کردے کیونکہ وہ ان بدکار لوگوں کو منع نہیں کرتا تھا حالانکہ میں نے اس کو منع
کرنے کی طاقت     ورنہ عذب خدا تم کو بھی
شامل  ہوجائے گا آپ نے فرمایا جب تمکسی کو
گناہ کرتے دیکھو تو             طاقت ہو تو
زبر دستی  اس کو روک دو ورنہ صرف زبان سے
نصیحت کرو  اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر
دل سے اس کو بڑاجانو  حضرت امیر المومنین
علیہ السلام  سے منقول ہے کہ جو شخص اپنے
ہاتھ یازبان سے یادل سے برائی کا انکار نہ کرے وہ زندہ ہونے کے باوجود  مردہ ہے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام  سے 
منقول ہے ظلم کرنے والا ظلم پر راضی ہونے والا اور ظالم کی مدد کرنے والا
تینوں برابر ہیں

 حضرت
امیرالمومنین  علیہ السلام  نے جنگ جمل کے بعد ایک خطبے میں ارشاد فرمایاکہ
  اگر وہ لوگ صرف ایک مسلمان کو بھی ارادہ
قتل کرتے تو میرے لئے اس پورے لشکر کا قتل کرنا جائز تھا جبکہ انہوں نے نہ ان کو
روکا اور نہ انکار کیا اس سے معلوم ہوا کہ قاتل کوقتل سے روک سکنے کے باوجود نہ
روکنا ہے جیساکہ وہ خود اس کے قتل میں شریک ہو 
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام 
نے ایک کوفی سے فرمایا  کہ تم امام
حسین علیہ السلام  کے قاتلوں کو دیکھتے
رہتے ہو  ؟ تو اس نے عرض کی حضور  ان میں سے اب تو کوئی موجود نہیں  ہے آپ نے فرمایا تو صرف انہی لوگوں کا قتل
سمجھتاہے  جو خود قتل کرے حالانکہ
خداوندکریم نے پیغمبر کے زمانہ کے یہودیوں کو سابق انبیاء  کے قتل کا ذمہ دار قرار  دیا ہے اور ان کی مذمت  کی ہے اور یہ اس لئے کہ یہ لوگ اپنے اکابر کے
فعل بد پر راضی تھے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  سے مروی ہے کہ جب قائم آل محمد  خروج فرمائیں گے تو قاتلان امام مظلوم کی ذریت
سے بدلہ لیں گے راوی نے عرض کی وہ کام تو ان کے باپ دادا نے کیاتھا  پھر ان کو کیوں سزادی جائے گی؟تو آپ  نے فرمایا یہ چونکہ ان کے فعل بد پر راضی تھے
اور ازراہ فخر  ان کےکار نامے بیان کرتے
تھے  اس لئے وہ بھی ان کے جر م میں شریک
ہیں اور جو شخص کسی کے فعل پر راضی ہو وہ اس فعل کے کرنے والے کی طرح مجرم ہے
حتاکہ اگر کوئی قتل مشرق میں ہوا اور مغرب میں رہنے والا انسان اس قتل پر راضی ہو
تو وہ اس قتل کا مجرم ہوگا  آپ سے سوال کیا
گیا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی امت کو کیوں غرق کیاگیا حالانکہ ان میں بچے بھی
تھے آپ نے فرمایا عذاب کے فیصلہ سے چالیس برس پہلے ان کی عورتوں  کو بانجھ کردیا گیا تھا لہذا ان کی نئی پود رک
گئی  پھر ان کوغرق کیاگیا مجرمین کو اس لئے
کہ وہ حضرت نوح کی تکذیب کرتے تھے اور باقیوں کو اس لئے کہ وہ تکذیب کرنے والوں کو
روک سکنے کے باوجود روکتے نہیں تھے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام   سے منقول ہے کہ رسول اللہ فرمایاکہ اہل معاصی
سے ترش روٹی کے ساتھ پیش آیا کرو یعنی ان کو محسوس ہو کہ تم ان کے فعل بد پر راضی
نہیں ہو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام 
نے فرمایاکہ اگر تم ہاتھ اور زبان سے برائی کو نہیں روک سکتے تو دل سے
بیزاری اختیار کرلو اور اس شخص سے بائیگاٹ کرلو تاکہ وہ برائی سے باز آجائے
خداوندکریم ہم سب کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سبکدوش ہونے کی سعادت نصیب
فرمائیں


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *