حضرت رسالتمابؐ نے فرمایا خوش خلقی نصف دین
ہے یعنی باقی
تمام صفات ملکر نصف دین ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی تمام اچھی
عادات انسان میں ہوں لیکن وہ بداخلاق ہوتو ایسے شخص کا
دین پھر بھی ادھورا ہے
آپ نے فرمایا بروز محشر میزان عدل کے پلڑے میں حسن خلق سے بڑھ کر دوسری کوئی نیکی نہ ہوگی
آپ نے فرمایا میری امت کے لوگ زیادہ سے زیادہ تقوی اور
حسن خلق کی بدولت ہی جنت میں جائیں گے
آپ نے فرمایا حسن خلق والے انسان کا درجہ عابدشب زندہ دار اور روزہ دار کے برابر ہوتا ہے
آپ نےفرمایا خوش خلقی
کو لازی طور پر اختیار کرو کیونکہ اس نے یقینا جنت میں جانا ہے اور
بدخلقی نے یقینا جہنم میں جانا ہے
آپ نے فرمایا بدخلقی اعمال
کو اس طرح ضائع کرتی ہے جس طرح سرکہ
شہد کو خراب کردیتا ہے
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کامل ترین ایمان
اس شخص کا ہے جس کا خلق بہت اچھا ہو
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمای اکہ جس میں چار خصلتین ہوں اس کا ایمان کامل ہے خواہ کیسا ہی خطاکار ہو سچائی امانتداری
حیاء اور خوش خلقی سےمحبوب
ترین عمل کوئی نہیں ہے
آپ نے فرمایا خیرات
اورخوش خلقی ہی شہروں کی آبادی اور عمر کی زیادتی کے موجب ہوتے ہیں
آپ نے فرمایا کہ خوشی خلقی
دوطرح کی ہے ایک یہ کہ کسی انسان
کی فطرت میں خوش خلقی داخل ہو اور اسے خوش
خلقی میں کسی قسم کا تکلف محسوس نہ ہو
اور دوسری یہ کہ طبیعت میں خوش خلقی داخل نہیں
لیکن خوشنودی خدا کی خاطر اپنے مزاج
کے خلاف خوش خلقی کرتا ہے تو یہ اس
سے افضل ہے اپ نے فرمایا یہ خوش خلقی اگر چہ اللہ کے اولیاء کی صفت ہے لیکن
بعض اوقات خدااوند کریم سپنے دشمنوں کو بھی عاریتہ یہ صفت عطا فرمایا ہے تاکہ اس کی بدولت اللہ کے اولیا ء ان کی حکومت میں زندہ رہ سکیں اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ اللہ کے دوستوں کو قتل کرادیتے
آ پ نے فرمایا خوش خلقی یہ ہے کہ کلام میں نرمی ہو عادات میں
ملائمت ہو اور اپنے بھائی سے ہشاش وبشاش
چہرہ سے ملاقات ہو
آنے فرمایابعض
اوقات انسان عبادت میں کوتا ہی کرتا ہے
توحسن خلق اس کمی کو پورا کردیتاہے کیونکہ
خداوندکریم خوش اخلاق انسان کو شب
زندہ دار عابد وصائم کا درجہ
عطافرمادیتاہے
امام موسیٰ کاظم
علیہ السلام نے فرمای اکہ جس کو
خدا حسن خلق اور حسن صورت عطاکرتاہے تو نہیں چاہتا کہ اس کے گوشت کو آتش جہنم کی خوراک بنادے
آپ نے فرمایا مجھے
اس شخص پر تعجب ہے جروپے خرچ کرکے
غلام خریدتااور پھر ازاد کرتاہے وہ حسن خلق کے ذریعے سے آزادوں کو کیوں نہیں خرید
لیتا ہے
حضرت رسالتمآبؐ نے ارشاد فرمایا کہ مومن
ہمیشہ نرم مزاج اور خوش خلق ہوتا ہے اورکافرسخت مزاج اور
بدخلق ہوتا ہے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا
کہ ایمان کی علامت فقہ ہے فقہ کی علامت حلم ہے
حلم کی علامت نرم مزاجی ہے نرم مزاجی کی
نشانی رواداری ہے اور رواداری کی علامت
خوش خلقی ہے
Leave a Reply