موضوع سورہ
قرآن مجید کی تمام
سورتوں میں سے اس سورہ کا نام بھی نرالا ہے
اور اس کا موضوع بھی نرالا ہے اور وہ ہے برائت یعنی بیزاری اور دوسرے لفظوں
میں اس کو تبریٰ کہتے ہیں جو غلط عام تبرا
استعمال ہوتا ہے قرآن مجید کے اس سورہ کے
نام اور موضوع نےیہ ثابت کردیا کہ برائت
یاتبرا کوئی گالی گلوچ نہیں ورنہ قرآن
مجید جو بالعموم سبّ اور گالی سے منع
فرماتا ہے اس میں تبریٰ یابرائت کا ذکر تک نہ ہوتا چہ جائیکہ ایک سورہ کا عنوانِ
بیان ہی تبریٰ ہو حتی کہ اس کا نام بھی برائت رکھ دیا جائے اور خدا وند حکیم نے اس
سورہ کے اندر جو تفصیلات بیان فرمائیں ان سے تو صاف ہوگیا کہ برائت کا معنی گالی
نہیں ہے بلکہ جو قوم عقائد حقہ اور اعمال صحیحہ سے دور ہو ان سے اہل ایمان کو برائت یعنی بیزاری
کرنی چاہئے اور لطف یہ کہ قرآن مجید کی
تمام سورتوں میں سے کسی سورہ کا نام مودّت یامحبت یاوِلا یا تولّا نہیں ہے اس کی
وجہ یہ ہے کہ چونکہ برائت اور ولایت
یاتبریٰ وتولّیٰ جسے غلط عام استعمال میں
تبراوتولا کہتے ہیں یہ ایک دوسرے کے متضاد ہیں ایک کے ذکر سے دوسرا خو دبخود سمجھا جاتا ہے جس سے برائت ہوگی اس کی ضد
یانقیض سے محبت ہوگی اور جس سے محبت ہو گی
اس کے مخالف پہلو سے برائت اور نفرت ہوگی اس سورہ مبارکہ میں
مشرکوں اور کافروں سے برائت کا اعلان کیا
گیاہے جس کا مفہوم صحیح یہ ہے کہ خدااور
رسولؐ اور ان کے ماننے والوں یعنی مومنوں
سے محبت واجب ہے اسی بناپر جب ایک
سورہ کانام برائت ہو گیاتو ولایت نامی دوسرا سورہ تلاش
کرنے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ یہی سورہ برائت مفہوم مخالف کے اعتبار سے سورہ ولایت
بھی ہوسکتی ہے اب سمجھنے کے قابل یہ
بات ہے کہ برائت منفی پہلو ہے اور ولایت
مثبت پہلو ہے اس سورہ میں منفی پہلو کو
عنوانِ بیان قرار دیا گیا ہے اور اسی منفی پہلو کی مناسبت سے سورہ کا نام بھی رکھا گیاحالانکہ مثبت پہلو کو پیش پیش ہونا
چاہئے تھا؟!
سورتوں میں سے اس سورہ کا نام بھی نرالا ہے
اور اس کا موضوع بھی نرالا ہے اور وہ ہے برائت یعنی بیزاری اور دوسرے لفظوں
میں اس کو تبریٰ کہتے ہیں جو غلط عام تبرا
استعمال ہوتا ہے قرآن مجید کے اس سورہ کے
نام اور موضوع نےیہ ثابت کردیا کہ برائت
یاتبرا کوئی گالی گلوچ نہیں ورنہ قرآن
مجید جو بالعموم سبّ اور گالی سے منع
فرماتا ہے اس میں تبریٰ یابرائت کا ذکر تک نہ ہوتا چہ جائیکہ ایک سورہ کا عنوانِ
بیان ہی تبریٰ ہو حتی کہ اس کا نام بھی برائت رکھ دیا جائے اور خدا وند حکیم نے اس
سورہ کے اندر جو تفصیلات بیان فرمائیں ان سے تو صاف ہوگیا کہ برائت کا معنی گالی
نہیں ہے بلکہ جو قوم عقائد حقہ اور اعمال صحیحہ سے دور ہو ان سے اہل ایمان کو برائت یعنی بیزاری
کرنی چاہئے اور لطف یہ کہ قرآن مجید کی
تمام سورتوں میں سے کسی سورہ کا نام مودّت یامحبت یاوِلا یا تولّا نہیں ہے اس کی
وجہ یہ ہے کہ چونکہ برائت اور ولایت
یاتبریٰ وتولّیٰ جسے غلط عام استعمال میں
تبراوتولا کہتے ہیں یہ ایک دوسرے کے متضاد ہیں ایک کے ذکر سے دوسرا خو دبخود سمجھا جاتا ہے جس سے برائت ہوگی اس کی ضد
یانقیض سے محبت ہوگی اور جس سے محبت ہو گی
اس کے مخالف پہلو سے برائت اور نفرت ہوگی اس سورہ مبارکہ میں
مشرکوں اور کافروں سے برائت کا اعلان کیا
گیاہے جس کا مفہوم صحیح یہ ہے کہ خدااور
رسولؐ اور ان کے ماننے والوں یعنی مومنوں
سے محبت واجب ہے اسی بناپر جب ایک
سورہ کانام برائت ہو گیاتو ولایت نامی دوسرا سورہ تلاش
کرنے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ یہی سورہ برائت مفہوم مخالف کے اعتبار سے سورہ ولایت
بھی ہوسکتی ہے اب سمجھنے کے قابل یہ
بات ہے کہ برائت منفی پہلو ہے اور ولایت
مثبت پہلو ہے اس سورہ میں منفی پہلو کو
عنوانِ بیان قرار دیا گیا ہے اور اسی منفی پہلو کی مناسبت سے سورہ کا نام بھی رکھا گیاحالانکہ مثبت پہلو کو پیش پیش ہونا
چاہئے تھا؟!
اس کا جواب اور حل یہ ہے کہ یہاں دومقام ہیں ایک مقامِ
اعتقاد اور دوسرا مقامِ عمل پس جہاں تک
مقامِ عمل کا تعلق ہے وہاں صرف مثبت پہلو کو ہی معرضِ ظہور اور منصہ شہود پر لانے کی ضرورت ہوا کرتی
ہے جس سے منفی پہلو خود بخود مضمحل
اور نیست ونابود رہتاہے لیکن جہاں
تک اظہارِ عقیدہ کا تعلق ہے وہاں منفی پہلو کے اعلان کو زیادہ وقعت واہمیت دی جایا کرتی ہے اگر چہ دل ودماغ میں
وجود صرف مثبت کا ہی ہوتا ہے لیکن اقرارِ لسانی میں پیش پیش ذکر منفی ہوا کرتاہے
اور کلمہ توحید اس کا بیّن گواہ موجود ہے یہی وجہ ہے کہ برائت کے ذکر
کو ولایت کےذکرسے مقامِ اعلان میں اہمیت دی گئی ہے۔
اعتقاد اور دوسرا مقامِ عمل پس جہاں تک
مقامِ عمل کا تعلق ہے وہاں صرف مثبت پہلو کو ہی معرضِ ظہور اور منصہ شہود پر لانے کی ضرورت ہوا کرتی
ہے جس سے منفی پہلو خود بخود مضمحل
اور نیست ونابود رہتاہے لیکن جہاں
تک اظہارِ عقیدہ کا تعلق ہے وہاں منفی پہلو کے اعلان کو زیادہ وقعت واہمیت دی جایا کرتی ہے اگر چہ دل ودماغ میں
وجود صرف مثبت کا ہی ہوتا ہے لیکن اقرارِ لسانی میں پیش پیش ذکر منفی ہوا کرتاہے
اور کلمہ توحید اس کا بیّن گواہ موجود ہے یہی وجہ ہے کہ برائت کے ذکر
کو ولایت کےذکرسے مقامِ اعلان میں اہمیت دی گئی ہے۔
ہو سکتاہے کہ بعض
ایسے لوگ جومنافقانہ رویّہ کے
ماتحت یاظاہری رواداری اور ملنساری کے روابط کے پیشِ نظر اِدھر خدا اور رسولؐ
کی محبت کا دم بھرتے ہوں اور اُدھر کفار ومشرکین سے بھی میل جول رکھتے ہوں
تو کھرے کو کھرا اور کھوٹے کو کھوٹا ظاہرکرنےکے لئے اعلانِ برات کی ضرورت ہوئی
تاکہ اپنے اپنے ہوجائیں اور بیگانے بیگانے رہیں
جو لوگ اِدھر بھی محبت رکھتے ہیں
اور اُدھر بھی محبت رکھتے ہیں اب ایک طرف ہو جائیں گے یاخالص اِدھر آ جائیں
گے یاصاف اُدھر ہوجائیں گے نیز جو لوگ نہ اِدھر تھے نہ اُدھر تھے اب ان کو بھی اِدھر یااُدھر
ہوناپڑے گا اور یہ مطلب صرف اقرارِولایت سے نہیں ہوسکتا تھا بلکہ اعلانِ برائت سے
ہی ہوسکتا تھا تاکہ دونوں فریقین سے ایک جیسا تعلق رکھنے والے درمیان میں لٹکے نہ رہیں بلکہ اعلانیہ
طور پر ایک کنارے لگ جائیں۔
ایسے لوگ جومنافقانہ رویّہ کے
ماتحت یاظاہری رواداری اور ملنساری کے روابط کے پیشِ نظر اِدھر خدا اور رسولؐ
کی محبت کا دم بھرتے ہوں اور اُدھر کفار ومشرکین سے بھی میل جول رکھتے ہوں
تو کھرے کو کھرا اور کھوٹے کو کھوٹا ظاہرکرنےکے لئے اعلانِ برات کی ضرورت ہوئی
تاکہ اپنے اپنے ہوجائیں اور بیگانے بیگانے رہیں
جو لوگ اِدھر بھی محبت رکھتے ہیں
اور اُدھر بھی محبت رکھتے ہیں اب ایک طرف ہو جائیں گے یاخالص اِدھر آ جائیں
گے یاصاف اُدھر ہوجائیں گے نیز جو لوگ نہ اِدھر تھے نہ اُدھر تھے اب ان کو بھی اِدھر یااُدھر
ہوناپڑے گا اور یہ مطلب صرف اقرارِولایت سے نہیں ہوسکتا تھا بلکہ اعلانِ برائت سے
ہی ہوسکتا تھا تاکہ دونوں فریقین سے ایک جیسا تعلق رکھنے والے درمیان میں لٹکے نہ رہیں بلکہ اعلانیہ
طور پر ایک کنارے لگ جائیں۔
لطیفہ
میں نے ایک روایت
میں دیکھا ہے کہ معصومؑ ایک دفعہ بیت اللہ
میں داخل ہوئے ایک شخص وہاں بیٹھا کچھ پڑھ رہاتھا آپﷺ نے اس کو سلام کہا
اور اس نے جواب سلام دیا پھر دوبارہ تشریف لے گئے تو ایک شخص کچھ پڑھ رہا تھا آپ ﷺ
اس کے پاس سے گزرگئے اس کو سلام نہ دیا لوگوں نے دریافت کیا حضور اس
کی وجہ کیا ہے کہ پہلے شخص کوسلام دیا اور دوسرے کو سلام نہیں دیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ پہلا شخص محمد ؐوآلِ
محمد علیہم السلام پر درود پڑھ رہاتھا
اس لئے میں نے اس کو سلام دیالیکن
دوسرا محمد ؐ وآلِ محمد علیہم السلام کے
دشمنوں سے برائت کا وِرد کر رہا تھا اس لئے میں نے اس کو
سلام نہیں دیاتاکہ اس کے ذکرِ خیر میں رکاوٹ نہ
ہو۔ بہر کیف سورہ برائت میں خداور رسولؐ کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان ہے اگر چہ کفارِ قریش اور مشرکینِ مکہ
ہی وقتِ نزول اس کے مصداقِ تنزیل تھے لیکن چونکہ آیاتِ کلام اللہ تاقیامت باقی اور زندہ ہیں لہذا ان کے تاویلی مصداق باقی ہیں اور تاقیامت
باقی رہیں گے اور تاقیامت اہلِ
ایمان کو ان سے برائت کرنی واجب ہے پس جن لوگوں کا عقیدہ خدااور رسولﷺ کے بتلائے ہوئے مطالب کے خلاف
ہو یاجن کے اعمال وکردار اسلامی
ہدایات کے منافی یامخالف ہوں ان سے برائت کرنا اور نفرت کرنا ہر مومن کا فرض
ہے اور وہ لوگ انہی آیات کے تاویلی مصداق ہو سکتے
ہیں۔
میں دیکھا ہے کہ معصومؑ ایک دفعہ بیت اللہ
میں داخل ہوئے ایک شخص وہاں بیٹھا کچھ پڑھ رہاتھا آپﷺ نے اس کو سلام کہا
اور اس نے جواب سلام دیا پھر دوبارہ تشریف لے گئے تو ایک شخص کچھ پڑھ رہا تھا آپ ﷺ
اس کے پاس سے گزرگئے اس کو سلام نہ دیا لوگوں نے دریافت کیا حضور اس
کی وجہ کیا ہے کہ پہلے شخص کوسلام دیا اور دوسرے کو سلام نہیں دیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ پہلا شخص محمد ؐوآلِ
محمد علیہم السلام پر درود پڑھ رہاتھا
اس لئے میں نے اس کو سلام دیالیکن
دوسرا محمد ؐ وآلِ محمد علیہم السلام کے
دشمنوں سے برائت کا وِرد کر رہا تھا اس لئے میں نے اس کو
سلام نہیں دیاتاکہ اس کے ذکرِ خیر میں رکاوٹ نہ
ہو۔ بہر کیف سورہ برائت میں خداور رسولؐ کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان ہے اگر چہ کفارِ قریش اور مشرکینِ مکہ
ہی وقتِ نزول اس کے مصداقِ تنزیل تھے لیکن چونکہ آیاتِ کلام اللہ تاقیامت باقی اور زندہ ہیں لہذا ان کے تاویلی مصداق باقی ہیں اور تاقیامت
باقی رہیں گے اور تاقیامت اہلِ
ایمان کو ان سے برائت کرنی واجب ہے پس جن لوگوں کا عقیدہ خدااور رسولﷺ کے بتلائے ہوئے مطالب کے خلاف
ہو یاجن کے اعمال وکردار اسلامی
ہدایات کے منافی یامخالف ہوں ان سے برائت کرنا اور نفرت کرنا ہر مومن کا فرض
ہے اور وہ لوگ انہی آیات کے تاویلی مصداق ہو سکتے
ہیں۔
Leave a Reply