حیان بن حارث
نہیں ہو سکے۔
شیعانِ بصرہ میں سے تھا روز عاشور جہاد کرکے شہید ہوا، کہتے ہیں کہ حجاج سعدی کے ہمراہ یہ بھی بصرہ سے آیا تھا، زیارت ناحیہ مقدسہ اس پر سلام وارد ہے۔
’’مخزن البکأ ‘‘ میں ابن طائووس سے مروی ہے کہ اب قوم اشقیا ٔ میں سے کوئی شخص قریب آنے کی ہمت نہ کرتا تھا تاکہ حسین ؑکا خون گردن پرنہ آئے، ہاں ایک سنگدل نے جرأت کی اورعرش خداکوہلانے کیلئے آگے بڑھا اس شخص کا نام مالک بن بسرتھا، جوقبیلہ کندہ کا فرد تھا،…
یہ واقعہ اکثر کتب سیرمیں مذکورہے آقا شیخ ذبیح محلاتی نے ’’فرسان الہیجا‘‘ میں اس کو بروایت ابن الحدید سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں خطبہ پڑھا اوراس میں حضرت امیرالمومنین ؑ پر سبّ کیا؟ جب محمد بن حنفیہ کے کانو ں میں یہ خبر…
جب لڑائی کا غبارمدھم ہوا اورجنگ وجدال کی آتش فروہوئی توابراہیم نے فرمایا میں نے نہرخازرکے کنارے ایک ایسے شخص کوقتل کیا ہے جوتنہاجھنڈے کے نیچے تھا اوراس سے خوشبوکستوری کی آرہی تھی اورغالباً ابن زیادہی ہوگا؟ چنانچہ جب تلاش کیا گیا تو وہ واقعی عبیداللہ بن زیادہی نکلا پس ابراہیم سجدہ شکر میں گرگیا…
مختلف کتب مقاتل کی سیر سے اس قدر انداز ہو تا ہے کہ امام حسین ؑ متعدد مرتبہ خیام میں تشریف لائے اورواپس میدان کو گئے، چنانچہ ایک مرتبہ تشریف لائے اورعمامہ رسول سرپررکھا۔۔ قمیص رسول زیب تن فرمائی۔۔ رسالتمآب کی تلوار گلے سے حمائل کی اورجناب رسالتمآب کے گھوڑے پرسوار ہوکر اتمامِ حجت کے…
یہ ملعون حضرت عبداللہ بن مسلم کا قاتل تھا، امیر مختار نے عبداللہ بن کامل کو اس کی گرفتاری کیلئے روانہ کیا اس نے فرار کرنے کی ہر چند کوشش کی لیکن فائدہ مند ثابت نہ ہوئی، عبداللہ بن کامل کے ساتھی ننگی تلواریں لے کر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کو گرفتار کر…