زید بن رقاد لعنہٗ اللہ
کو اس کی گرفتاری کیلئے روانہ کیا اس نے فرار کرنے کی ہر چند کوشش کی لیکن فائدہ
مند ثابت نہ ہوئی، عبداللہ بن کامل کے ساتھی ننگی تلواریں لے کر اس پر ٹوٹ پڑے اور
اس کو گرفتار کر لیا، ابن کامل نے حکم دیا کہ تلوار کی بجائے اس پر پتھر اور تیر
برسائے جائیں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور ابھی رمق جان اس میں موجود تھی کہ اس کے
جُثّہ ناپاک کو نذر آتش کر دیا گیا ۔
اپنے منہ کے بچائو کیلئے بڑھایا تو تیرہاتھ سے پار ہو کر پیشانی سے پیوست ہو گیا
اور چند کوشش کی لیکن ہاتھ پیشانی سے چھڑایا نہ گیا، پھر اس ملعون نے دوسرا تیر
مار کر اس مظلوم ؑ کو شہید کر ڈالا اور پھر لاش پر پہنچ کر تیر نکالنے کی ہر چند
کوشش کی لیکن تیر کا پھل پیشانی میں ٹوٹ گیا اور نکل نہ سکا۔
