خالد بن عمروبن خالد ازدی
کتب امامیہ سے اس کا میدانِ کربلا میں شہید ہونا منقول ہے۔
طوعہ نے ایک بار پھر عرض کیا کہ آقا کیا مرنے کا ارادہ ہے؟ تو فرمایا خداکی قسم اس کے سوااورکوئی چارہ نہیں ہے، پس آگ برسانے والی بجلی بن کر تلوار شرربار ہاتھ میں تھا م کرحیدرکرارکی طرح للکارتاہوا میدانِ قتال میں اُترا کہ ان کی تلوار کی جنبش سے ہاتھ اورسر پرندوں کی…
’’نفس المہموم‘‘ سے مروی ہے کہ یہ شخص روز عاشور میدان جنگ میںجہاد کے لئے گیا اور چودہ یا اٹھارہ ملاعین کو باختلافِ روایات فی النار کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
اس کو صحبتِ رسولؐ کاشرف حاصل تھا اورواقعہ صفین میں حضرت امیر ؑ کے ہمرکاب رہا، کوفہ میںحضرت مسلم کے لئے لوگوں سے بیعت لیا کرتاتھا اورحضرت مسلم کی شہادت کے بعد ابن زیاد کے دربار میں گرفتار ہوکر پیش ہوا اوراس ملعون نے اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔۔۔۔ اورمامقانی سے منقول…
زیارت رجبیہ میں ان دونوں پر سلام وار دہے۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے اس کے علاوہ اس کے تفصیلی حالات کا علم نہیں ہو سکا۔
ان کے نام تفصیل وار نہیں ملے۔۔۔ یہ چاروں معاویہ کی فوج میں تھے، انہیں اپنی جوان کنواری بہن کے حاملہ ہونے کا شک ہوا۔۔۔ پس انہوں نے حضرت امیر ؑ کے سامنے معاملہ پیش کیا تو آنحضرت ؑ نے باعجازِ امامت اس کے شکم سے ایک آبی جانور کو نکالا پس یہ چاروں بھائی…