anwarulnajaf.com

سورة التين (95) — at-Tin — The Fig — التِّیۡنِ

سورة التين (95(    at-Tin 
    The Fig    التِّیۡنِ
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ (1) وَطُورِ
سِينِينَ (2) وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ (3) لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي
أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (4) ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ (5) إِلَّا
الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ (6)
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ (7) أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ
الْحَاكِمِينَ (8)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع
کرتا ہوں)
انجیر و زیتون کی قسم (1) طور سنین کی قسم
(2) اور اس بلد امین (مکہ) کی قسم (3) تحقیق ہم نے انسان کو بہترین قدو قامت میں
پیدا کیا (4) پھر اس کو سافلین  سے بھی
اسفل حالت کی طرف پلٹا دیا (5) مگر ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور  نیک عمل بجا لائے تو ان کے اجر غیر مقطوع ہو گا
(6) پس تجھے (اے انسان) کیا چیز پھیرتی ہے دین (7) کیا اللہ احکم الحاکمین نہیں ہے
؟ (8)
سورہ والتین 
·       یہ سورہ مکیہ ہے جو سورہ بروج بعد نازل ہوا ۔
·       اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ کو ملا کر نو بنتی
ہے ۔ 
·       حضور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ
جو شخص یہ سورہ فرائض یا نوافل میں پڑھتا رہیگا اس کو جنت میں اپنی مرضی کے مطابق
مکان ملے گا ۔
·       حدیث نبوی میں ہے کہ جو شخص اس کی تلاوت کرے گا
اس کو اجر بے حساب دیا جائے گا گویا اس نے حضورؐ سرور کائنات کی غمزودہ حالت میں
زیارت کی اور خدا نے اس کی مشکل کو حل فرما دیا اور اگر اس سورہ کا حاضر کھانے پر
پڑھ لیا جائے تو اس کے مضرات سے خدا اس کو محفوظ رکھے اگر اس میں زہر ہو گی تب بھی
شفا سے بدل جائے گی ۔
·       حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اگر
اس سورہ کو لکھ لیا جائے  روٹی کے کسی ٹکڑے پر اور اس کو پڑھ بھی لیا جائے تو
اس کے مضر اثرات ختم ہو جائیں گے اور بقدرت خدا وہ باعث شفا ثابت ہو گی (برہان
رکوع نمبر 20 ۔ والتین ۔ یعنی انجیر اور زیتون ایک مشہور پھل
ہے شام و اردن میں ان کے درخت زیادہ ہوتے ہیں تین کے متعلق حضرت پیغمبر سے منقول
ہے اگر میں کہتا کو جنت سے کوئی میوہ اترا ہے تو اس تین یعنی انجبیر کا متعلق کہتا
یہ میوہ گٹھلی کے بغیر ہے اس کو زیادہ کھایا کرو کہ یہ بواسیر کاقاطع ہے اس کی
تفسیر میں چند اقوال ہیں (1) تین دمشق کا پہاڑ اور زیتون بیت المقدس کا پہاڑ ہے
چونکہ ان پہاڑوں پر یہ درخت کثرت سے پیدا ہوتے ہیں لہذا ان کا نام بھی یہی رکھا
گیا (2) دمشق کی جامع کا نام اور بیت المقدس کا نام زیتون ہے ۔ (٣) تین مسجد
الحرام اور زیتون مسجد اقصٰی ہے (٤) تین کی تاویل حسن اور زیتون کی تاویل حسین ہے
۔
طور سینین۔ اس کا معنی مبارک ہے اور سینین اور سہناء مترادف
ہے اور بعضوں نے کہا ہے کہ ہر وہ پہاڑ جو پھلدار درختوں سے لدا ہوا اس کو سنین کہا
جاتا ہے ارو اس کی تاویل حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ہیں اور البدالامین
کی تاویل سرور کائنات ہیں ۔ 
اسفل سافلین ۔ پس حالتوں میں انسان سافل ہوا کرتا ہے مثلاً
بوڑھا ، بے عقل ، بیمار ، کمزور، زمین گیر، بچہ وغیرہ اور یہ سب سافلین شمار ہوتے
ہیں اور اس کے بعد سخت بڑھاپے کی حالت کو اسفل سافلین کہا گیا ہے اور بعضوں ناس سے
کفار مراد لئے ہیں جو جہنم میں ڈالے جائیں گے اور اسفل سافلین کی طرف پلٹایا جانا
یہی ہے اور اس کے تاویل مصداق دشمن آل محمدؐ ہیں 
الاالذین آمنوا۔ یعنی جو مومن ہو گا وہ انتہائی بڑھاپے کے
بعد بھی اسفل سافلین کی طرف نہیں پلٹا جائے گا چنانچہ حضرت رسالتمابؐ نے فرمایا کہ
بچہ جب تک جوانی کو نہیں پہنچتا اس وقت تک اس کے نیک اعمال میں اس کے والدین کے نامہ
اعمال میں درج کئے جاتے ہیں اور اس کی بد اعمالیوں کو نہیں لکھا جاتا پس جب وہ
جوانی کی فضا میں قدم رکھتا ہے تو دو لکھنے والے فرشتے غلط کاریوں سے اس کی محافظ
کرنے پر مامور ہوتے ہیں اور وہ اس کو سیدھے راستہ پر چلاتے ہیں یہاں تک کہ جب
اسلامی زندگی میں اس کو چالیس برس گذرتے ہیں تو خداوندکریم اس کو جنون جذام 
اور برص کی تینوں موذی مرضوں سے امان دیتا ہے پس جب پچاس برس کا ہوتا ہے تو خدا اس
کا حساب خفیف کر دیتا ہے اور جب ساٹھ سال کا ہوتا ہے تو خدا اس کو انابت کی توفیق
مرحمت فرماتا ہے جب ستر برس کو پہنچتا ہے تو ملائکہ سما اس کی محبت پر مامور ہوتے
ہیں پس جب اسی سال کو پہنچتا ہے تو اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور اس کے خاندان
میں اس کی شفاعت مقبول ہوتی ہے اور آسمان میں اس کا نام اسیر اللہ (اللہ کا قیدی)
ہوتا ہے اور جب اس عمر سے بھی تجاوز کر جائے تو جسقدر اعمال اس کے نامہ اعمال میں
جوانی کے دوران میں لکھے جاتے ہیں اسی طرح اس کے اعمال درج ہوتے رہیں گے اور اس کے
گناہ نہ لکھے جائیں گے۔ 
فما یکذبک بالدین ۔  یعنی اے ان چیزوں میں غوروفکر کرنے
بعد تجھے کیا چیز دین حق سے روکتی ہے اور روایات اہلبیت میں بکثرت وارد ہے کہ اس
جگہ دین کی تاویل ولایت امیر المومنین علیہ السلام ہے ۔  

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *