ا ہلِ حرم سے وداع
مرتبہ خیام میں تشریف لائے اورواپس میدان کو گئے، چنانچہ ایک مرتبہ تشریف لائے
اورعمامہ رسول سرپررکھا۔۔ قمیص رسول زیب تن فرمائی۔۔ رسالتمآب کی تلوار گلے سے
حمائل کی اورجناب رسالتمآب کے گھوڑے پرسوار ہوکر اتمامِ حجت کے لئے میدان میں
تشریف لائے۔۔ فرمایا:
قسم دے کرپوچھتا ہوں۔۔ تم جانتے ہوکہ میں رسولؐ کا نواسہ ہوں، میراباپ علی ؑ
مرتضیٰ جوہر مومن ومومنہ کا مولا اورساقی کوثرہے، میری ماں فاطمہ زہرا ؑ سیدۃالنسا
ٔہے، میری جدہ خدیجہ کبریٰ ہے، میرا بھائی حسن مجتبیٰ اورچچا جعفر طیارہے، یہ رسول
کا عمامہ میرے سرپر ہے۔۔ رسول کی قمیص میرے بدن پر ہے اوریہ تلواروگھوڑا اُنہی کا
ہے:
دین کوکامل کیا۔
ہے؟
درست ہے، توآپ ؑنے فرمایا پھر میراقتل کیوں حلال جانتے ہو؟ اوریہ پانی جویہود
وانصاریٰ بھی پی رہے ہیں اس سے مجھے اورخاندانِ رسول کی شہزادیوں اوربچوں کو کیوں
محروم کرتے ہو؟ لیکن ان سنگ دلوں پران کلمات کا ذرّہ بھر اثر نہ ہوا (محرق القلوب ص ۱۰۳)
آیا پھر بائیں جانب نگاہ کی تو کوئی مددگا ر نظر نہ آیا، آپ ؑ اکیلے رہ گئے تھے
اورباربار خشک زبان ہونٹوں پرپھیرتے تھے، تمام جانثار خاکِ گرمِ کربلاپر اطمینان
کی نیند سوچکے تھے اورخاک شفا کا کفن اوڑھے ہوئے امام ؑ کے سامنے گرم دھوپ پران کی
لاشیں موجود تھیں، ایک مرتبہ حسرت بھری نگاہ سے ان کودیکھا اورپھر صدادی:
مہاجر۔۔ یحییٰ بن کثیر۔۔ نافع بن ہلال۔۔ ابراہیم بن حصین۔۔ عمر بن مطاع۔۔ اسد
کلبی۔۔ عبداللہ بن علی۔۔ علی اکبر۔۔ مسلم بن عوسجہ۔۔ دائود بن طرماح۔۔ حرریاحی
اُنَادِیْکُمْ فَلا تُجِیْبُوْنِی وَاَدْعُوْکُمْ فَلاَ تَسْمَعُوْنِیْ۔
عرصۂ جنگ کے شہسوارو!
آوازدے رہاہوں لیکن تم آج سنتے بھی نہیں؟ کیا تم حالت خواب میں ہوکہ تمہاری
بیداری کی انتظارکرلوں؟
غیورجوانو! اپنی نیند سے اٹھواوران کمینے
ظالموں سے حرم رسول کی حفاظت کرو، (یہ روایت اسد کلبی کے حالات میں گزر چکی ہے)
القلوب ص۱۴۷‘‘ میں ہے کہ امام
عالیمقام ؑنے اس وقت ایک سرد آہ کھینچی کہ زمین میں زلزلہ پیدا ہوا، بچوں کی
یتیمی اوراہل حرم بہنوں اوربیٹوں کا فکر دامن گیر ہوااوربہت روئے کہ ریش مبارک سے
آنسوکے قطرے موتیوں کی طرح جھڑنے لگے، پس آسمان کی طرف نظر کی اورفرمایا:
تیرے نبی کی اولاد سے ہورہاہے؟
النار کرنے کے بعد واپس آئے اورایک ٹیلے پر کھڑے ہوکر بآوازبلند استغاثہ کیا:
الذُّرِّیَّۃِ الْاَطْھَارِ۔۔ ھَلْ مِنْ
مُغِیْثٍ یُغِیْثُنَا کیاکوئی ہے جوآل محمد کی مددکرے؟ کیا کوئی ہے جوپیغمبر کی
ذرّیت طاہرہ سے دشمنوں کے شرّکودورکرے؟ کیا کوئی ہے جوہماری فریاد رسی کرے۔
ہو اورکیوں نہ ہوتا؟ جن بہنوں کے سامنے ایک طرف عزیزوں کی سربرید ہ لاشیں گرم زمین
پربے گوروکفن موجود ہوں اوردوسری طرف حسین ؑ جیسابھائی پیاس کی شدت سے خشک زبان
ہونٹوں پرپھر رہاہو؟ اوراستغا ثہ کی آواز پر کوئی لبیک کہنے والانہ ہو اور ساتھ
ساتھ بھائی کی موت کے بعد اپنی اسیری وبے چار گی کی فکر بھی دامن گیر ہو وہ کیوں
نہ روئیں؟ اسی طرح وہ شہزادیاں جن کے سرپر یتیمی منڈلارہی ہو اورجوان بھائی سامنے
ایڑیا ں رگڑ رہے ہوں اورحسین ؑ جیسے باپ کا سایہ سرسے اٹھنے والا ہو اور اسیری
وقید کا منظر بھی سامنے ہو وہ کیسے ماتم نہ کریں؟ اسی طرح وہ مخدرات جن کا علی
اکبر جیسا فرزند ذبح ہوچکا ہو اورحسین ؑ جیسے سردار کا سایہ سرسے اٹھنے والا ہو وہ
کیوں نہ واویلا کریں؟ حضرت امام زین العابدین ؑ نے جب یہ جگرخراش منظر دیکھا
توبستربیماری سے اُٹھے نیزہ ہاتھ میں لیا۔۔ اُفتاں وخیزاں خیمہ سے باہر نکلے اور
میدان کا رخ کیا، جناب امّ کلثوم پہنچیںاوردریافت کیابیٹاکیا ارادہ ہے؟ حضرت سجاد
ؑ نے عرض کیا پھوپھی جان میں اپنے باباکی مددکے لئے جاتاہوں کہ وہ استغاثہ کر رہے
ہیں اوران کی صداپرلبیک کہنے والاکوئی نہیں ہے؟ اتنے میں امام حسین ؑ نے دیکھا اور
فرمایا بیٹا خداکے لئے تم واپس جائو کیونکہ میری نسل کی بقاتیری وجہ سے ہی ہوگی
اوراہل حرم کی حفاظت ونگہداری بھی تمہارے ذمہ ہوگی، پھرفرمایااے امّ کلثوم میرے
بیمار فرزند کوواپس لے جائو کہ زمین نسل آل محمد سے خالی نہ ہو جائے۔
ملاحظہ فرمایا اورآہ وفغاں کا دل سوزوجگر خراش منظر دیکھا توعنانِ اسپ کوخیموں کی
طرف موڑا اورایک مرتبہ خیام میں تشریف لائے، حضرت سجاد کو تسلی دی اورفرمایا
بیٹاتم میرے وصی ہو اورتمام اہل حرم کی پاسبانی تمہارے ذمہ ہے گویا اب میری اس
کشتی کے ملاح تم ہو اوراس لٹے ہوئے قافلہ کے سالار تم ہی ہو، پھر باپ وداداکے
تبرکات ان کے حوالہ کئے اوردیگر وصیتیں بھی کیں۔
