امام حسین ؑ کے اصحاب میں سے اس کا شمار ہے اورزیارت رجبیہ میں اس پر سلام
بھی وارد ہے، یقطر جناب رسالتمآبؐ کا خادم تھا اوراس کی زوجہ میمونہ حضرت
امیرالمومنین ؑ کے گھر میں رہتی تھی، جب حضرت امام حسین ؑ پیداہوئے تو ان سے تین
دن بعد عبداللہ بن یقطر پیداہوا اسی وجہ سے عبداللہ کو امام حسین ؑ کا رضیع کہا
جاتا ہے، کیونکہ بدستور عرب ایک ہفتہ کے اندر اندر دوپیدا ہونے والے بچوں کو ایک
دوسرے کا رضیع کہا جاتا تھا، نیز عبداللہ کی ماں امام حسین ؑکی حاضنہ تھی یعنی گود
میں بٹھاتی اوربہلاتی تھی جس طرح کہ امّ قیس جناب امام حسن ؑ کی حاضنہ تھی،
حالانکہ شہزادوں نے ان کا دودھ نہیں پیا اسی وجہ سے ان کی اولاد کو امام حسن ؑ
اورامام حسین ؑکا رضاعی بھا ئی کہا جاتاہے اورصحیح روایت میں ہے کہ امام حسین ؑنے
سوائے جناب فاطمہ ؑ کے کسی عورت کا دودھ نہیں پیا تھا۔
بھی وارد ہے، یقطر جناب رسالتمآبؐ کا خادم تھا اوراس کی زوجہ میمونہ حضرت
امیرالمومنین ؑ کے گھر میں رہتی تھی، جب حضرت امام حسین ؑ پیداہوئے تو ان سے تین
دن بعد عبداللہ بن یقطر پیداہوا اسی وجہ سے عبداللہ کو امام حسین ؑ کا رضیع کہا
جاتا ہے، کیونکہ بدستور عرب ایک ہفتہ کے اندر اندر دوپیدا ہونے والے بچوں کو ایک
دوسرے کا رضیع کہا جاتا تھا، نیز عبداللہ کی ماں امام حسین ؑکی حاضنہ تھی یعنی گود
میں بٹھاتی اوربہلاتی تھی جس طرح کہ امّ قیس جناب امام حسن ؑ کی حاضنہ تھی،
حالانکہ شہزادوں نے ان کا دودھ نہیں پیا اسی وجہ سے ان کی اولاد کو امام حسن ؑ
اورامام حسین ؑکا رضاعی بھا ئی کہا جاتاہے اورصحیح روایت میں ہے کہ امام حسین ؑنے
سوائے جناب فاطمہ ؑ کے کسی عورت کا دودھ نہیں پیا تھا۔
جب حضرت مسلم نے کوفہ میں پہنچ کرامام عالیمقام کو وہاں کے مقامی حالات کی
خبر دی توآپ ؑ نے ۸ذی الحجہ کو مکہ سے
روانگی اختیار کی اور بطن حاجز (جس کو بطن الرمہ بھی کہتے ہیں )میں پہنچ کر اہل
کوفہ کو خط لکھا:
خبر دی توآپ ؑ نے ۸ذی الحجہ کو مکہ سے
روانگی اختیار کی اور بطن حاجز (جس کو بطن الرمہ بھی کہتے ہیں )میں پہنچ کر اہل
کوفہ کو خط لکھا:
مجھے حضرت مسلم نے حالات کی اطلاع دی کہ تم ہماری نصرت کے لئے تیا رہو۔۔۔
لہذا آٹھ ذی الحجہ کو مکہ سے روانہ ہوا ہوں جیسا ہی میرا خط پہنچے تو تم خوب
ہوشیار ہوجائو اور میں فوراً پہنچنے والا ہوں۔
لہذا آٹھ ذی الحجہ کو مکہ سے روانہ ہوا ہوں جیسا ہی میرا خط پہنچے تو تم خوب
ہوشیار ہوجائو اور میں فوراً پہنچنے والا ہوں۔
پس یہ خط بند کر کے عبداللہ بن یقطر کے حوالہ
کیا اور اسے جلدی پہنچنے کی تاکید فرمائی۔۔۔ اس وقت ابن زیاد بصرہ سے روانہ ہو کر
کوفہ میں پہنچ چکا تھا اور کوفہ کی طرف آنے والے راستوں پر اس نے ناکہ بندی کردی
تھی، حجاز کی جانب سے کوفہ جانے والے راستوں پر حصین بن نمیر تعینات تھا، جب
عبداللہ بن یقطر قادسیہ میں پہنچے تو حصین بن نمیر کے گماشتوں نے اسے پکڑ لیا اور
حصین کے پیش کیا، حصین نے اس کی تلاشی کا حکم دیا چنانچہ عبداللہ بن یقطر نے یہ
حکم سن کر امام پاک کے خط کو جیب سے نکال کر اسے پرزہ پرزہ کر دیا! پس حصین نے اس
کی مشکیں باندھ کر ابن زیاد کے پاس بھیج دیااور صورت حال کی خبر بھی پہنچا دی۔
کیا اور اسے جلدی پہنچنے کی تاکید فرمائی۔۔۔ اس وقت ابن زیاد بصرہ سے روانہ ہو کر
کوفہ میں پہنچ چکا تھا اور کوفہ کی طرف آنے والے راستوں پر اس نے ناکہ بندی کردی
تھی، حجاز کی جانب سے کوفہ جانے والے راستوں پر حصین بن نمیر تعینات تھا، جب
عبداللہ بن یقطر قادسیہ میں پہنچے تو حصین بن نمیر کے گماشتوں نے اسے پکڑ لیا اور
حصین کے پیش کیا، حصین نے اس کی تلاشی کا حکم دیا چنانچہ عبداللہ بن یقطر نے یہ
حکم سن کر امام پاک کے خط کو جیب سے نکال کر اسے پرزہ پرزہ کر دیا! پس حصین نے اس
کی مشکیں باندھ کر ابن زیاد کے پاس بھیج دیااور صورت حال کی خبر بھی پہنچا دی۔
ابن زیاد نے پوچھا تو کون ہے؟عبداللہ بن یقطر نے بے دھڑک جواب دیا میں علی
ؑاور حسین ؑ کا شیعہ ہوں، ابن زیاد نے پوچھا تو نے خط کیوں پھاڑدیا ہے؟ عبداللہ نے
نہایت دلیری سے جواب دیا کہ تجھ سے اپنا راز مخفی رکھنے کے لئے خط کو میں نے پھاڑ
دیا ہے، ابن زیاد نے پوچھا وہ خط کس نے لکھا تھا اور کن کن لوگو ں کی طرف لکھا
تھا؟ عبداللہ نے کہا وہ خط حسین ؑ نے اہل کوفہ کی ایک جماعت کو لکھا تھا ابن زیاد
نے کہا ان لوگوں کے نام کیا ہیں؟ عبداللہ نے کہا میں نہ ان کو پہچانتا ہوں اور ان
کے نام جانتا ہوں! ابن زیاد نے کہا تجھے ان کے نام بتانے پڑیں گے، نیز امام حسین
ؑاور اس کے بھائی و باپ پر سبّ بھی کرنا پڑے گا ورنہ تیر ا سر تن سے جدا کردوں گا
اور تجھے ٹکڑے ٹکڑے کروں گا! تو عبداللہ نے کہا کہ میں ان لوگوں کے نام تو نہیں
بتائوں گا البتہ جن لوگوں پر لعنت کر نے کا حکم دیا گیا ہے ان پر لعنت بر سر منبر
کرنے کو تیار ہوں۔
ؑاور حسین ؑ کا شیعہ ہوں، ابن زیاد نے پوچھا تو نے خط کیوں پھاڑدیا ہے؟ عبداللہ نے
نہایت دلیری سے جواب دیا کہ تجھ سے اپنا راز مخفی رکھنے کے لئے خط کو میں نے پھاڑ
دیا ہے، ابن زیاد نے پوچھا وہ خط کس نے لکھا تھا اور کن کن لوگو ں کی طرف لکھا
تھا؟ عبداللہ نے کہا وہ خط حسین ؑ نے اہل کوفہ کی ایک جماعت کو لکھا تھا ابن زیاد
نے کہا ان لوگوں کے نام کیا ہیں؟ عبداللہ نے کہا میں نہ ان کو پہچانتا ہوں اور ان
کے نام جانتا ہوں! ابن زیاد نے کہا تجھے ان کے نام بتانے پڑیں گے، نیز امام حسین
ؑاور اس کے بھائی و باپ پر سبّ بھی کرنا پڑے گا ورنہ تیر ا سر تن سے جدا کردوں گا
اور تجھے ٹکڑے ٹکڑے کروں گا! تو عبداللہ نے کہا کہ میں ان لوگوں کے نام تو نہیں
بتائوں گا البتہ جن لوگوں پر لعنت کر نے کا حکم دیا گیا ہے ان پر لعنت بر سر منبر
کرنے کو تیار ہوں۔
پس ابن زیاد نے عبداللہ بن یقطر کو منبر پر آنے کی اجازت دی اور وہ
فوراًمنبر پر آیا خد اکی حمدوثنا بیان کی رسول ؐپر درودو سلام بھیجا اس کے بعد
علی ؑ اور اولاد علی ؑ پر سلام ودرود بھیجا پس ابن زیاد اور اسکے باپ پر لعنت کی
اور پھر بنی امیہ میں سے ایک ایک کا نام لے کر سب پر لعنت بھیجی اور آخر میں کہا:
فوراًمنبر پر آیا خد اکی حمدوثنا بیان کی رسول ؐپر درودو سلام بھیجا اس کے بعد
علی ؑ اور اولاد علی ؑ پر سلام ودرود بھیجا پس ابن زیاد اور اسکے باپ پر لعنت کی
اور پھر بنی امیہ میں سے ایک ایک کا نام لے کر سب پر لعنت بھیجی اور آخر میں کہا:
اے اہل کوفہ! میں حسین ؑکی طرف سے
قاصد بن کر آیا ہوں وہ اس وقت بطن ا لرمہ میں تھے تم فوراً ا ن کی اعانت کیلئے
پہنچنے کی کوشش کرو۔
قاصد بن کر آیا ہوں وہ اس وقت بطن ا لرمہ میں تھے تم فوراً ا ن کی اعانت کیلئے
پہنچنے کی کوشش کرو۔
پس ابن زیاد کے حکم سے عبداللہ کو بالاخانہ پر لے گئے اور وہاں سے اس کو
نیچے گرادیا گیا کہ جسم کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں، ابھی کچھ رمق جان باقی تھی کہ عبدالملک
بن حمیر (جو اس وقت کوفہ کا قاضی وفقیہ تھا) نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا اور وہ
جان جان آفریں کودے کر درجہ شہادت پر فائز ہو کر بہشت بریں میں جا پہنچا۔
نیچے گرادیا گیا کہ جسم کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں، ابھی کچھ رمق جان باقی تھی کہ عبدالملک
بن حمیر (جو اس وقت کوفہ کا قاضی وفقیہ تھا) نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا اور وہ
جان جان آفریں کودے کر درجہ شہادت پر فائز ہو کر بہشت بریں میں جا پہنچا۔
شیخ مفید سے مروی ہے کہ قبیلہ اسد کے دوشخص عبداللہ اورمنذر حج بیت اللہ سے
فارغ ہوکر امام حسین ؑکے پیچھے پیچھے جلد روانہ ہوئے تاکہ بدلتے ہوئے حالات کا
جائزہ لیں، یہ شخص مقام زرود میں آپ ؑ کے قافلہ سے جاملے، اسی اثنا میں کوفہ سے
آتاہوا ایک شخص دکھائی دیا، امام عالیمقام ؑ اس کی انتظار میں ٹھہرگئے تاکہ کوفہ
کے تازہ حالات معلوم کریں، لیکن اس شخص نے امام حسین ؑ کو پہچان کرکنارہ کرلیا
اورامام ؑ بھی اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آگے روانہ ہوگئے، یہ دونوں اسدی فوراً
دوڑ کر اس کو مل گئے اوراس سے کوفہ کے حالات دریافت کئے اس نے اپنانام بکر اور
قبیلہ اسد بیان کیا، توانہوں نے کہاکہ ہم بھی اسدی ہیں، لہذا صحیح واقعات ہمیں
بیان کرو اس نے جواب دیا کہ کوفہ سے کوچ کرنے سے قبل میں نے ہانی اورمسلم کو مقتول
دیکھا ہے اورمیں نے دیکھا ہے کہ ان دونوںشہیدوں کے پاؤں میں رسیاں ڈال کرکوفہ کے
بازاروں میں پھرایا جارہاتھا، یہ خبرسن کر دونوں اسدی جلدی سے امام ؑ کے پاس پہنچے
جب کہ آپ ؑ منزل زبالہ میں فروکش ہوچکے تھے، پس عرض گذارہوئے کہ حضور! ہم ایک خبر
لائے ہیں اگرارشادہوتولوگوں کے روبروسنائیں ورنہ تنہائی میں گوش گذار کریں؟ آپ ؑ
نے فرمایا میری جماعت سے میرا کوئی راز پوشیدہ نہیں ہے بے شک بیان کردو توانہوں نے
عرض کیا کہ وہ سوارجوکوفہ سے آرہاتھا اوردیدہ دانستہ آپ ؑ سے کنارہ کش ہوکر
چلاگیا تھا ہم نے اس سے کوفہ کے تازہ حالات دریافت کئے ہیں اس نے بتایا ہے کہ مسلم
وہانی دونوں قتل کئے جاچکے ہیں! یہ سنتے
ہی امام نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ
رَاجِعُوْن پڑھااورفرمایا خدامسلم پر رحم کرے کہ وہ اللہ کی رضاوسلامتی وخوشنودی
ونعمات میں پہنچ گیا ہے، پس اس نے اپنا فریضہ ادا کردیا اورہم پر باقی ہے۔
فارغ ہوکر امام حسین ؑکے پیچھے پیچھے جلد روانہ ہوئے تاکہ بدلتے ہوئے حالات کا
جائزہ لیں، یہ شخص مقام زرود میں آپ ؑ کے قافلہ سے جاملے، اسی اثنا میں کوفہ سے
آتاہوا ایک شخص دکھائی دیا، امام عالیمقام ؑ اس کی انتظار میں ٹھہرگئے تاکہ کوفہ
کے تازہ حالات معلوم کریں، لیکن اس شخص نے امام حسین ؑ کو پہچان کرکنارہ کرلیا
اورامام ؑ بھی اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آگے روانہ ہوگئے، یہ دونوں اسدی فوراً
دوڑ کر اس کو مل گئے اوراس سے کوفہ کے حالات دریافت کئے اس نے اپنانام بکر اور
قبیلہ اسد بیان کیا، توانہوں نے کہاکہ ہم بھی اسدی ہیں، لہذا صحیح واقعات ہمیں
بیان کرو اس نے جواب دیا کہ کوفہ سے کوچ کرنے سے قبل میں نے ہانی اورمسلم کو مقتول
دیکھا ہے اورمیں نے دیکھا ہے کہ ان دونوںشہیدوں کے پاؤں میں رسیاں ڈال کرکوفہ کے
بازاروں میں پھرایا جارہاتھا، یہ خبرسن کر دونوں اسدی جلدی سے امام ؑ کے پاس پہنچے
جب کہ آپ ؑ منزل زبالہ میں فروکش ہوچکے تھے، پس عرض گذارہوئے کہ حضور! ہم ایک خبر
لائے ہیں اگرارشادہوتولوگوں کے روبروسنائیں ورنہ تنہائی میں گوش گذار کریں؟ آپ ؑ
نے فرمایا میری جماعت سے میرا کوئی راز پوشیدہ نہیں ہے بے شک بیان کردو توانہوں نے
عرض کیا کہ وہ سوارجوکوفہ سے آرہاتھا اوردیدہ دانستہ آپ ؑ سے کنارہ کش ہوکر
چلاگیا تھا ہم نے اس سے کوفہ کے تازہ حالات دریافت کئے ہیں اس نے بتایا ہے کہ مسلم
وہانی دونوں قتل کئے جاچکے ہیں! یہ سنتے
ہی امام نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ
رَاجِعُوْن پڑھااورفرمایا خدامسلم پر رحم کرے کہ وہ اللہ کی رضاوسلامتی وخوشنودی
ونعمات میں پہنچ گیا ہے، پس اس نے اپنا فریضہ ادا کردیا اورہم پر باقی ہے۔
ان دونوں شخصوں نے کوفہ کے بدلے ہوئے حالات کے پیش نظر امام ؑ کو پیش قدمی
سے بازرہنے کی دعوت دی امام ؑ نے اولاد مسلم کو بلا کر صورت حالات بیان کرنے کے
بعد مشورہ پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ہم ہرگز واپس نہ جائیں گے جب تک مسلم کا
بدلہ نہ لیں یا خود جام شہادت نوش نہ کرلیں، ان دونوں شخصوں نے دیکھا کہ امام ؑ
اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں گے تو انہوں نے وداع کیا اور چلے گئے، امام پاک ہانی و
مسلم و عبداللہ کی خبر شہادت سن کر بہت غمزدہ ہوئے او راپنے صحابہ کو جمع کر کے ان
واقعات سے روشناس کرایا اور کوفہ والوں کی بے وفائی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تم
میں سے جو شخص ابھی جانا چاہے بے شک جا سکتا ہے، چنانچہ حضرت ؑ کے لشکر سے بہت سے
آدمی منتشر ہوگئے اور باقی وہی رہے جو کربلا میں ساتھ آئے۔
سے بازرہنے کی دعوت دی امام ؑ نے اولاد مسلم کو بلا کر صورت حالات بیان کرنے کے
بعد مشورہ پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ہم ہرگز واپس نہ جائیں گے جب تک مسلم کا
بدلہ نہ لیں یا خود جام شہادت نوش نہ کرلیں، ان دونوں شخصوں نے دیکھا کہ امام ؑ
اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں گے تو انہوں نے وداع کیا اور چلے گئے، امام پاک ہانی و
مسلم و عبداللہ کی خبر شہادت سن کر بہت غمزدہ ہوئے او راپنے صحابہ کو جمع کر کے ان
واقعات سے روشناس کرایا اور کوفہ والوں کی بے وفائی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تم
میں سے جو شخص ابھی جانا چاہے بے شک جا سکتا ہے، چنانچہ حضرت ؑ کے لشکر سے بہت سے
آدمی منتشر ہوگئے اور باقی وہی رہے جو کربلا میں ساتھ آئے۔
Leave a Reply