ابن نوفل لعنہٗ اللہ
تازیانہ ماراگیا۔۔ ہاتھ کاٹے گئے وہ فی النار ہوا۔
’’ناسخ التواریخ‘‘ سے منقول ہے کہ کوفہ میں حضرت علی ؑکے شیعوں میں سے ایک شخص عمیر بن عامر معلّم کو فی تھا جو بچوں کو پڑھاتا تھا اور یہی اس کا ذریعہ معاش تھا، ایک دن ایک عرب بدوی اس کے گھر آیا ایک پانی کا کوزہ بھرا ہوا دیکھا چونکہ وہ پیاسا تھا…
عبداللّٰہ بن زبیر اور محمد بن حنفیہ یہ واقعہ اکثر کتب سیرمیں مذکورہے آقا شیخ ذبیح محلاتی نے ’’فرسان الہیجا‘‘ میں اس کو بروایت ابن الحدید سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں خطبہ پڑھا اوراس میں حضرت امیرالمومنین ؑ پر سبّ کیا؟ جب محمد بن…
’’مقاتل الطا لبین‘‘ سے مروی ہے کہ یہ اورحضرت قاسم یک مادرے بھائی تھے حضرت قاسم کی شہادت کے بعد شہید ہوئے اوراس کو عبداللہ بن عقبہ غنوی نے شہید کیا۔۔۔ زیارت ناحیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
’’کتب رجال‘‘ میں منذر بن سلیمان کو امام حسین ؑ کے اصحاب سے شمار کیا گیا ہے لیکن زیارت رجبیہ میں منذر بن مفضل پر سلام وارد ہے، اب فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کاتب کی لغزش ہے یا واقع میں شخص دو ہیں۔۔ واللہ اعلم
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے اور یہ روزِ عاشور حملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
حصین بن نمیر کے قتل کے بعد تغلبی نوجوان نے شرجیل کو بھی واصل جہنم کیا، یہ بھی رئیس فوج تھا اور اب تو لڑائی کی گہماگہمی حد سے بڑھ گئی اور لوہے پر لوہے کی آواز آہن گروں کے بازار کی یاد کو تازہ کررہی تھی، گرز گرز پر۔۔ نیز ہ نیزہ پر اور…