حباب بن عامر تمیمی
چھپا رہا۔۔ جب سنا کہ امام حسین ؑ اس طرف تشریف لارہے ہیں تو خفیہ طور پر وہاں سے
نکلا اور امام حسین ؑ کی خدمت میں پہنچا اور روزِ عاشور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
مورّخین نے شہدائے کربلا کی فہرست میں کا نام بھی ذکر کیا ہے۔۔۔ تفصیل معلوم نہیں۔
سردارانِ کوفہ کی ایک جماعت کے ساتھ بصرہ کی طرف بھاگ گیا تھا، مختارنے ان کے گھروںکومسمارکرادیا۔
مسلم بن عوسجہ کا ایک فرزند تھا جس کا نام خلف لکھا گیا ہے، ’’ناسخ‘‘ سے منقول ہے کہ جب مسلم بن عوسجہ شہید ہوا تو اُس کا جواں سال فرزند (خلف) شیر غضبناک کی طرح میدان کی طرف بڑھا لیکن جب حضرت حسین ؑ نے دیکھا تو فرمایا اے جوان! تیرا باپ شہید ہو…
’’رجال مامقانی‘‘ سے منقول ہے کہ احمد بن حسن ؑ کی والدہ امّ بشر بنت ابی مسعود انصاری تھی یہ اپنے بھائی قاسم اوردوبہنوں امّ الخیر وامّ الحسن کو ساتھ لے کر اپنے عم ّ بزرگوار کے ساتھ کربلا میں آیا تھا۔۔ اس کی عمر واقعہ کربلا میں سولہ سال تھی۔ ’’ناسخ‘‘ سے منقول ہے…
پھر فرمایا: یَا زَیْنَبُ یَا اُمّ کلْثُومٍ یَا رُبَاب اے خاندانِ رسول کی شہزادیو! اے دودمانِ عصمت وطہارت کی پردہ نشینو! میرا آخری پیغام سنو؟ چنانچہ یہ آوازپہنچتے ہی تمام پردہ دارپروانہ دار شمعِ امامت کے ارد گرد جمع ہوگئیں اورخاموشی سے مولاکے آخری فرمان کی منتظر ہوئیں چنانچہ آپ ؑ نے اہل حرم پر…
یہ بزرگوار بہت بوڑھے اور عبادت گزار تھے۔۔۔ جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی ان کو حاصل تھا، جنگ بدر۔۔حنین اور دیگر غزواتِ نبویہ میں شریک رہے، پس کمر کو مضبوط باندھا اور ایک رومال اپنے اَبروئوں کے بلند کرنے کے لئے پیشانی پر باندھا۔۔۔ حضرت امام حسین ؑ اس کی یہ جاں فشانی…