یزید بن مظاہر اسدی
اشقیأ پر حملہ کیا اورایک ہی حملہ میں پچاس ملاعین کا سر قلم کرڈالا،آخر ہر طرف
سے فوج یزید ی نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا اورنیزہ تلوار کے پے درپے واروں سے
شہیدکرڈالا۔
بروایت ’’اعیان الشیعہ۔۔ نجاشی‘‘ اس کا شہدائے کربلا سے ہونا منقول ہے۔
ابن زیاد نے زجر بن قیس جعفی کو پانچ سو سوار کا افسر مقرر کر کے کربلا سے کوفہ جانے والے راستوں کی ناکہ بندی پر تعیینات کیا تھا تاکہ کوئی شخص امام حسین ؑ کی مدد کے لئے نہ جا سکے، لیکن جب عامر بن ابی سلامہ شوقِ شہادت کے خمار میں سرشار ہو…
’’نفس المہموم و منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ یہ شخص امام حسین ؑ کے لشکر کے سربرآوردہ افراد میں سے تھا۔۔ روز عاشور مردانہ جہاد کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا لیکن اس کے مقتولین کی تعداد نہیں بیان کی گئی۔
’’مقاتل الطالبین‘‘ سے منقول ہے کہ اس کی ماں خوصابنتِ حفص قبیلہ بکر بن وائل سے تھی اور بنا بر روایت مناقب اس کو بشربن خوط نے شہید کیا۔
سید محسن عاملی سے ’’مجالس سنیہ‘‘ میں منقول ہے کہ قمر بنی ہاشم کی ولادت ۲۶ھ میں ہوئی، حضرت امیر ؑ کی بعض جنگوں میں بھی آپ ؑ حاضرتھے لیکن ان کو سرکار ولایت جہاد کی اجازت نہ دیتے تھے، کربلا میں ان کی عمر ۳۴ یا بقول بعض ۳۵ سال تھی۔۔۔۔۔ ۴ شعبان ۲۶ھ…
مختار نے پوچھا کہ تونے فضہ کوتازیانہ مارکراس کا بازوتوڑاتھا؟ پس ہزار تازیانہ ماراگیا۔۔ ہاتھ کاٹے گئے وہ فی النار ہوا۔