anwarulnajaf.com

Mindblown: a blog about philosophy.

  • جنادہ بن حارث انصاری سلمانی ازدی صحابی

    یہ کوفہ کے مشاہیر شیعہ میں سے تھا۔۔ تاریخ ابن عساکر میں ہے ان کو صحابیت کا شرف بھی حاصل تھا، جنگ صفین میں حضرت امیر ؑ کے ہمرکاب ہو کر انہوں نے دادِ شجاعت دی، حضرت امیر مسلم کی بیعت میں شریک تھے جب لوگوں نے بے وفائی کی تو یہ چند دوسرے ساتھیوں…

  • جندب بن حجیر

    زیارت ناحیہ و رجبیہ میں ان پر سلام وارد ہے ۔۔۔ حضرت امیر ؑ کے خاص شیعوں میں سے تھے، جنگ صفین میں قبیلہ کندہ و ازدہ کا علَم ان کے ہاتھ میں تھا، جب امام حسین ؑ کی تشریف آوری کی ان کو اطلاع ہوئی تو حر ّ کے لشکر کے پہنچنے سے پہلے…

  • حارث بن امراء ُ القیس کندی

    یہ شخص نامی گرامی۔۔ شجاع۔۔ بے نظیر۔۔ شہسوار اور عبادت گزاری میں یکتائے روزگار تھا، متعدد جنگوں میں اس نے شجاعت کے وہ جوہر دکھائے تھے کہ ان کا اثر صفحہ تاریخ ہستی سے کبھی ناپید نہ ہو گا۔۔۔ یہ بھی کوفہ سے عمر سعد کے ہمراہ آیا تھا جب دیکھا کہ عمرسعد نے شرائطِ…

  • جوین بن مالک تمیمی

     یہ شخص عمر بن سعد کے ہمراہ کربلا میں آیا تھا۔۔۔ جب دیکھا کہ ابن سعد نے امام حسین ؑ کی تمام شرائط کو ٹھکرا دیا ہے تو دوسرے چند ساتھیوں کے ہمراہ رات کو امام حسین ؑ کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور حملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔۔ یہ شخص…

  • حارث بن بنہان

    اس کاباپ بنہان حضرت حمزہ کا غلام تھا اورنہایت بہادر ودلاور تھا، حضرت حمزہ کی شہادت کے دو سال بعد بنہان کا انتقال ہوگیا توحارث حضرت امیر ؑ کی غلامی کرتارہا اورآپ ؑ کی شہادت کے بعد امام حسن ؑ کے ہمرکاب رہااوراُن کی شہادت کے بعد امام حسین ؑ کی غلامی کرتارہا۔۔۔ اور روز…

  • حباب بن حارث

    اسکے متعلق صرف اسی قدر ملتا ہے کہ روزِ عاشور حملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔

  • حباب بن عامر تمیمی

    اس نے کوفہ میں امیر مسلم کی بیعت کی تھی، جب کوفیوں نے بے وفائی کی تو یہ چھپا رہا۔۔ جب سنا کہ امام حسین ؑ اس طرف تشریف لارہے ہیں تو خفیہ طور پر وہاں سے نکلا اور امام حسین ؑ کی خدمت میں پہنچا اور روزِ عاشور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔

  • حبشہ بن قیس نہمی

    یہ بنی نہم سے تھا جو قبیلہ ہمدان کی ایک شاخ ہے۔۔۔ زمین کربلا میں امام حسین ؑ کی خدمت میں پہنچا اور جہاد کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا۔

  • حجاج بن زید سعدی

    یہ شخص یزید بن مسعود نہشلی کا بصرہ سے امام حسین ؑ کے نام خط لایا تھا اور پھر امام ؑ کے ہمرکاب رہا یہاں تک کہ بروزِ عاشور حملہ اولیٰ میں شہید ہو گیا۔

  • حبیب ابن مظاہر اسدی صحابی

    علمائے رِجال نے ذکر کیا ہے کہ یہ بزرگوار جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی رکھتے تھے اور کربلا میں ان کے ساتھ ان کا چچازاد ربیعہ بن خوط بھی آیا تھا اور وہ بھی صحابی رسول تھا۔۔ چنانچہ بعد میں اس کا ذکر بھی آجائے گا۔۔ یہ بزرگوار حضرت امیر ؑ کے خاص…

Got any book recommendations?