anwarulnajaf.com

Mindblown: a blog about philosophy.

  • عامر بن ابی سلامہ دالانی

    ابن زیاد نے زجر بن قیس جعفی کو پانچ سو سوار کا افسر مقرر کر کے کربلا سے کوفہ جانے والے راستوں کی ناکہ بندی پر تعیینات کیا تھا تاکہ کوئی شخص امام حسین ؑ کی مدد کے لئے نہ جا سکے، لیکن جب عامر بن ابی سلامہ شوقِ شہادت کے خمار میں سرشار ہو…

  • عامر بن مسلم عبدی

    زیارت ناحیہ اور رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے، یہ شخص بصرہ کا رہنے والا ہے حملہ اولیٰ میں شہید ہوا ،بصرہ سے چند شیعہ امام حسین ؑ سے مکہ میں جا ملے تھے منجملہ ان کے یہ شخص اور اس کا غلام سالم بھی تھا جس کا ذکر گزر چکا ہے۔

  • عباد بن مہاجر جہنی

    جب امام حسین ؑ مقام جہنیہ پر پہنچے تھے جو مدینہ کے قریب ہے اور وہاں کجھور کے باغات بکثرت ہیں اور یہ وادی ’’وادیٔ صفرأ‘‘ کہلاتی ہے اور کافی ذرخیز جگہ ہے اور وہاں کہ ملکیت قبیلہ جہنیہ اور بنی فہد کی تھی، پس یہ عباد وہاں سے امام ؑ کے ساتھ ہو گیا…

  • عبدالرحمن بن عبد ربہ انصاری صحابی

    جناب رسالتمآبؐ کے صحابہ میں سے تھا اور حضرت علی ؑ کا تلمیذ رشید تھا، ’’اصابہ‘‘ میں حدیث غدیر  مَنْ کُنْتُ مَوْلاہ  اسی سے روایت کی گئی ہے اور ’’اسد الغابہ‘‘ میں مذکور ہے کہ عبدالرحمن نے شہادت دی کہ میں نے یہ حدیث جناب رسالتمآبؐ سے اپنے کانوں سے سنی ہے اور ’’اصابہ‘‘ میں…

  • عبدالرحمن الیزنی

    یہ شخص بھی شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے اور روز عاشور میدان میں جاکر اس نے جہاد کیا اور چند ملاعین کو تہِ تیغ کر کے شہید ہوا۔

  • عبد الرحمن الارحبی صحابی

    یہ بزرگوار بھی جناب رسالتمآبؐ کے اجلّہ میں سے تھا جیسا کہ کتب رجال میں موجود ہے، جب معاویہ کی موت کی خبر کوفہ میں پہنچی اور امام حسین ؑ کو کوفیوں نے دعوت نامے لکھے تو کوفہ کی طرف سے پہلا نامہ پرور یہی عبدالرحمن ارحبی تھا اور قیس بن مسہّر بھی اس کے…

  • عبدالرحمن کدری اوراس کا بھائی

    ان دونوںبھائیوں نے مل کرجنگ کی اوراکٹھے شہید ہوئے، دوسرے بھائی  کا نام نہیں مل سکا۔

  • عبدالرحمن بن عروہ غفاری

    عبدالرحمن بن عروہ اور اس کا بھائی عبداللہ بن عروہ نہایت شجاع بارعب اور ہردلعزیز تھے، ان کا باپ حضرت امیر ؑ کے صحابہ میں سے تھا اور جنگ جمل صفین اور نہروان میں حضرت علی ؑ کے ہمرکاب تھا، یہ دونوں بھائی خدمت امام ؑ میں اس وقت پہنچے جب آپ ؑ کربلا میں…

  • عبدالرحمن بن یزید

    زیارت رجبیہ میں اس پرسلام واردہے۔

  • عبدالرحمن بن مسعود تمیمی

    س کا باپ مسعود مشاہیر شیعانِ علی ؑ میں سے تھا اورنہایت بہادرتھا، عبدالرحمن اپنے باپ مسعود کے ہمراہ ساتویں محرم کوزمین کربلامیں پہنچااوربروایت ابن شہرآشوب حملہ اولیٰ میں شہیدہوئے، زیارت ناحیہ مقدسہ میں ان دونوںپرسلام واردہے۔

Got any book recommendations?