اسد بن مالک لعنہٗ اللہ
ہاتھ انگلیوں کو کا ٹ کرہزار تازیانہ مروایا۔
اس ملعون نے بھی امام پاک کے زخمی جسم کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا تھا۔ عبداللہ بن صلخت ، عبدالرحمن بن صلخت ، عثمان بن خلد ، بشربن سوط لعنہمُ اللّٰہ یہ چاروں حضرت عبدالرحمن بن عقیل کے قتل میں شریک تھے۔ امام مظلوم ؑ نے بروزعاشور ان پربددعاکی تھی جومقبول ہوئی، مختارکے حکم…
مختار کو اطلاع دی گئی کہ قادسیہ میں مالک بن نسر رہتا ہے جس نے امام حسین ؑ کے فرق اطہر پر تلوار ماری تھی؟ نیزآپ ؑ کی خون آلود ٹوپی بھی اسی نے لے لی تھی! اور وہاں امام حسین ؑ کے قاتلین میں سے دواور شخص اس کے ہمراہ رہتے تھے ایک کا…
یہ ابوبکربن حسن ؑبن علی ؑکا قاتل تھا، خود بھاگ گیا تھا اورمختارکے حکم سے اس کا گھر ویران کردیا۔
شیخ سے مروی ہے کہ یہ شخص بھی امام حسین ؑ کے اصحاب میں سے تھا۔
زیارت رجیہ میں اس پر بھی سلام وار دہے۔
پیہم اورباربار کی لڑائی سے امام عالیمقام ؑ کا جسم زخموں سے چورہوگیاتھا، زخموں کی تعداد ایک ہزار نو سوپچاس بھی لکھی گئی ہے اورچار ہزار بھی بیا ن کی گئی ہے، ’’مخزن البکا‘‘ میں بروایت ’’بحارالانوار‘‘ چار ہزار تیر اورایک سو اسّی زخم نیزہ وشمشیر کے مذکور ہیں، بہرکیف مظلوم ؑکے زخم گنتی کی…