عبداللہ بن معاذ لعنہٗ اللہ
تووہ ہے کہ ظلم کرکے کہتا تھا اگر میں نہ کروں توکوئی اورلے جائے گا؟ پس روتابھی
تھا اورظلم بھی کرتاتھا؟ پس اس کے اعضاکاٹ کر اس کوماراگیا کہ گو شت اترگیا
اورپگھلا ہوا سکّہ اس کے حلق میں ڈال دیا گیا۔
جب حضرت سید الشہدا ٔ نے آخری استغاثہ بلند کیا تو انصار میں سے جن پندرہ آدمیوں کو نام لے کر پکارا ان میں سے ایک اسد کلبی بھی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی شہدائے کربلا میں سے ہے۔۔ اس کے علاوہ کہیں صراحت سے اس کے متعلق کچھ نہیں…
آپ شیعان بصرہ میں سے تھے ۔۔ آپ کا باپ صحابی رسول تھا، اس وقت ماریہ بنت منقذ عبدی کا گھر شیعیانِ بصرہ کے جمع ہونے کی جگہ تھی۔۔ چنانچہ ہر رات شیعیانِ علی ؑ وہاں جمع ہوتے تھے۔۔ عامل بصرہ کو ابن زیاد کی طرف سے ہدایت تھی کہ تمام سڑکوں اور راستوں کی…
یہ بزرگوار جناب اسما ٔ بنت عمیس کے شکم اطہر سے تھے جب انہوں نے امام عالیمقام ؑ سے رخصت جنگ طلب کی توآپ ؑ کی آنکھوں سے سیلابِ اشک رواں ہوا اورفرمایابھائی جان کیا آپ ؑ بھی مرنے کے لئے تیار ہیں؟ توعون نے جواب میں عرض کیا آقامیں دیکھ رہاہوں کہ ا ٓپ…
اس نے جناب زینب عالیہ کے بدن پر تازیانہ مارا تھا، پس اس کو ہزار تازیانہ مروا کر داخل آگ کیا گیا کہ وہ جہنم میں پہنچ گیا۔
’’ریاض الشہادۃ‘‘ سے منقول ہے کہ یہ امام حسن ؑ کا غلام تھا اور روز عاشور شہید ہوا، بعض مورّخین نے اس کے مقتولین کی تعداد ایک سو تیس (۱۳۰) بیان کی ہے۔
’’ناسخ التواریخ‘‘ سے اس کا شہدائے کربلا میں سے ہونا مذکوہ ہے۔۔ حالات کی تفصیل کا کوئی علم نہیں۔