عبید اللہ بن عبد اللہ بن جعفر طیاّر
الطالبین‘‘ سے منقول ہے کہ اس کی ماں خوصابنتِ حفص قبیلہ بکر بن وائل سے تھی اور
بنا بر روایت مناقب اس کو بشربن خوط نے شہید کیا۔
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وار دہے یہ شخص کوفہ میں مشہور و معروف شریف و مخلص شیعوں میں سے تھا۔۔ حضرت امیر مسلم کی بیعت میں داخل ہوا تھا، جب حضرت مسلم گرفتار ہوئے تو یہ چھپا رہا جب امام حسین ؑ کے قاصد قیس بن مسہّر صیداوی نے آکر خبر دی کہ…
’’مخزن البکا‘‘ میں واقعہ شہادت اس طرح مرقوم ہے کہ بروایت ’’منتخب‘‘ خولی نے امام مظلوم ؑ کی پشت پرزور سے ایک نیزہ کا وار کیا کہ بروایت ابومخنف امام مظلوم ؑ تین گھنٹے منہ کے بل زمین پرپڑے رہے فَبَقِیَ ثَلَاثَ سَاعَاتٍ مَکْبُوْبًا عَلَی الْاَرْضِ امام مظلوم ؑ آخری وقت تک استغاثہ کرتے رہے…
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام ہے۔۔۔ ’’منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ عامر بن مسلم اور اس کا غلام سالم شیعان بصرہ میں سے تھے اور حملہ اولیٰ میں شہید ہوئے، یہ دونوں اور سیف بن مالک، ادہم بن امیہ، یزید بن ثبیت اور اس کے دونوں بیٹے سب اکٹھے بصرہ سے…
غالباً حبیب بن مظا ہر کا بھائی ہے، رجز پڑھتے ہوئے فوج اشقیأ پر حملہ آور ہوا اورستّر ملاعین کوتہ ِتیغ کرکے شہید ہوا۔
اس کانام یزید بن زیاد بن مہاجر ہے اور قبیلہ کندہ کا فردِ فرید ہے، شہسواری اور فن تیر اندازی میں اپنی آپ نظیر تھا اور اپنے دور کا عالم اور محدث تھا۔۔۔ علاوہ بریں نہایت شریف، مردِ میدان اور دلیر تھا۔ قبل اس کے کہ لڑائی کی نوبت حضرت سید الشہدأ تک پہنچے۔۔۔تلوار میان…
اس کی کوفہ میں رہائش تھی حضرت علی ؑ کے صحابہ میں سے تھا اورآپ ؑ کے ہمراہ جنگ جمل وصفین میں شریک رہ چکا تھا، کہتے ہیں کہ حجر بن عدی کا ہمنشین تھا جب حجر گرفتارہو اتویہ کسی طریقہ سے جان بچاکربھاگ نکلا تھا جب زیادواصل جہنم ہوا، تویہ دوبارہ واپس کوفہ میںآگیا…