غلام حجاج بن مسروق
ذکر میں گزر چکا ہے۔
اُن صحابہ کا ذ کر جو بنی ہاشم سے نہ تھے اور میدانِ کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے:
جب مختار نے خروج کیا تو عمر بن سعد پوشیدہ ہو گیا تھا اور عبد اللہ بن جعدہ بن ہبیرہ سے اس نے خواہش کی کہ مختار سے میرے لئے امان نامہ کی سفارش کیجئے؟ (یہ عبد اللہ بن جعدہ حضرت امیرالمومنین ؑ کا بھانجا تھا اور مختار کا مقرب خاص تھا) چنانچہ بعض وجوہ…
اس ملعون نے بھی امام پاک کے زخمی جسم کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا تھا۔ عبداللہ بن صلخت ، عبدالرحمن بن صلخت ، عثمان بن خلد ، بشربن سوط لعنہمُ اللّٰہ یہ چاروں حضرت عبدالرحمن بن عقیل کے قتل میں شریک تھے۔ امام مظلوم ؑ نے بروزعاشور ان پربددعاکی تھی جومقبول ہوئی، مختارکے حکم…
اس حرامزادے نے امام مظلوم ؑ کے پہلوپرنیزہ ماراتھا۔
یہ شخص فرارکرگیا تھا اوراس کے مکانات اورعالی شان محلات قادسیہ میں تھے، پس مختارکے حکم سے ان کومنہدم ومسمارکردیاگیا۔
یہ شخص حضرت امیرالمومنین ؑکے شیعوں میں سے تھا اورخود مسلم کی بیعت کرنے کے بعد لوگوں سے امیر مسلم کے لئے بیعت لیا کرتاتھا۔ جب ہانی گرفتارہوا اورابن زیاد نے اس پرتشددکیا تو اس وقت حضرت مسلم نے دارُالامارہ پرچڑھائی کی اورعباس بن جعدہ کو ایک چوتھائی فوج کا سالارمقررکیا پھر واقعات بدل گئے…