بابِ اوّل
پر فائز ہوئے:
یہ شخص جناب رسالتمآبؐ کے صحابہ میں سے تھے۔۔۔ واقعہ کربلا میں کافی سن رسیدہ تھے، انہوں نے جناب رسالتمآبؐ سے حدیثیں نقل بھی کی ہیں۔۔۔ چنانچہ عسقلانی نے ’’اصابہ ‘‘ میں انس بن حارث سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضرت رسالتمآبؐ سے اس نے خود سنا تھا کہ خود فرماتے تھے: میرا…
زیارت ناحیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
’’ابن عساکر‘‘ سے منقول ہے کہ اس کو صحبت جناب رسالتمآبؐ کا شرف بھی حاصل تھا اور پھر حضرت امیر ؑ کی فوج ظفر موج میں بھی شامل رہا ور کوفہ میں سکونت پذیر رہا یہاں تک کہ کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
’’وقائع الایام جلد چہارم‘‘ اور دوسری کتب میں بھی امام جعفرصادقؑ سے منقول ہے کہ جب روز عاشور لڑائی شروع ہوئی تو خدا نے امام حسین ؑ پر نصرت نازل فرمائی جو امام پاک کے سر پر پرواز کرتی تھی اور امام حسین ؑ کو نصرت اور لقائے پروردگار میں اختیار دیا گیا تھا لیکن…
زیارت ناحیہ مقدسہ اورزیارت رجبیہ میں اس پرسلام وارد ہے اوراس کے قاتل پرلعنت بھی وارد ہے، عبدالرحمن بن عقیل نے روز عاشورجہاد کیا اورسترہ ملاعین کوفی النار کیا، عثمان بن خالد جہنی اوربشربن خوط ہمدانی کے ہاتھوں درجہ شہادت پر فائز ہوا، جب مختارؒ نے خروج کیا توعبداللہ بن کامل کوحکم دیا کہ عبدالرحمن…
فرمایا یَا زَیْنَبُ وَ یَا اُمّ کلثُوْمٍ وَ یَا سُکَیْنَۃُ وَ یَا فَاطِمَۃُ عَلَیْکُنَّ مِنِّی السَّلامُ وَاسْتَوْدِعکُن اے زینب۔۔ اے امّ کلثوم۔۔ اے سکینہ اوراے فاطمہ تم پر میرا سلام اورخداحافظ، بہنوں کو گلے لگایا اورشہزادیوں کوپیا رکیا اورسب کو تسلی دے کر روانہ ہوئے، لیکن وہ کیا تسلی تھی بلکہ یہ تسلی اضطرب کا…