فیروزان
الشہادۃ‘‘ سے منقول ہے کہ یہ امام حسن ؑ کا غلام تھا اور روز عاشور شہید ہوا، بعض
مورّخین نے اس کے مقتولین کی تعداد ایک سو تیس (۱۳۰) بیان کی ہے۔
سید محسن عاملی سے ’’مجالس سنیہ‘‘ میں منقول ہے کہ قمر بنی ہاشم کی ولادت ۲۶ھ میں ہوئی، حضرت امیر ؑ کی بعض جنگوں میں بھی آپ ؑ حاضرتھے لیکن ان کو سرکار ولایت جہاد کی اجازت نہ دیتے تھے، کربلا میں ان کی عمر ۳۴ یا بقول بعض ۳۵ سال تھی۔۔۔۔۔ ۴ شعبان ۲۶ھ…
بروایت تبرالمذاب نقلاً عن الواقدی۔۔۔۔۔ شمر جب امام ؑ کا سرگھر میں لایا تویہ مومنہ اس سرکو گود میں ڈال کر ساری رات ماتم کرتی رہی اورصبح کو جب شمر نے سر مانگا تواس نے سردینے سے انکار کردیا چنانچہ اس نے تلوارمار کراس کا سرجدا کردیا مفصل واقعہ ’’واقعاتِ سر مبارک‘‘ کے بیان میں…
امام مظلوم ؑ کے آخری استغاثہ پر جب شہزادہ عبد اللہ بن حسن امام پاک کی خدمت میں پہنچاتھا تواس ملعون نے اس شہزادہ کواپنے ظلم کا نشانہ بنایا تھا۔
اس کا نام معلوم نہیں۔۔۔ یہ شخص ابن سعد کی طرف سے امام پاک کی طرف پیغام لایا تھا اور یہ دریافت کرنے آیا تھا کہ آپ ؑیہاں کیوں تشریف لائے ہیں؟ چونکہ یہ آلاتِ جنگ سے مسلح تھا جب قریب پہنچا تو امام نے صحابہ سے دریافت کیا کہ اس کو تم پہنچاتے ہو؟…
’’ناسخ التواریخ‘‘ سے منقول ہے کہ کوفہ میں حضرت علی ؑکے شیعوں میں سے ایک شخص عمیر بن عامر معلّم کو فی تھا جو بچوں کو پڑھاتا تھا اور یہی اس کا ذریعہ معاش تھا، ایک دن ایک عرب بدوی اس کے گھر آیا ایک پانی کا کوزہ بھرا ہوا دیکھا چونکہ وہ پیاسا تھا…
’’قمقام ص۳۷۸‘‘ میں ’’الدرّالنظیم‘‘ سے منقول ہے کہ خدا وندکریم نے چارہزار ملائکہ بھیجے اورامام مظلوم ؑ کونصرت اورشہادت میں اختیاردیا گیا لیکن آپ ؑ نے شہادت کو اختیا رفرمایا۔ ’’کامل الزیارات‘‘ سے منقول ہے کہ چارہزار فرشتے آئے لیکن امام مظلوم ؑ نے ان کواذنِ جہاد نہ دیا وہ واپس چلے گئے اورجب دوبارہ…