غلام نافع بن ھلال
اور روز عاشور شرف شہادت سے فیض یاب ہوا۔
(۱)عبداللہ بن حارث (۲) عبداللہ بن عفیف ازدی (۳) ہانی بن عروہ مرادی (۴)سلیمان بن صردخزاعی
یہ تابعین میں سے ہے اور حضرت امیر ؑ کی تینوں لڑائیوں میں یعنی جمل، صفین اور نہروان میں حضرت امیر ؑ کے ہمرکاب رہا، حضرت امیر ؑ کی شہادت کے بعد امام حسن ؑ کی خدمت میں اور پھر امام حسین ؑ کی خدمت میں رہا تااینکہ واقعہ کربلا میں شہید ہوا۔۔۔ زیارت ناحیہ…
یہ شخص کوفہ سے سعد کی فوج میں شامل ہو کر نکلا اور کربلا میںپہنچ کر امام حسین ؑ کی فوج میںشامل ہو گیا اور روز عاشور حملہ اولیٰ میںشہید ہو ا،زیارت ناحیہ ورجیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
اس کے باپ بشر بن عمرو حضرمی کے تذکرے میں گزر چکا ہے کہ اس کو عین جنگ کے وقت اپنے بیٹے کی اسیری کی اطلاع دی گئی تھی تو اس نے نہایت جرأت سے کہا تھا کہ مجھے اس کا اجر خدا دے گا۔۔ گویا فرزند رسول کو نرغۂ اعدا میں چھوڑ کر میں…
یہ شخص منزل جہنیہ سے امام ؑ کے ہمرکاب ہوا تھا جب منزل زبالہ میںاکثر لوگ چھوڑگئے تویہ شخص ثابت قدم رہا، حتیٰ کہ کربلامیں بروز عاشور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا، اورعسقلانی سے ’’اصابہ‘‘ میں مذکور ہے کہ یہ عقبہ بن صلت جہنی صحابہ رسول میں سے تھا اوراس سے روایات بھی منقول ہیں،…
اس کی کنیت ابوعمر تھی اور قبیلہ ہمدان سے تھا۔۔۔’’ استیعاب و دیگر کتب‘‘ میں ہے کہ اس کا باپ صحابی رسول تھا اور ’’اصابہ‘‘ سے منقول ہے کہ عریب کا بیٹا بھی رسول کی صحبت کا شرف رکھتا ہے جو میدانِ کربلا میں امام حسین ؑ کے ہمرکاب شہید ہوا، ’’رجال مامقانی‘‘ سے منقول…