قیس بن ظفر لعنہٗ اللہ
النار کردیا گیا۔
بناپرمشہور مختار کی طرح قید میں تھے اس لئے واقعہ ہائلہ کربلامیں شریک نہ ہوسکے۔
مختار نے پوچھا کہ تونے فضہ کوتازیانہ مارکراس کا بازوتوڑاتھا؟ پس ہزار تازیانہ ماراگیا۔۔ ہاتھ کاٹے گئے وہ فی النار ہوا۔
’’کفایۃ الطالب‘‘ سے منقول ہے کہ اس کی والدہ رملہ بنت سلیل بن عبداللہ بجلی تھی، ابھی دائرہ بلوغ میں ان کا قدم یہی آیا تھا( بہر کیف یہ شہزادہ دس گیا رہ برس کے لگ بھگ ہی تھا) جب اپنے عم بزرگوارکو اپنے مقام پرنہ پایا توخیمہ سے نکل کر جلدی سے میدان کی…
’’ذخیرۃ الدارین‘‘ سے منقول ہے کہ یہ حضرت عقیل کا فرزند تھا اوراس کی والدہ امّ ولد تھیں اورکربلامیں شہید ہوا، نیز رجال مامقانی سے بھی اس کا شہید کربلامیں سے ہونا منقول ہے۔
یہ شخص حضرت امیرعلیہ السلام کے صحابہ میں سے تھا، بروایت مامقانی اس کی کنیت ابووہب تھی، نہایت شجاع۔۔ دلیراورطاقتور بہادر تھا، کوفہ میں بیرالجعدہ کے قریب اس کا گھر تھا، اس کی عورت قبیلہ بنی نمرسے تھی، ایک دن گھر سے باہرنکلادیکھا کہ فوجیں نخیلہ کی طرف جارہی ہیں دریافت کیا کہ یہ لشکرکہاں…
زیارت رجبیہ میں ان دونوں پر سلام وار دہے۔