قیس بن ظفر لعنہٗ اللہ
النار کردیا گیا۔
ابومخنف سے منقول ہے کہ یہ شخص جرأت وشجاعت میں یگانہ ٔدہرتھا میدان جنگ میں اس نے خوب دادشجاعت دی اور(۶۴) نام برآوردہ اشخاص کوتہِ تیغ کیا جب لشکراعدأ نے اس بیشہ شجاعت کے شیر کے مقابلہ میں بزدلی کا مظاہرہ کیا تو ازراہ مکروفریب ہرطرف سے تیرو تلوار ونیزہ وسنگ بارانی سے اس پرحملہ…
یہ شخص بھی شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے اور روز عاشور میدان میں جاکر اس نے جہاد کیا اور چند ملاعین کو تہِ تیغ کر کے شہید ہوا۔
آپ کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم تھی، آپ کی والدہ ماجدہ کا نام خولہ تھا جو ایاس بن جعفر کی دختر تھیں۔۔۔۔۔ ’’فرسان الہیجا‘‘ میں ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسالتمآبؐ نے خولہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: یا علی ؑ اگر اس بیوی سے خدا تجھے لڑکا دے تو اس کا نام میرے…
’’رجال مامقانی‘‘ سے منقول ہے کہ احمد بن حسن ؑ کی والدہ امّ بشر بنت ابی مسعود انصاری تھی یہ اپنے بھائی قاسم اوردوبہنوں امّ الخیر وامّ الحسن کو ساتھ لے کر اپنے عم ّ بزرگوار کے ساتھ کربلا میں آیا تھا۔۔ اس کی عمر واقعہ کربلا میں سولہ سال تھی۔ ’’ناسخ‘‘ سے منقول ہے…
حضرت سیدالشداؑء کے وہ انصار جوبنی ہاشم میں سے تھے اورکربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے:
’’بحارالانوار جلد ۱۰‘‘ سے منقول ہے کہ حضرت قاسم کے بعد حضرت عبداللہ بن حسن اکبر میدان میں گئے اور رجز پڑھتے ہوئے جہاد کیا۔۔۔ پس چودہ ملاعین کو تہِ تیغ کر کے ہانی بن ثبیت حضرمی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔