محمد بن انس بن ابی دجانہ
الشہادہ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔
پہلے لشکرابن سعد میں تھا اورپھرامام عالیمقام ؑ کے ساتھ مل گیا اورشرف شہادت پرفائزہوا۔
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے، یہ شخص حضرت امیر علیہ السلام کے ہمرکاب جنگ جمل صفین ونہروان میں شامل رہا، بصرہ کی طرف جاتے ہوئے اس نے حضرت امیر ؑ سے دریافت کیا تھا کہ حضورؑ! آپ بصریوں سے کیا سلوک کریں گے؟ توآپ ؑ نے فرمایاتھا ان کو اطاعت خداکی طرف…
اس کی کوفہ میں رہائش تھی حضرت علی ؑ کے صحابہ میں سے تھا اورآپ ؑ کے ہمراہ جنگ جمل وصفین میں شریک رہ چکا تھا، کہتے ہیں کہ حجر بن عدی کا ہمنشین تھا جب حجر گرفتارہو اتویہ کسی طریقہ سے جان بچاکربھاگ نکلا تھا جب زیادواصل جہنم ہوا، تویہ دوبارہ واپس کوفہ میںآگیا…
ابن زیادکو جب قافلۂ اسیرانِ اہل بیت کے داخلۂ کوفہ کی اطلاع ملی تواس نے دربارِ عام لگایا اورمنادی پھرا کر مجلس عام طلب کی، چنانچہ فوراًہی شہری ودیہاتی ہر قسم کے لوگوں سے دربار پُر ہو گیا، اس کے بعد سروں کے حاضر کرنے کا حکم دیا چنانچہ سب سے پہلے ایک طشت طلا…
اپنے زمانہ کے نامی گرامی شہسواروں اور آزمودہ کاربہادروں میں سے تھے۔۔۔ نہایت فصیح و بلیغ خطیب اور امام عالیمقام ؑ کے وفادار رفیق تھے۔۔۔ امام ؑ نے ان کو اپنے لشکر کے میمنہ پر متعین فرمایا تھا۔۔ امام ؑ کی فوج میں یہ شخص بڑا دلیر، جری، جنگجو اور بابصیرت سپاہی تھا۔۔۔ کسی بڑے…
یہ بھی سردارانِ کوفہ کی ایک جماعت کے ساتھ بصرہ میں مصعب کے لشکرسے جا ملاتھا، بحکم مختاران سب کے گھروں کوبربادکردیا گیا۔ امام مظلوم ؑ کے قاتلین نے مختارکی گرفت سے بچنے کے لئے بڑی کوششیں کیں چنانچہ بعض نے مکہ کا رخ کیااور عبداللہ بن زبیر سے جاملے اوربعض بصرہ میں پہنچ کرمصعب…