محمد بن انس بن ابی دجانہ
الشہادہ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔
زیارتِ رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ یہ بزرگ سن رسیدہ اور نہایت عبادت گزار تھا، متعدد جنگوں میں حاضر ہو کر کافی تجربہ رکھتا تھا، اپنے دور میں شجاعت کے لحاظ سے بے نظیر تھا، روز عاشور جب بشر بن عمرو حضرمی کی شہادت ہو چکی تو یہ میدان کی طرف بڑھا اور…
اس کی کوفہ میں رہائش تھی حضرت علی ؑ کے صحابہ میں سے تھا اورآپ ؑ کے ہمراہ جنگ جمل وصفین میں شریک رہ چکا تھا، کہتے ہیں کہ حجر بن عدی کا ہمنشین تھا جب حجر گرفتارہو اتویہ کسی طریقہ سے جان بچاکربھاگ نکلا تھا جب زیادواصل جہنم ہوا، تویہ دوبارہ واپس کوفہ میںآگیا…
’’مقاتل الطالبین‘‘ سے مروی ہے کہ ابرہیم بن علی کی والدہ امّ ولد تھی اوریہ میدانِ کربلامیں شہید ہوا۔
اس کو صحبتِ رسولؐ کاشرف حاصل تھا اورواقعہ صفین میں حضرت امیر ؑ کے ہمرکاب رہا، کوفہ میںحضرت مسلم کے لئے لوگوں سے بیعت لیا کرتاتھا اورحضرت مسلم کی شہادت کے بعد ابن زیاد کے دربار میں گرفتار ہوکر پیش ہوا اوراس ملعون نے اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔۔۔۔ اورمامقانی سے منقول…
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ شخص شہدائے کربلامیں سے تھا اوریہ وہی عقبہ بن سمعان ہے جس کوحُرکی ملاقات کے وقت آپ نے فرمایا تھا کہ وہ تھیلالائو جس میں کوفیوں کے خطوط ہیں پس اسی نے ہی یہ تھیلاپیش کیا تھا، بعض روایات میں…
زیارت رجبیہ وناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے، اس کی والدہ کا نام خوصا بنت عمروکلابی منقول ہے، رجز پڑھتے ہوئے میدان کارزار میں آئے اورپندرہ ملاعین کو دارالبوار پہنچایا، آخر عبداللہ بن عروہ خثعمی نے ایک تیر مارا جس سے یہ زمین پرگرپڑے اوربشربن خوط ملعون نے اس مظلوم کا سرتن سے جداکردیا۔