منذر بن سلیمان
رجال‘‘ میں منذر بن سلیمان کو امام حسین ؑ کے اصحاب سے شمار کیا گیا ہے لیکن زیارت
رجبیہ میں منذر بن مفضل پر سلام وارد ہے، اب فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کاتب کی
لغزش ہے یا واقع میں شخص دو ہیں۔۔ واللہ اعلم
حصین بن نمیر کے قتل کے بعد تغلبی نوجوان نے شرجیل کو بھی واصل جہنم کیا، یہ بھی رئیس فوج تھا اور اب تو لڑائی کی گہماگہمی حد سے بڑھ گئی اور لوہے پر لوہے کی آواز آہن گروں کے بازار کی یاد کو تازہ کررہی تھی، گرز گرز پر۔۔ نیز ہ نیزہ پر اور…
س کا باپ مسعود مشاہیر شیعانِ علی ؑ میں سے تھا اورنہایت بہادرتھا، عبدالرحمن اپنے باپ مسعود کے ہمراہ ساتویں محرم کوزمین کربلامیں پہنچااوربروایت ابن شہرآشوب حملہ اولیٰ میں شہیدہوئے، زیارت ناحیہ مقدسہ میں ان دونوںپرسلام واردہے۔
اس شخص کو لایاگیا مختار نے پوچھا تو نے زینب عالیہ کے سر سے چادر اُتاری تھی؟ اس نے انکار کیا پس کی زندہ کھال اُتار لی گئی(مخزن البُکا)
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے اور جب امام حسین ؑ نے اس کو چھوڑ کر چلے جانے کی اجازت دی تھی تو اس نے جواب میں عرض کیا تھا کہ مجھے جنگلی درندے نوچ کر کھا جائیں اگر میں آپ ؑ کو چھوڑ کر چلا جائوں۔۔۔۔۔ ایسا ہرگز نہ کروں…
’’آمالی۔۔ صدوق‘‘ سے منقول ہے کہ وہب اور اس کی ماں نصرانی تھے امام حسین ؑ کے ہاتھ پر دونوں اسلام سے مشرف ہوئے۔۔۔ بحارالانوار سے منقول ہے کہ روز عاشور تک وہب کو شادی کئے ہوئے سترہ دن سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جب زوجہ وہب نے وہب کو آمادہ جہاد کیا تو…
یہ شخص عمرو بن خالد صیداوی کا آزاد کردہ غلام تھا۔۔ جب کوفہ میں قیس بن مسہر صیداوی نے امام ؑ پیغام پہنچایا تو یہ شخص اپنے آقا عمرو اور دیگر ہمراہیوں کے ہمراہ امام ؑ کے ساتھ جا ملا اور روز عاشور شہید ہوا۔