ابوالحتوف جعفی لعنہٗ اللہ
زخمی کیاتھا۔
نہایت بارُعب اور شجاع نامی گرامی تھا۔۔۔ ابومخنف سے مروی ہے کہ اس نے میدانِ قتال میں خوب جوہر شجاعت دکھائے اور پچاس ملاعین کو تہِ تیغ کیا اور درجۂ رفیعہ شہادت پر فائز ہوا۔
شہزادہ علی اکبر ؑ کی والدہ اُمّ لیلی دخترابو مرہ ابن عروہ ابن مسعود ثقفی تھیں؟ جناب اُمّ لیلی کی والدہ ابو سفیان کی لڑکی اور معاویہ کی بہن تھی جس کا نام میمونہ تھا، واقعہ کربلا میںشہزادہ علی اکبر ؑ کی عمر شریف کس قدرتھی؟ اس میں مورّ خین کے اقوال بہت مختلف ہیں: …
مقتل ابی مخنف سے منقول ہے کہ روز عاشور اس نے شیر غضبنا ک کی طرح قوم اشقیأ پر حملہ کیا اورایک ہی حملہ میں پچاس ملاعین کا سر قلم کرڈالا،آخر ہر طرف سے فوج یزید ی نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا اورنیزہ تلوار کے پے درپے واروں سے شہیدکرڈالا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
زیارتِ رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ یہ بزرگ سن رسیدہ اور نہایت عبادت گزار تھا، متعدد جنگوں میں حاضر ہو کر کافی تجربہ رکھتا تھا، اپنے دور میں شجاعت کے لحاظ سے بے نظیر تھا، روز عاشور جب بشر بن عمرو حضرمی کی شہادت ہو چکی تو یہ میدان کی طرف بڑھا اور…
یہ واقعہ اکثر کتب سیرمیں مذکورہے آقا شیخ ذبیح محلاتی نے ’’فرسان الہیجا‘‘ میں اس کو بروایت ابن الحدید سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں خطبہ پڑھا اوراس میں حضرت امیرالمومنین ؑ پر سبّ کیا؟ جب محمد بن حنفیہ کے کانو ں میں یہ خبر…