سہیل بن حریف خزاعی لعنہٗ اللہ
نے پوچھا تووہ ہے کہ قافلہ اسیران اہل بیت کے اونٹوں کومارتاتھا تاکہ تیز دوڑیں
اوراہل بیت کے اسیرگرپڑیں؟ اس نے انکار کیا لیکن مختار نے اس کے ہاتھ پائوں قلم
کرکے دھوپ میں اس کوڈال دیا اوروہ تڑپ تڑپ کرمرگیا۔
اس کی عمر ۱۲یا۱۳برس تھی واقعہ کربلامیں شہید ہوا ،زیارت ناحیہ میں ان پر سلام وارد ہے اس محمد کے علاوہ ہے جو کوفہ میں اپنے بھائی ابراہیم کے ساتھ ایک سال قید رہ کر شہید ہوا۔
یہ شخص عمرو بن خالد صیداوی کا آزاد کردہ غلام تھا۔۔ جب کوفہ میں قیس بن مسہر صیداوی نے امام ؑ پیغام پہنچایا تو یہ شخص اپنے آقا عمرو اور دیگر ہمراہیوں کے ہمراہ امام ؑ کے ساتھ جا ملا اور روز عاشور شہید ہوا۔
اس شخص کو لایاگیا مختار نے پوچھا تو نے زینب عالیہ کے سر سے چادر اُتاری تھی؟ اس نے انکار کیا پس کی زندہ کھال اُتار لی گئی(مخزن البُکا)
جب خیمہ میں پہنچے تو خیام کو صحیح و سالم دیکھا، بچوں کی صدائے العطش العطش جگر کو کباب کر رہی تھی، ایک سہ سالہ بچی پانی پانی کر رہی تھی، آپ ؑ نے اس کو تسلی دی، بچی نے عرض کیا بابا جان! آپ ؑ دریا سے میرے لئے کچھ پانی لائے ہیں؟ تو…
اس شخص کولایا گیا جس نے تازیانے مارے تھے اوراُمّ کلثوم و فاطمہ کے گوشوارے اُتارکرکانوں کوزخمی کیا تھا! مختار نے کہا توکوئی محرم تھا؟ پس آنکھیں نکلواکرہاتھ کاٹ کرتیل میں جلادیا۔
’’مقاتل الطالبین‘‘ سے مروی ہے کہ ابرہیم بن علی کی والدہ امّ ولد تھی اوریہ میدانِ کربلامیں شہید ہوا۔