ابوالشعثاء الکندی
شہسواری اور فن تیر اندازی میں اپنی آپ نظیر تھا اور اپنے دور کا عالم اور محدث
تھا۔۔۔ علاوہ بریں نہایت شریف، مردِ میدان اور دلیر تھا۔
نکال کر دشمنان دین پر حملہ آور ہوا جب اس کے گھوڑے کے پیر کاٹ دئیے گئے تو امام
پاک کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا اور تیراندازی شروع کی، ان کے سامنے ترکش میں
ایک سو تیر تھے اور سوائے پانچ تیروں کے سب نشانہ پر لگے۔
کیا۔۔۔ جب یہ شخص تیر مارتا تھا تو امام عالیمقام ؑ اس کو دعا فرماتے تھے اور صرف
تیروں سے ہی پانچ ملاعین کو فی النار کیا اور اس کے کل مقتولین کی تعداد چالیس سے
کچھ اوپر بیان کی گئی ہے۔۔ آخر کار درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
