علی بن عقیل
کو تہِ تیغ کر کے عبد اللہ بن قطنہ طائی کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا۔
شیعانِ بصرہ میں سے تھا روز عاشور جہاد کرکے شہید ہوا، کہتے ہیں کہ حجاج سعدی کے ہمراہ یہ بھی بصرہ سے آیا تھا، زیارت ناحیہ مقدسہ اس پر سلام وارد ہے۔
ذاکرین و واعظین کی زبان پر اس روایت کو شہرت حاصل ہے اگرچہ میں نے کسی معتبر مدرک میں اس کو نہیں دیکھا کہ شب یازدہم جناب زینب علیا وجناب امّ کلثوم نے جب بچوں کو ادھر ادھر سے تلاش کر کے جمع کیا تو ایک نشیب میں دو بچوں کو مو ت کی نیند…
اس نے کوفہ میں امیر مسلم کی بیعت کی تھی، جب کوفیوں نے بے وفائی کی تو یہ چھپا رہا۔۔ جب سنا کہ امام حسین ؑ اس طرف تشریف لارہے ہیں تو خفیہ طور پر وہاں سے نکلا اور امام حسین ؑ کی خدمت میں پہنچا اور روزِ عاشور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
حضرت امیر ؑ کے مشاہیرشیعہ میں سے تھا، شجاع۔۔ شہسواراورقاری قرآن تھا، حضرت مسلم کے کوفہ میں آنے کے بعد یہ ان کا دست وبازوتھا اورحضرت مسلم کی شہادت کے بعد گرفتارہوکر ابن زیاد کے پیش ہوا اوراس نابکار کے حکم سے قتل ہوکر درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
’’ناسخ التواریخ‘‘ سے منقول ہے کہ کوفہ میں حضرت علی ؑکے شیعوں میں سے ایک شخص عمیر بن عامر معلّم کو فی تھا جو بچوں کو پڑھاتا تھا اور یہی اس کا ذریعہ معاش تھا، ایک دن ایک عرب بدوی اس کے گھر آیا ایک پانی کا کوزہ بھرا ہوا دیکھا چونکہ وہ پیاسا تھا…