ا ہلِ حرم سے وداع کی دوسری روایت
کلْثُومٍ یَا رُبَاب اے خاندانِ رسول کی شہزادیو! اے دودمانِ عصمت وطہارت کی پردہ نشینو! میرا
آخری پیغام سنو؟ چنانچہ یہ آوازپہنچتے ہی تمام پردہ دارپروانہ دار شمعِ امامت کے
ارد گرد جمع ہوگئیں اورخاموشی سے مولاکے آخری فرمان کی منتظر ہوئیں چنانچہ آپ ؑ
نے اہل حرم پر ایک یاس وحسرت کی نظر کی اورفرمایا:
حافظ، میں تم کورونے سے منع نہیں کرتا
البتہ کہتاہوں کہ دامن صبر کوہاتھ سے نہ چھوڑنا۔
بے تحاشہ صدائے گریہ بلند ہوئی کہ ان کے گریہ سے ملائِ اعلیٰ کے باشندوں میں بھی
ماتم ہوا، جناب سکینہ خاتون کی عمر چونکہ چھوٹی تھی اپنی ماں سے دریافت کیا کہ یہ
گریہ وفغاں اورماتم وبیقراری کس وجہ سے ہے؟ تو ماں نے جواب دیا بیٹی کیا بتائوں
تیرا باپ موت کے لئے کمر بستہ ہے اورہمارے سرسے آقائے مظلوم کا سایہ اٹھنے
والاہے، سکینہ ؑ نے سنا تو فوراً باپ کے قدموں پرگرگئی اورعرض کیا بابا کیا میں
یتیم ہوجائوں گی؟ بتایئے آپ ؑ کے بعد میرا نگہبان اورپرسانِ حال کون ہوگا؟ امام ؑ
نے اپنی خوردسال بچی کو اٹھالیا سینے سے لگایا اورتسلی دی، سر پر ہاتھ پھیر کرجناب
زینب عالیہ سے فرمایا:
کیونکہ یتیموں کے دل نازک ہوتے ہیں، پس علی اصغر کو میدان میں لے گئے اوراس کی
شہادت کا قصہ مفصلا گزرچکا ہے، شہزادہ علی اصغر کی شہادت کے بعد پھر خیام میں
تشریف لائے۔
