سفیان بن مالک
نہیں۔
اس نے بیان کیا کہ میں کربلا میں نیزہ ہاتھ میں لے کر جنگ کرتا رہا لیکن میں نے قتل کسی کو نہیں کیا، پس بحکم مختار نیزہ سے ہی اس کے جسم کو پارہ پارہ کردیا گیا۔
ابن زیاد نے یزید کو واقعہ کربلاکی اطلاع بذریعہ ہر کارہ کے بھیجی تووہاں سے حکم پہنچا کہ شہدأ کے سروں کو بمعہ قافلہ اسیرانِ اہل بیت کے شام لے جائیں، چنانچہ زجربن قیس کو پچاس آدمیوں کے ہمراہ سروں پر نگران کرکے شام کو روانہ کیا، حضرت سجاد ؑکے ہاتھوں میں زنجیرڈالے گئے اورایک…
’’ابن عساکر‘‘ سے منقول ہے کہ اس کو صحبت جناب رسالتمآبؐ کا شرف بھی حاصل تھا اور پھر حضرت امیر ؑ کی فوج ظفر موج میں بھی شامل رہا ور کوفہ میں سکونت پذیر رہا یہاں تک کہ کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
’’کفایۃ الطالب‘‘ سے منقول ہے کہ اس کی والدہ رملہ بنت سلیل بن عبداللہ بجلی تھی، ابھی دائرہ بلوغ میں ان کا قدم یہی آیا تھا( بہر کیف یہ شہزادہ دس گیا رہ برس کے لگ بھگ ہی تھا) جب اپنے عم بزرگوارکو اپنے مقام پرنہ پایا توخیمہ سے نکل کر جلدی سے میدان کی…
جب حصین بن نمیر نے یہ منظر دیکھا تو یہ ملعون چونکہ لشکر کے میمنہ کا علمبردار تھا حکم دیا کہ ابرہیم کے لشکرہ کے میسرہ پر یکبار گی حملہ کریں، چنانچہ انہوں نے حملہ کیا اور ایک ہی حملے میں ابرہیم کی فوج کے کافی سپاہی مارے گئے، پس حصین میدان میں آگے کو…
’’مقاتل الطالبین‘‘ سے مروی ہے کہ ابرہیم بن علی کی والدہ امّ ولد تھی اوریہ میدانِ کربلامیں شہید ہوا۔