جسم اطہر
دس آدمی گھوڑو ں پر سوا ر ہو کر آگے بڑھے اور امام ؑ کی لاش کو پامال کیا:
حبوہ حضر می (۲) اخنس بن مرثد (۳) حکیم بن طفیل
صبیح (۵) رجا بن منقذ (۶) سالم بن خیثمہ (۷) صالح بن
وہب (۸) واخط بن ناعم (۹) ہانی بن ثبیت حضرمی (۱۰) اسید بن مالک
ہوئے یہ شعر پڑھا تھا:
اور سخت سموں والے تیز رو گھوڑے ان کے بدن پر دوڑائے؟ اور مروی ہے کہ یہ دس ملاعین حرامزادے اولادِ
زنا تھے۔
غلام قتل گاہ میں آیا تو امام مظلوم ؑ کی لاش کو خاکِ کربلا پر عریاں دیکھ کر
کہنے لگا خدا کی قسم یہ نہیںہوسکتا فرز ند رسول کا بدن بے کفن ہو؟ پس وہ کفن امام
ؑ کو پہنا دیا اور واپس جا کر زہیر کیلئے دوسرا کفن لایا، عمر سعدنے گیارہویں محرم
کو اپنے نجس مردوں پر جنازہ پڑھ کر ان کو دفن کیا اور قافلہ اسیرانِ اہل بیت کے
ساتھ اسی روز بعد از زوال کوچ کیا۔
القلوب ص ۱۱۲‘‘ میں ہے کہ جب قافلہ
اسیرانِ اہل بیت کا گزر قتل گاہ سے ہوا تو بیبیوں نے اپنے آپ کو اونٹوں سے گرا
دیااور لاشہ ہائے شہدأ پرپہنچیں، ’’قمقام‘‘ میںہے جونہی بیبیوں کی نظریں لاشہ
ہائے شہدأ پر پڑیں تو سر اور منہ پر پیٹنا شروع کر دیا اور جنا ب زینب عالیہ نے
اپنے نانا کو خطاب کر کے عرض کیا:
مُرَمَّلٌ باِلدِّمَائِ مُقَطَّعُ
الْاَعْضَائِ وَبَنَاتُکَ سَبَایَا۔
یہ تیرا حسین ؑ خا ک و خون میں غلطان ہے، جس کے اعضا ٹکڑے ٹکڑے کئے جا چکے ہیں اور
تیری شہزادیاں قید ہیں۔
قَتِیْلَ اَوْلَادِ الْبَغَایَا
شہید کر ڈلاہے۔
الْقَضَا مَسْلُوْبُ الْعِمَامَۃِ وَالرِّدَا۔
اور اس کے تن سے عمامہ اور ردا اُتار لی گئی ہے۔
کئے:
