ربیعہ بن خوط صحابی
عساکر‘‘ سے منقول ہے کہ اس کو صحبت جناب رسالتمآبؐ کا شرف بھی حاصل تھا اور پھر
حضرت امیر ؑ کی فوج ظفر موج میں بھی شامل رہا ور کوفہ میں سکونت پذیر رہا یہاں تک
کہ کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
مورّخین نے شہدائے کربلا کی فہرست میں کا نام بھی ذکر کیا ہے۔۔۔ تفصیل معلوم نہیں۔
اس کا ذکر شہادت عبداللہ بن عمیر کلبی کے بیان میں آئے گا۔
زیارت رجبیہ میں ان دونوں پر سلام وار دہے۔
عبداللّٰہ بن زبیر اور محمد بن حنفیہ یہ واقعہ اکثر کتب سیرمیں مذکورہے آقا شیخ ذبیح محلاتی نے ’’فرسان الہیجا‘‘ میں اس کو بروایت ابن الحدید سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں خطبہ پڑھا اوراس میں حضرت امیرالمومنین ؑ پر سبّ کیا؟ جب محمد بن…
صبح عاشور جب شہزادہ علی اکبر ؑ نے دیکھا کہ باپ تنہاہے اورقربانی کے بغیر چارہ نہیں حاضر خدمت ہوکرطالب اذنِ جہاد ہوا، پس امام عالیمقام ؑ نے اجازت دی ثَمَّ نَظَرَاِلَیْہِ نَظْرآئِسٍ مِنْہُ وَاَرْخٰی عَیْنَیْہِ وَبَکیٰ (ملہوف) امام مظلوم ؑ نے اپنے نوجوان فرزند کو سرسے پاؤں تک ایک مرتبہ مایوسانہ نگاہوں سے دیکھا…
یہ ملعون حضرت عبداللہ بن مسلم کا قاتل تھا، امیر مختار نے عبداللہ بن کامل کو اس کی گرفتاری کیلئے روانہ کیا اس نے فرار کرنے کی ہر چند کوشش کی لیکن فائدہ مند ثابت نہ ہوئی، عبداللہ بن کامل کے ساتھی ننگی تلواریں لے کر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کو گرفتار کر…