دھوکہ اور فریب کاری

 دھوکہ اور فریب کاری

انسانی عیوب میں سے دھوکا دہی اور فریب کاری ایک بد تری ن عیب ہے  بلکہ انسانیت کے خوشنما چہرے پر اس سے زیادہ بد
نما داغ کوئی بھی نہیں کیونکہ معاشرہ انسان کی تباہ کاری اور امن و سکون کے بجائے
بے چینی اور بد امنی کی ہمہ گیری و فراوانی میں اس صگت بد کو بہت زیادہ دخل ہے
کیونکہ صفات مذمومہ کے چاروں اصول یعنی حسد، حرص، غضب اور شہوت اس کے محرک ہوا
کرتے ہیں جب کہ باقی گناہ ان چاروں اصول میں سے کسی خاص ایک اصل کی ہی پیداوار
ہوتے ہیں کیونکہ بعض گناہ صرف جسد کی وجہ سے ہوتے ہیں بعض گناہوں کو شہوت جنم دیتی
ہے لیکن دھوک اور فریب کاری ایسا گناہ ہے جس کا محرک بعض اوقات حسد ہوتا ہے کیونکہ
جس کے ساتھ حسد ہو اسے دھوکا اور فریب کے ذریعے سے زیر کیا جاتا ہے بعض اوقات بلکہ
عموماً اس بری عادت کا محرک حرص و لالچ ہوتا ہے کیونکہ دھوکا و فریب کے ذریعے جلب
منفعت کو کامیاب زندگی تصور کیا جاتا ہے اور گھٹیا قسم کے لوگوں کے لئے انسانی
معاشرہ میں کاروباری معاملات کے لئے کامیاب ترین حربہ دھوکا و فریب ہی کو خیال کیا
جاتا ہے بلکہ اقتدار کی ہوسی پرستی کا بھی کامیاب ترین زینہ یہی صفت بد ہے اور
لطفیہ کہ آج کل کے بدلے  ہوئے معیار شرافت
کے پیش نظر بہترین سیاستدارن اور عوام کی قیادت کے لئے موزوں ترین انسان اسی شخص
کو سمجھا جاتا ہے اور جو دھوکا اور فریب کاری میں اپنی مثال آپ ہو نیز بازاریوں
،کاروباریوں اور میدان سیاست کے کھلاڑیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اپنے قریب ترین
ساتھی سے دھوکا کرنا بھی دانئی زندہ دلی اور روشن خیالی سمجھی جاتی ہے جب کہ ایسا
نہ کرنا سادگی و فرسودگی شمار ہوتی ہے اور اگر آپ گہری نظر سے معاشرہ انسانیہ کا
جائزہ لیں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ بھائی بھائی سے ، دوست دوست سے ، باپ بیٹے سے
، بیٹا باپ سے، ماں بیٹی سے ، بیٹی ماں سے ، شوہر بیوی سے ، بیوی شوہر سے ، ہمسایہ
ہمسایہ سے ، حاکم محکوم سے ، محکوم حاکم سے ، استاد شاگرد سے، شاگرد استاد سے ،
وکیل موکل سے ، موکل وکیل سے ، مزدور کارخانہ دار سے ، کارخانہ دار مزدور سے ،
بائع مشتری سے ، مشتری بائع سے ، زمیندار کاشتکار سے ، کاشتکار زمیندار سے ، ذاکر
بانی مجلس سے ، بانی مجلس ذاکر سے ، عوام حکام سے اور حکام عوام سے دھوکا اور فریب
کاری کا شکوہ کرتے نظر آئیں گے غرضیکہ جس کو جس سے کسی حد تک واسطہ ہے تجربہ کرنے
کے بعد وہ اس کی دھکو دہی پر نالاں و پریشان دکھائی دیتا ہے جس کا نتیجہ انتقامی
حالات کے پیش نظر فساد و فتنہ تک منتہی ہوتا ہے اور جس طرح ہمارے بیان کے مطابق
حسد و حرص اس صفت بد کی تحریک کرتے ہیں اسی طرح غضب اور شہوت کو بھی دھوکا اور
فریب کاری میں اساس و بنیاد کی حیثیت حاصل ہے ۔

پھر دھوکا اور فرہیب کاری کن کن صورتوں 
میں نمایاں ہوتے ہیں ؟ اس کی بھی لمبیی فہرست ہے لیکن نمونہ کو سمجھ لینے
کے بعد تفصیلات کی ٹوہ لگانا آسان ہے چانچہ عہد شکنی اسی دھوکا اور فریب کاری کا
ایک ادنیٰ کرشمہ ہے ہے ملاوٹ خواہ اشیاء خوردنی و نشیدنی میں ہو زندگی کے باقی
شعبہ جات کے لئے استعمال لائی جانی والی اشیا میں ہو اسی دھوکا فریب کاری کی بد
ترین مثالیں ہیں دودھ میں پانی بلکہ پانی میں دودھ کی روایت تو ایک عام اور بہت
پرانی رسم ہے ۔پرانی اور ردی گندم کو اچھی میں ملاکر اعلٰی نرخ پر فروخت کرنا بلکہ
ہر ردی کو اعلٰی میں ملا کر اعلٰی کے دام وصول کرنا کاروباری دنیا کا اصول بن چکا
ہے ۔ کیکر کے کوفتہ پھول ڈبیہ میں بند اوپر پسی ہوئی اعلٰی سرخ مرچ کا لیبل ہم نے
اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے پسی ہوئی مٹی مومی لفافہ میں بند کو نمک سمجھ کر ہم نے
خود خریدا ہے غرضیکہ جملہ صنعت کار سوائے شاذو نادر افراد کے ردی مال کو کھرے مال
میں ملا کر کھرے مال کے دام وصول کرنے کے عادی ہو چکے ہیں ہمارے ملک میں اپنے  ملک کی مصنوعات کو اس لئے گری ہوئی نگاہوں سے
دیکھا جاتا ہے کہ اس ملک کے صنعت کار دھوکا و فریب کاری کو جلب زر کا وسیلہ سمجھتے
ہیں اور دوسرے ممالک کی مصنوعات کو بالعموم ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ ان کے صنعت
کار کسی حد تک انسانی ہمدردی اور حقوق انسانی کی پاسداری کی پرواہ کرتے ہوئے ملاوٹ
بہت کم کرتے ہیں ۔ اس گرانی کے دور میں تو زہر بھی خالص تلاش کرنا ناممکن ہے ۔

پہلے کسی حد تک تسلی ہوا کرتی تھی کہ دوائیوں میں انسانی جانوں کی حفاظت کے
پیش نظر کچھ نہ کچھ خیال رکھا جاتا ہے لیکن بد قسمتی سے دور حاضر نے یہی رہی سہی
سمید کی کرن بھی نا پیدا کر دی ہے خدا کرے انسان اپنی قدروں کو سمجھے اور اس صفت
بد سے باز آنے کی سعادت حاصل کرے یقیناً وہ دن معاشرہ انسانی کے لئے عید کا دن ہو
گا جس دن دھوکا کی بجائے انسانی معاشرہ خلوص اور نیک نیتی کو بدل و جان اپنا لے گا
۔

 

 

Similar Posts

  • قضائے حاجت مومن

    قضائے حاجت مومن ایک مومن پر دوسرے مومن کے حقوق کی فہرست بہت طولانی ہے  بعض کا ذکر ہوچکا ہے اور ان حقوق میں سے کسی حاجت مند مومن کی حاجت براری چونکہ نہایت اہم ہے اس لئے اس کو انفرادی طور پر بیان کرنا خالی از فائدہ نہیں  ایک دن حضرت امام موسیٰ کاظم…

  • صدق

    صدق یعنی سچائی  اور اس کے تین مراحل ہیں نیت  میں سچائی  قول میں سچائی اور عمل میں سچائی  اور پوراسچاانسان وہہے جو تینوں مراحل میں صادق ہو  کیونکہ نیت میں سچائی ہوگی تو منافقت  سے بچ جائے گا قول میں سچائی ہوگی تو جھوٹ سے بچ جائے گا اور عمل میں سچائی ہوگی توخدا…

  • تاجر اور خیانت

    تاجر اور خیانت اس میں شک نہیں کہ خیانت بذات خود ایک بری صفت ہے خواہ تاجر میں پائی جائے یا کسی اور میں پائی جائے لیکن حدیث میں تاجر سے اس اس کی نسبت اس لئے ہے کہ تاجر کاکام ہمیشہ لوگوں کے اموال سے ہی چلتا ہے جس میں خیانت کے مواقع زیادہ…

  • رشوت

    رشوت فرائض سے کوتاہی کی بد ترین محرک رشوت ہوا کرتی ہے جس کو شریعت مقدسہ اسلامیہ نے حرام اور سحت قرار دیا ہے پس رشوت لینا بھی حرام ہے کیونکہ فرائض ناشناسی اور انسانی اقدار کی پامالی کے لئے یہ پیش خیمہ ہے اور رشوت دینا بھی حرام ہے کیونکہ اس میں دوسروں کو…

  • مکارم اخلاق

     مکارم اخلاق حضرت امام محمد باقر علیہ السلام  نے فرمایا کہ جناب  رسالتمآبُ نے حضرت علی علیہ السلام  کو چند وصیتیں فرمائیں  1سچ بولنا  کہ تمہاری زبان کذب آشنانہ ہو  2درع    پرہیزگاری  کبھی تم سے خیانت نہ ہو 3 اللہ کا خوف اس طرح رکھو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو   4خوف خدا سے…

  • صفات ثبوتیہ

    صفات ثبوتیہ ·        صفات ثبوتیہ پروردگار جن کو اسکی ذات سے الگ  نہیں مان اجاتا بلکہ اس کی عین ذات ہیں ·        اللہ قدیم ہے اس کی ذات پرکبی عدم جاری نہیں ہوا اور نہ کوئی چیز اس سے پہلے ہے  پس وہ سب سے پہلے اور ہمیشہ ہے  اور تمام مخلوق کو اسی ایک…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *