جب امیر مختار نے کوفہ کو دشمنانِ حسین ؑ سے پاک صاف کر دیا باختلاف روایات ابرہیم بن مالک اشتر کو ۹، ۱۲ ، ۲۰ہزارکے لگ بھگ فوج دے کر ۲۲ذوالحجہ کوابن زیادکے مقابلہ کے لئے روانہ کیا، مختارخود ابراہیم کی مشایعت کے لئے شہرسے باہر تک آیا پس ابراہیم کوچند ہدایات دے کرروانہ کیا اورخود واپس آگیا، چنانچہ ابراہیم نہایت تیزی سے سفر کرکے نہرخازر کے کنارہ پرپہنچاکہ یہاں سے موصل پانچ فرسخ یعنی ۱۵میل دورتھا۔
اس طرف ابن زیادبروایت سبط بن جوزی تیس ہزار اوربروایت ابن نمااَسّی ہزار جنگجو فوج کے ہمراہ موصل پرحملہ آورہوا اوراس کوفتح کرکے آگے بڑھا اورابراہیم کے لشکرگاہ کے مقابلہ میں فروکش ہوا۔
عمیر سلمی جو سردارانِ لشکرابن زیاد میں سے تھا اوردل سے مروانیوں کو برا سمجھتا تھا اس نے ابرہیم کوپیغام بھیجا کہ میں آج رات کوتیری ملاقات کے لئے آئوں گا، جب رات ہوئی توعمیرایک شخص فرات بن ابرہیم نامی کے ہمراہ ابرہیم کی جانب روانہ ہوا راستہ میں ابن زیادکے فوجی پوچھتے توجواب میں کہتاتھا کہ ہم حصین بن نمیرکی فوج کے پیشرو ہیں، پس جب ابرہیم کے پاس پہنچے توابرہیم کی بیعت کی اورعمیرنے کہاکہ میراتمام قبیلہ بنی مروان کا دشمن ہے اورمیں فوج ابن زیاد کا علمبردارہوں، پس جب کل کے دن آتش حرب شعلہ زن ہو توآپ میسرہ لشکرابن زیاد پرحملہ کریں ہم بھاگ جائیں گے اورآپ کی فتح ہوگی اورابراہیم جانتے تھے کہ عمیر سچ کہہ رہاہے۔
اس رات ابراہیم نے نیند نہ کی اور ساری رات اپنی فوج کو دشمنانِ دین سے جہاد کرنے کیلئے اُبھارتا رہا اور امام مظلوم ؑ کی مظلومی کی داستان دہرادہرا کر مومنوں کو انتقام پر آمادہ کرتا رہا اور کہا خدا کی قسم فرعون نے بنی اسرائیل پر وہ ظلم نہیں کیا تھا جو ان لوگوں نے عترتِ رسولؐ پر کئے ہیں؟
جب صبح نمودار ہوئی تو نماز صبح ادا کی اور لڑائی کیلئے صف آرائی کی اور طرفین سے جنگ شروع ہوئی، پہلے پہل ابن زیاد کی فوج کی جانب سے ابن ضبعان نامی ایک شخص نکلا اور رجز خوانی کرتا ہوا آگے بڑھا، اس طرف ابراہیم کی فوج سے ایک شخص احوص بن شداد ہمدانی رجز پڑھتا ہو آگے بڑھا اور شامی سے پوچھا تیرا نام کیا ہے؟ تو اس ملعون نے کہا میرا نام ہے منازل الابطال (بہادروں کو پچھاڑنے والا) پس احوص نے کہا میرا نام ہے مقرب الآجال (موتوں کے قریب کرنے والا ) پس ایک ہی ضربت سے اس کوفی النار کیا، پھر دوسرا شخص دائود نامی آگے بڑھا احوص نے اس کو بھی ایک جنبش تلوار سے جہنم پہنچا دیا۔
Leave a Reply