زیادبن مالک ضبعی، عمر بن خالد غنوی، عبد الرحمن بن ابی خشکارہ بجلی، عبد اللہ بن قیس خولانی لعنہم اللّٰہ
ان حرامزادو ں نے خیام کی بے حرمتی کی تھی اور زیوارات و پارچات لوٹے تھے، مختار نے ان سے بیان لے کر ان کو سرِ بازار تہ ِتیغ کیا۔
ان حرامزادو ں نے خیام کی بے حرمتی کی تھی اور زیوارات و پارچات لوٹے تھے، مختار نے ان سے بیان لے کر ان کو سرِ بازار تہ ِتیغ کیا۔
جب مختار نے خروج کیا تو عمر بن سعد پوشیدہ ہو گیا تھا اور عبد اللہ بن جعدہ بن ہبیرہ سے اس نے خواہش کی کہ مختار سے میرے لئے امان نامہ کی سفارش کیجئے؟ (یہ عبد اللہ بن جعدہ حضرت امیرالمومنین ؑ کا بھانجا تھا اور مختار کا مقرب خاص تھا) چنانچہ بعض وجوہ…
اس ملعون نے انگوٹھی کے لالچ میں امام مظلوم ؑ کی انگلی کو شہید کیاتھا، جب گرفتار ہو کر مختار کے سامنے پیش کیا گیا اور اس کے ظلم کی نوعیت بیان کی گئی تو مختار بہت رویا، پس اس کی انگلیوں کو اور پھر ہاتھ پائوں کو قطع کرنے کا حکم دیا اور اسی…
اس نے بیان کیا کہ میں کربلا میں نیزہ ہاتھ میں لے کر جنگ کرتا رہا لیکن میں نے قتل کسی کو نہیں کیا، پس بحکم مختار نیزہ سے ہی اس کے جسم کو پارہ پارہ کردیا گیا۔
اس کو مختار کے سامنے لایا گیا تو اس نے پوچھا تو وہ ملعون ہے جو راہ شام میں مظلوم ؑ کے سر کو نیزہ پر سوار کرتا تھا؟ اور زینب عالیہ کی پشت پر تازیانہ بھی مارتا تھا؟ تو اس نے انکار کیا پس مختار نے اس کا بند بند جدا کر کے اس…
یہ ملعون حضرت عبداللہ بن مسلم کا قاتل تھا، امیر مختار نے عبداللہ بن کامل کو اس کی گرفتاری کیلئے روانہ کیا اس نے فرار کرنے کی ہر چند کوشش کی لیکن فائدہ مند ثابت نہ ہوئی، عبداللہ بن کامل کے ساتھی ننگی تلواریں لے کر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کو گرفتار کر…
اس ملعون نے امام مظلوم ؑ کی چادر اُتاری تھی اور اس نے عبداللہ بن کامل سے پناہ لی تھی اور اس کے گھرمیں پنہاں تھا، مختار کو بھی خفیہ ذریعے سے معلوم ہو گیا لیکن خاموش رہا کیونکہ عبداللہ بن کامل اس کے مخصوص دوستوں میں سے تھا، ایک دن عبداللہ بن کامل سے…
اس ملعون نے میدانِ کربلا میں بہت ظلم کئے، چنانچہ جب امام مظلوم ؑ تپتی زمین پرزخمی جسم کے ساتھ نہایت اطمینان وسکون محوِ مناجات پروردگارتھے تو اس حرامزادے نے آپ ؑ پر نیزہ کا ایک وارکیا جو امامؑ کی ہنسلی میں لگا اورسینہ اقدس میں سوراخ کرگیا، پھر دور ہٹ کرایک تیر مارا جو…
یہ شخص فرارکرگیا تھا اوراس کے مکانات اورعالی شان محلات قادسیہ میں تھے، پس مختارکے حکم سے ان کومنہدم ومسمارکردیاگیا۔
یہ ابوبکربن حسن ؑبن علی ؑکا قاتل تھا، خود بھاگ گیا تھا اورمختارکے حکم سے اس کا گھر ویران کردیا۔