ربیعہ بن خوط صحابی
’’ابن عساکر‘‘ سے منقول ہے کہ اس کو صحبت جناب رسالتمآبؐ کا شرف بھی حاصل تھا اور پھر حضرت امیر ؑ کی فوج ظفر موج میں بھی شامل رہا ور کوفہ میں سکونت پذیر رہا یہاں تک کہ کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
’’ابن عساکر‘‘ سے منقول ہے کہ اس کو صحبت جناب رسالتمآبؐ کا شرف بھی حاصل تھا اور پھر حضرت امیر ؑ کی فوج ظفر موج میں بھی شامل رہا ور کوفہ میں سکونت پذیر رہا یہاں تک کہ کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے لیکن ’’ناسخ‘‘ سے منقول زیاد بن مصاہر کندی ہے جس نے لشکر اعدا پر حملہ کر کے نو (۹)افراد کو فی النار کیا اور پھر شہید ہوا ۔۔۔ واللہ اعلم
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے اور یہ روزِ عاشور حملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ باقی اس کے حالات نہیں مل سکے۔
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
اپنے زمانہ کے نامی گرامی شہسواروں اور آزمودہ کاربہادروں میں سے تھے۔۔۔ نہایت فصیح و بلیغ خطیب اور امام عالیمقام ؑ کے وفادار رفیق تھے۔۔۔ امام ؑ نے ان کو اپنے لشکر کے میمنہ پر متعین فرمایا تھا۔۔ امام ؑ کی فوج میں یہ شخص بڑا دلیر، جری، جنگجو اور بابصیرت سپاہی تھا۔۔۔ کسی بڑے…
اس کا ذکر شہادت عبداللہ بن عمیر کلبی کے بیان میں آئے گا۔
اس کی کنیت ابوعمر تھی اور قبیلہ ہمدان سے تھا۔۔۔’’ استیعاب و دیگر کتب‘‘ میں ہے کہ اس کا باپ صحابی رسول تھا اور ’’اصابہ‘‘ سے منقول ہے کہ عریب کا بیٹا بھی رسول کی صحبت کا شرف رکھتا ہے جو میدانِ کربلا میں امام حسین ؑ کے ہمرکاب شہید ہوا، ’’رجال مامقانی‘‘ سے منقول…
اس کا ذکر وہب کلبی کی شہادت کے بیان میں آئے گا۔
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام ہے۔۔۔ ’’منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ عامر بن مسلم اور اس کا غلام سالم شیعان بصرہ میں سے تھے اور حملہ اولیٰ میں شہید ہوئے، یہ دونوں اور سیف بن مالک، ادہم بن امیہ، یزید بن ثبیت اور اس کے دونوں بیٹے سب اکٹھے بصرہ سے…