Mindblown: a blog about philosophy.
-
زیاد بن عریب صحابی
اس کی کنیت ابوعمر تھی اور قبیلہ ہمدان سے تھا۔۔۔’’ استیعاب و دیگر کتب‘‘ میں ہے کہ اس کا باپ صحابی رسول تھا اور ’’اصابہ‘‘ سے منقول ہے کہ عریب کا بیٹا بھی رسول کی صحبت کا شرف رکھتا ہے جو میدانِ کربلا میں امام حسین ؑ کے ہمرکاب شہید ہوا، ’’رجال مامقانی‘‘ سے منقول…
-
زوجہ وہب کلبی
اس کا ذکر وہب کلبی کی شہادت کے بیان میں آئے گا۔
-
سالم مولیٰ عامر بن مسلم
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام ہے۔۔۔ ’’منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ عامر بن مسلم اور اس کا غلام سالم شیعان بصرہ میں سے تھے اور حملہ اولیٰ میں شہید ہوئے، یہ دونوں اور سیف بن مالک، ادہم بن امیہ، یزید بن ثبیت اور اس کے دونوں بیٹے سب اکٹھے بصرہ سے…
-
سالم مولیٰ بنی المدینہ
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ بنی المدینہ جو قبیلہ قلب کی ایک شاخ تھے سالم ان کا غلام تھا اور انہوں نے اس کو آزاد کر دیا تھا، یہ شیعانِ کوفہ میں سے تھا جب حضرت مسلم کوفہ میں تشریف لائے تو یہ ان کی بیعت میں داخل ہوا جب حضرت…
-
سعد مولیٰ عمرو بن خالد صیداوی
یہ شخص عمرو بن خالد صیداوی کا آزاد کردہ غلام تھا۔۔ جب کوفہ میں قیس بن مسہر صیداوی نے امام ؑ پیغام پہنچایا تو یہ شخص اپنے آقا عمرو اور دیگر ہمراہیوں کے ہمراہ امام ؑ کے ساتھ جا ملا اور روز عاشور شہید ہوا۔
-
سعد بن بشر حضرمی
’’ناسخ التواریخ‘‘ سے اس کا شہدائے کربلا میں سے ہونا مذکوہ ہے۔۔ حالات کی تفصیل کا کوئی علم نہیں۔
-
سعد بن حارث
ابوالحتوف کے بیان میں گزر چکا ہے کہ سعد بن حارث اور یہ دونوں بھائی خوارج میں سے تھے، عمر بن سعد کی فوج میں بھرتی ہو کر کربلا پہنچے، روزِ عاشور امام عالیمقام کے استغاثہ اور آل اطہار کی صدائے گریہ زاری سے متاثر ہو کر تائب ہوئے اور امام ؑ کی خدمت میں…
-
سعد بن حنظلہ تمیمی
’’نفس المہموم و منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ یہ شخص امام حسین ؑ کے لشکر کے سربرآوردہ افراد میں سے تھا۔۔ روز عاشور مردانہ جہاد کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا لیکن اس کے مقتولین کی تعداد نہیں بیان کی گئی۔
-
سعد بن حارث صحابی مولیٰ امیرالمومنین ؑ
’’اصابہ‘‘ سے منقول ہے کہ یہ شخص حضرت امیر ؑ کا غلام تھا کوفہ میں حضرت امیر ؑ کی طرف سے پولیس کا افسر مقرر تھا اور پھر آپ ؑ نے اس کو آذربائیجان کا والی مقرر کیا تھا، اس کو جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی حاصل تھا، حضرت امیر ؑ کے بعد…
-
سلمان بن مضارب
یہ زہیر بن قین کا چچازاد بھائی تھا۔۔۔ جس وقت وہ امام ؑ کی خدمت میں آیا تھا اس وقت سے یہ بھی امام ؑ کے ہمرکاب ہو گیا تھا اور روز عاشور درجہ رفیعہ شہادت پر فائز ہوا۔
Got any book recommendations?