anwarulnajaf.com

Mindblown: a blog about philosophy.

  • حارث بن نوفل لعنہٗ اللہ

    اس نے جناب زینب عالیہ کے بدن پر تازیانہ مارا تھا، پس اس کو ہزار تازیانہ مروا کر داخل آگ کیا گیا کہ وہ جہنم میں پہنچ گیا۔

  • یزید بن مطرح لعنہٗ اللہ

    اس کو لایا گیا مختار نے کہا تووہ ہے کہ عورتوں کی پشت پر نیزہ مارکر ان کوخیموں سے باہر نکالتاتھا؟ اس نے انکارکیا لیکن مختارنے اس کی زبان کاٹ کرپھر ٹکڑے کرادیا۔

  • مالک بن نسر لعنہٗ اللہ

    مختار کو اطلاع دی گئی کہ قادسیہ میں مالک بن نسر رہتا ہے جس نے امام حسین ؑ  کے فرق اطہر پر تلوار ماری تھی؟ نیزآپ ؑ کی خون آلود ٹوپی بھی اسی نے لے لی تھی! اور وہاں امام حسین ؑ کے قاتلین میں سے دواور شخص اس کے ہمراہ رہتے تھے ایک کا…

  • بکر بن عامر لعنہٗ اللہ

     مختار نے پوچھا تووہ ہے جوعورتوں کوپیدل دوڑاتاتھا اورننگے پائوں ان کوچلنے کو کہتاتھا؟ پس اس کو لٹا کراوپرسے کچل دیا گیا ۔

  • اسد بن مالک لعنہٗ اللہ

    مختار نے پوچھا تو نے سکینہ کے سرسے مقنعہ اُتاراتھا؟ اس نے انکارکیا اس کے ہاتھ انگلیوں کو کا ٹ کرہزار تازیانہ مروایا۔

  • عمر لعنہٗ اللہ

    اس شخص کولایا گیا جس نے تازیانے مارے تھے اوراُمّ کلثوم و فاطمہ کے گوشوارے اُتارکرکانوں کوزخمی کیا تھا! مختار نے کہا توکوئی محرم تھا؟ پس آنکھیں نکلواکرہاتھ کاٹ کرتیل میں جلادیا۔

  • ابن نوفل لعنہٗ اللہ

    مختار نے پوچھا کہ تونے فضہ کوتازیانہ مارکراس کا بازوتوڑاتھا؟ پس ہزار تازیانہ ماراگیا۔۔ ہاتھ کاٹے گئے وہ فی النار ہوا۔

  • عبداللہ بن معاذ لعنہٗ اللہ

    جس نے فاطمہ دختر حسین ؑ کے گوشوارے اُتارے کان زخمی کئے، مختار نے پوچھا تووہ ہے کہ ظلم کرکے کہتا تھا اگر میں نہ کروں توکوئی اورلے جائے گا؟ پس روتابھی تھا اورظلم بھی کرتاتھا؟ پس اس کے اعضاکاٹ کر اس کوماراگیا کہ گو شت اترگیا اورپگھلا ہوا سکّہ اس کے حلق میں ڈال…

  • شمربن ذی الجوشن لعنہٗ اللہ

    یہ انسان نماکتایک چشم اورمبروص تھا اوراس کے بال مثل خنزیر کے بالوں کے تھے، جب بروز عاشور حضرت سیدالشہدأ کے سینہ پر سوارہوا توامام مظلوم ؑ نے آنکھ کھولی اورفرمایا تو کون ہے؟ جواس بلند مقام پر سوارہوا ہے جو پیغمبر کی بوسہ گا ہ ہے؟ کہنے لگا میں شمر بن ذی الجوشن ضبابی…

  • حرملہ بن کاہل ملعون

    منہال بن عمروسے روایت ہے کہ میں حج بیت اللہ سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ میں حضرت امام زین العابدین ؑ کی زیارت سے مشرف ہوا، آپ ؑ نے دریافت فرمایا کہ حرملہ بن کاہل کا کیا ہوا؟ تو فوراً میرے ایک ساتھی بشربن غالب اسدی نے جواب دیا کہ ہم کوفہ میں اسے زندہ…

Got any book recommendations?