ضبیعہ بن عمر
کربلا میں سے ہے۔
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ بنی المدینہ جو قبیلہ قلب کی ایک شاخ تھے سالم ان کا غلام تھا اور انہوں نے اس کو آزاد کر دیا تھا، یہ شیعانِ کوفہ میں سے تھا جب حضرت مسلم کوفہ میں تشریف لائے تو یہ ان کی بیعت میں داخل ہوا جب حضرت…
زیارت رجبیہ اور زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے یہ شخص انصاری قبیلہ خزرج سے ہے، اس کے دو بھائی ایک نضربن عجلان اور دوسرا نعمان بن عجلا ن حضرت امیر ؑ کے صحابہ میں سے تھے جنہوں نے جنگ صفین میں خوب داد شجاعت دی، یہ تینوں بھائی نامی گرامی بہادر…
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام ہے۔۔۔ ’’منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ عامر بن مسلم اور اس کا غلام سالم شیعان بصرہ میں سے تھے اور حملہ اولیٰ میں شہید ہوئے، یہ دونوں اور سیف بن مالک، ادہم بن امیہ، یزید بن ثبیت اور اس کے دونوں بیٹے سب اکٹھے بصرہ سے…
امام عالیمقامؑ نے عالم تنہائی میں آخری اِستغاثہ کے وقت اپنے جن جن صحابہ کو نام لے کر پکارا ہے ا ن میں سے ایک یہ بھی تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی سر برآوردہ جانثاروں اور بلند مرتبہ فداکاروں میں سے تھے ورنہ امام پاک ایسے آڑے وقت میں ان کو…
ان کے شہدائے کربلا میں درج ہونے میں اختلاف ہے لیکن بہت سے علمائے تاریخ مثلاً ابن شہرآشوب، ابومخنف، علامہ مجلسی، مامقانی، شیخ عباس قمی اورصاحب ناسخ نے ان کو شہدائے کربلا میں سے شمارکیا ہے، جیساکہ مناقب، بحارالانوار اورنفس المہموم میں ہے ان کی والدہ ماجدہ صہبا تغلبیہ تھیں جن کی کنیت اُمّ حبیبہ…
عبدالرحمن بن عروہ اور اس کا بھائی عبداللہ بن عروہ نہایت شجاع بارعب اور ہردلعزیز تھے، ان کا باپ حضرت امیر ؑ کے صحابہ میں سے تھا اور جنگ جمل صفین اور نہروان میں حضرت علی ؑ کے ہمرکاب تھا، یہ دونوں بھائی خدمت امام ؑ میں اس وقت پہنچے جب آپ ؑ کربلا میں…