ضبیعہ بن عمر
کربلا میں سے ہے۔
بناپرمشہور مختار کی طرح قید میں تھے اس لئے واقعہ ہائلہ کربلامیں شریک نہ ہوسکے۔
عبداللّٰہ بن زبیر اور محمد بن حنفیہ یہ واقعہ اکثر کتب سیرمیں مذکورہے آقا شیخ ذبیح محلاتی نے ’’فرسان الہیجا‘‘ میں اس کو بروایت ابن الحدید سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن زبیر نے مکہ میں خطبہ پڑھا اوراس میں حضرت امیرالمومنین ؑ پر سبّ کیا؟ جب محمد بن…
امیرمختار نے کوفہ کی حکومت سنبھالنے کے بعداٹھارہ ماہ کے عرصہ میں قاتلین امام مظلوم ؑ میں سے اٹھارہ ہزار ملاعین کوتہِ تیغ کیا اگر ان کوساتھ ملایاجائے جنہیں ابراہیم بن مالک اشتر نے نہر خازرکے کنارے پرقتل کیا تھا تومقتولین کی کل تعدادسترہزار سے بڑھ جاتی ہے، اس دوران عبداللہ بن زبیرمکہ میں اوراس…
زیارت رجیہ میں اس پر بھی سلام وار دہے۔
حلاس بن عمرو کے بیان میں اس کا ذکر ہو چکاہے۔
زیارت رجبیہ وناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے، اس کی والدہ کا نام خوصا بنت عمروکلابی منقول ہے، رجز پڑھتے ہوئے میدان کارزار میں آئے اورپندرہ ملاعین کو دارالبوار پہنچایا، آخر عبداللہ بن عروہ خثعمی نے ایک تیر مارا جس سے یہ زمین پرگرپڑے اوربشربن خوط ملعون نے اس مظلوم کا سرتن سے جداکردیا۔