عبدالرحمن الیزنی
جاکر اس نے جہاد کیا اور چند ملاعین کو تہِ تیغ کر کے شہید ہوا۔
اس نے اصحاب حسین ؑپر بارہ تیرمارے تھے یہ خود بھاگ گیا تھا، پس مختارنے اس کا گھر منہدم کردیا۔
اس حرامزادے نے امام مظلوم ؑ کے پہلوپرنیزہ ماراتھا۔
سبط بن جوزی نے تذکرہ میں ان کوشہدائے کربلامیں شمارکیاہے۔
ابن حجر عسقلانی سے ’’اصابہ‘‘ میں منقول ہے کہ یزید بن مغفل بن عوف بن عمیر بن کلیب بن ذہل بن سیاربن بستہ بن وئل بن سعد بن عامر بن جعف بن سعد العشیرہ مدحجی جعفی صحابہ رسو ل میں سے تھا، یہ اوراس کا بھائی زہیربن مغفل خلافت ثانیہ کے زمانہ میں جنگ قادسیہ…
مورّخین نے شہدائے کربلا کی فہرست میں کا نام بھی ذکر کیا ہے۔۔۔ تفصیل معلوم نہیں۔
مشرق قبیلہ ہمدان کی ایک شاخ ہے، جب امام حسین ؑ اورآپ ؑ کے انصار اصحاب وعیال پر پیاس کا غلبہ ہوا تو اس نے امام ؑ سے اجازت طلب کی کہ پانی کے موضوع پر ابن سعد سے گفتگو کرنا چاہتاہوں، آپ ؑ نے اجازت دی یہ شخص زہدو تقویٰ میں مقام بلند رکھتاتھا،…