عبدالرحمن الیزنی
جاکر اس نے جہاد کیا اور چند ملاعین کو تہِ تیغ کر کے شہید ہوا۔
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ شخص شہدائے کربلامیں سے تھا اوریہ وہی عقبہ بن سمعان ہے جس کوحُرکی ملاقات کے وقت آپ نے فرمایا تھا کہ وہ تھیلالائو جس میں کوفیوں کے خطوط ہیں پس اسی نے ہی یہ تھیلاپیش کیا تھا، بعض روایات میں…
’’مقاتل الطا لبین‘‘ سے مروی ہے کہ یہ اورحضرت قاسم یک مادرے بھائی تھے حضرت قاسم کی شہادت کے بعد شہید ہوئے اوراس کو عبداللہ بن عقبہ غنوی نے شہید کیا۔۔۔ زیارت ناحیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
اس نے کوفہ میں امیر مسلم کی بیعت کی تھی، جب کوفیوں نے بے وفائی کی تو یہ چھپا رہا۔۔ جب سنا کہ امام حسین ؑ اس طرف تشریف لارہے ہیں تو خفیہ طور پر وہاں سے نکلا اور امام حسین ؑ کی خدمت میں پہنچا اور روزِ عاشور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
زیارت رجبیہمیں ان پر بھی سلام کیا گیا ہے۔۔ باقی حالات کہیں نہیں ملتے۔
’’نفس المہموم‘‘ سے مروی ہے کہ یہ شخص روز عاشور میدان جنگ میںجہاد کے لئے گیا اور چودہ یا اٹھارہ ملاعین کو باختلافِ روایات فی النار کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
اس کومختار کے پیش کیا گیا مختار نے پوچھا تووہ ہے کہ قافلہ اسیران اہل بیت کے اونٹوں کومارتاتھا تاکہ تیز دوڑیں اوراہل بیت کے اسیرگرپڑیں؟ اس نے انکار کیا لیکن مختار نے اس کے ہاتھ پائوں قلم کرکے دھوپ میں اس کوڈال دیا اوروہ تڑپ تڑپ کرمرگیا۔