عبد اللہ البشر خثعمی
شہادت پرفائزہوا۔
مختار نے پوچھا تووہ ہے جوعورتوں کوپیدل دوڑاتاتھا اورننگے پائوں ان کوچلنے کو کہتاتھا؟ پس اس کو لٹا کراوپرسے کچل دیا گیا ۔
’’ابن عساکر‘‘ سے منقول ہے کہ اس کو صحبت جناب رسالتمآبؐ کا شرف بھی حاصل تھا اور پھر حضرت امیر ؑ کی فوج ظفر موج میں بھی شامل رہا ور کوفہ میں سکونت پذیر رہا یہاں تک کہ کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
بروایت ’’رجال کشی‘‘ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: (۱) لا تَسُبُّو الْمُخْتَارَفَاِنَّہُ قَتَلَ قَتْلَتَنَاَ وَطَلَبَ بِثَارِنَا وَزَوَّجَ اَرَامِلَنَا وَقَسَمَ فِیْنَا الْمَالَ عَلٰی الْعُسْرَۃِ مختار کوگالی نہ دوکیونکہ اس نے اورہمارے قاتلوں کوقتل کیا ہے اورہمارا بدلہ لیا ہے اورہماری بیوائوںکی شادی کرآئی ہے اورہم میں تنگدستی کی حالت میں مال تقسیم کیا…
امیرمختار نے کوفہ کی حکومت سنبھالنے کے بعداٹھارہ ماہ کے عرصہ میں قاتلین امام مظلوم ؑ میں سے اٹھارہ ہزار ملاعین کوتہِ تیغ کیا اگر ان کوساتھ ملایاجائے جنہیں ابراہیم بن مالک اشتر نے نہر خازرکے کنارے پرقتل کیا تھا تومقتولین کی کل تعدادسترہزار سے بڑھ جاتی ہے، اس دوران عبداللہ بن زبیرمکہ میں اوراس…
جب امام حسین ؑ مقام جہنیہ پر پہنچے تھے جو مدینہ کے قریب ہے اور وہاں کجھور کے باغات بکثرت ہیں اور یہ وادی ’’وادیٔ صفرأ‘‘ کہلاتی ہے اور کافی ذرخیز جگہ ہے اور وہاں کہ ملکیت قبیلہ جہنیہ اور بنی فہد کی تھی، پس یہ عباد وہاں سے امام ؑ کے ساتھ ہو گیا…
علمائے رِجال نے ذکر کیا ہے کہ یہ بزرگوار جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی رکھتے تھے اور کربلا میں ان کے ساتھ ان کا چچازاد ربیعہ بن خوط بھی آیا تھا اور وہ بھی صحابی رسول تھا۔۔ چنانچہ بعد میں اس کا ذکر بھی آجائے گا۔۔ یہ بزرگوار حضرت امیر ؑ کے خاص…