عمیر بن عبداللہ مذجحی
اور مسلم ضبابی نے شہید کیا۔
یہ بزرگوار بہت بوڑھے اور عبادت گزار تھے۔۔۔ جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی ان کو حاصل تھا، جنگ بدر۔۔حنین اور دیگر غزواتِ نبویہ میں شریک رہے، پس کمر کو مضبوط باندھا اور ایک رومال اپنے اَبروئوں کے بلند کرنے کے لئے پیشانی پر باندھا۔۔۔ حضرت امام حسین ؑ اس کی یہ جاں فشانی…
حمید بن مسلم کا بیان ہے کہ شہادت امام حسین ؑ کے بعد جب فوج بدنہاد نے تاراجی خیام کا ارادہ کیا اورعورتوں میں شورماتم بپاہوا تو ایک لڑکا ترساںولرزاں باہر نکلااورڈرکے مارے دائیں بائیں دیکھتا تھا اتنے میں ایک ملعون نے تلوار سے اس کو شہید کر ڈالا،میں نے دریافت کیا کہ یہ بچہ…
پھر فرمایا: یَا زَیْنَبُ یَا اُمّ کلْثُومٍ یَا رُبَاب اے خاندانِ رسول کی شہزادیو! اے دودمانِ عصمت وطہارت کی پردہ نشینو! میرا آخری پیغام سنو؟ چنانچہ یہ آوازپہنچتے ہی تمام پردہ دارپروانہ دار شمعِ امامت کے ارد گرد جمع ہوگئیں اورخاموشی سے مولاکے آخری فرمان کی منتظر ہوئیں چنانچہ آپ ؑ نے اہل حرم پر…
’’کتب رجال‘‘ میں منذر بن سلیمان کو امام حسین ؑ کے اصحاب سے شمار کیا گیا ہے لیکن زیارت رجبیہ میں منذر بن مفضل پر سلام وارد ہے، اب فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کاتب کی لغزش ہے یا واقع میں شخص دو ہیں۔۔ واللہ اعلم
نصر کا باپ ابو نیزر بقول مبرّد سلاطین عجم کی اولاد میں سے تھا اور علامہ نوری سے ’’مستدرک‘‘ میںمنقول ہے کہ نجاشی کی اولاد میں سے تھا، بچپنے سے اسلام قبول کر کے مدینہ میں آیا اور شرف صحابیت رسول ؐ حاصل کیا، حضرت رسالتمآبؐ بنفس نفیس اس کی سر پرستی فرماتے تھے اور…
’’اصابہ‘‘ سے منقول ہے کہ بکر بن حی قبیلہ ثعلبہ سے ہے اور اس کو صحبت جناب رسالتمآبؐ کا شرف بھی حاصل ہے اور مروی ہے کہ بکر بن حی ان لوگوں میں سے تھا جو ابن سعد کے ہمراہ امام حسین ؑ سے لڑنے آئے تھے لیکن جب آتش جنگ مشتعل ہوئی تو امام…