عمیر بن عبداللہ مذجحی
اور مسلم ضبابی نے شہید کیا۔
علامہ مجلسیؒ نے بحار الانوار میں یحییٰ بن حسن ؑکو شہدائے کربلا میں لکھا ہے تفصیل معلوم نہیں۔
شیعانِ بصرہ میں سے تھا روز عاشور جہاد کرکے شہید ہوا، کہتے ہیں کہ حجاج سعدی کے ہمراہ یہ بھی بصرہ سے آیا تھا، زیارت ناحیہ مقدسہ اس پر سلام وارد ہے۔
جس طرح ضرغام کا معنی شیر ہے اسی طرح بنابر نقل مورّخین کے یہ شخص اسم بامسمّیٰ تھا، پیشہ شجاعت کا شیر صف شکن، شہسوار اور مشاہیر شیعان کوفہ میں سے تھا، حضرت مسلم کی بیعت میں داخل ہوا جب لوگوں نے غداری کی تو یہ شخص عمر بن سعد کی فوج میں شامل ہو…
ان کے شہدائے کربلا میں درج ہونے میں اختلاف ہے لیکن بہت سے علمائے تاریخ مثلاً ابن شہرآشوب، ابومخنف، علامہ مجلسی، مامقانی، شیخ عباس قمی اورصاحب ناسخ نے ان کو شہدائے کربلا میں سے شمارکیا ہے، جیساکہ مناقب، بحارالانوار اورنفس المہموم میں ہے ان کی والدہ ماجدہ صہبا تغلبیہ تھیں جن کی کنیت اُمّ حبیبہ…
’’نفس المہموم‘‘ سے مروی ہے کہ یہ شخص رجز پڑھتے ہوئے دشمنان حسین ؑ پر حملہ آور ہو ا اور بروایت ابو مخنف ساٹھ ملاعین کو جہنم پہنچا کر درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ باقی اس کے حالات نہیں مل سکے۔