فیروزان
الشہادۃ‘‘ سے منقول ہے کہ یہ امام حسن ؑ کا غلام تھا اور روز عاشور شہید ہوا، بعض
مورّخین نے اس کے مقتولین کی تعداد ایک سو تیس (۱۳۰) بیان کی ہے۔
’’قمقام فرہاد میرزا‘‘ سے منقول ہے کہ انہوں نے ’’تذکرہ الخواص‘‘ سے نقل کیا ہے جب سرہائے شہدأ کو کوفہ میں لایا گیا توقاسم بن اصبغ مجاشعی روایت کرتاہے میں نے ایک گھوڑے سوار کودیکھا کہ اس کے گھوڑے کی گردن سے ایک نوجوان کا سرلٹکا ہواتھا جس کا چہرہ مبارک چودھویں کے چاند کی…
یہ شخص عمر بن سعد کے ہمراہ کربلا میں آیا تھا۔۔۔ جب دیکھا کہ ابن سعد نے امام حسین ؑ کی تمام شرائط کو ٹھکرا دیا ہے تو دوسرے چند ساتھیوں کے ہمراہ رات کو امام حسین ؑ کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور حملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔۔ یہ شخص…
جب لڑائی کا غبارمدھم ہوا اورجنگ وجدال کی آتش فروہوئی توابراہیم نے فرمایا میں نے نہرخازرکے کنارے ایک ایسے شخص کوقتل کیا ہے جوتنہاجھنڈے کے نیچے تھا اوراس سے خوشبوکستوری کی آرہی تھی اورغالباً ابن زیادہی ہوگا؟ چنانچہ جب تلاش کیا گیا تو وہ واقعی عبیداللہ بن زیادہی نکلا پس ابراہیم سجدہ شکر میں گرگیا…
علامہ مجلسیؒ نے بحار الانوار میں یحییٰ بن حسن ؑکو شہدائے کربلا میں لکھا ہے تفصیل معلوم نہیں۔
شیعانِ بصرہ میں سے تھا روز عاشور جہاد کرکے شہید ہوا، کہتے ہیں کہ حجاج سعدی کے ہمراہ یہ بھی بصرہ سے آیا تھا، زیارت ناحیہ مقدسہ اس پر سلام وارد ہے۔
جعفر بن عقیل کی شہادت کے بعد یہ شیر غضبناک کی طرح میدان کارزار میں آئے اور تیس ملاعین کو تہِ تیغ کرکے درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔