موسیٰ بن عقیل
اور تیس ملاعین کو تہِ تیغ کرکے درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔
علمائے تاریخ نے اس کو بھی شہدائے کربلا میں شمار کیا ہے۔۔ حالات کی تفصیل معلوم نہیں۔
زیارت رجبیہ میںاس پر سلام وارد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہدائے کربلا میں سے تھا۔
اس شخص کولایا گیا جس نے تازیانے مارے تھے اوراُمّ کلثوم و فاطمہ کے گوشوارے اُتارکرکانوں کوزخمی کیا تھا! مختار نے کہا توکوئی محرم تھا؟ پس آنکھیں نکلواکرہاتھ کاٹ کرتیل میں جلادیا۔
یہ شخص تابعین میں سے ہے، عمر بن سعد کے ہمراہ لشکر اعدأ میں تھا جب دیکھا کہ امام حسین ؑ کے شرائطِ صلح کو ان لوگوں نے ٹھکرا دیا ہے اور امام ؑ کے قتل کے درپے ہیںتو روز عاشور تائب ہو کر امام کی خدمت میں پہنچا اور نہایت جانبازی سے جہاد کیا…
ہانی بن ثبیت حضرمی بیان کرتا ہے کہ میں بروز عاشور ابن سعدکی فوج میں تھا اور گھوڑے پر سوار تھا، جب گھوڑے کے ہنہنانے اوران کے ٹاپوں کی آواز بلند ہوئی تو میں نے دیکھا کہ خیمہ گاہ سے ایک بچہ باہر دوڑا اس کے کانوں میں گوشوارے بھی تھے اوروہ امام حسین ؑ…
اس کانام یزید بن زیاد بن مہاجر ہے اور قبیلہ کندہ کا فردِ فرید ہے، شہسواری اور فن تیر اندازی میں اپنی آپ نظیر تھا اور اپنے دور کا عالم اور محدث تھا۔۔۔ علاوہ بریں نہایت شریف، مردِ میدان اور دلیر تھا۔ قبل اس کے کہ لڑائی کی نوبت حضرت سید الشہدأ تک پہنچے۔۔۔تلوار میان…