داستانِ شہادتِ حضرت عباس ؑ
اپنے تینوں بھایئوں سے مخاطب ہوکرکہا کہ اب تم اپنے مولاپرقربانی کے لئے تیار
ہوجاو پس وہ سب حضرت حسین ؑ کے سامنے آگئے اورجس طرف سے تیرونیزہ کاوارہوتا تھا
تویہ سینہ سپرہوجاتے تھے، ناسخ سے منقول ہے حضرت عباس ؑ نے اپنے بھائیوں کو پہلے
اس لئے جہاد کے لئے روانہ کیا تاکہ مبادا بعد میں ان کے لئے شہادت سے کوئی روکاوٹ
پیدا ہوجائے یااس لئے تاکہ ان کواپنی آنکھوں سے مولاکے سامنے شہید دیکھ کرصبر
کرکے وفا داری کا ثبوت پیش کرے۔
انوار جلد عاشر‘‘ سے منقول ہے؟ کہ حضرت عباس ّنے جب امام کی تنہائی دیکھی : تو عرض
کیا اے آقا! آیا مجھے اجازت ہے کہ جہاد کروں؟ تویہ سن کرامام ؑ بہت روئے
اورفرمایابرادرجان تو میری فوج کا علمبردار ہے جب توچلاجائے گا توبقیہ فوج کی ہمت
ختم ہوجائے گی! حضرت عباس ؑ نے عرض کیا مولااب میرا جام صبر لبریز ہوچکا ہے
اورزندگی سے دل اُکتاگیا ہے ؟میں چاہتاہوں کہ اس نابکار قوم سے جہاد کرکے بحرِ
شہادت میں غوطہ زنی کروں ؟ تو امام ؑ نے فرمایا اچھا جاکراِن بچوں کے لیے پانی
لاؤ؟ پس حضرت عباس ؑروانہ ہُوئے اورقوم اشقیأ کو نصیحت کی اورپانی طلب کیا لیکن
ان بے دینوں نے نہ مانا جب واپس آئے تو بچوں کی اَلعطش کی آواز گوش گزارہوئی،
گھوڑے پر سوارہوئے اورمشکیزہ بغل میں لے کردریائے فرات کی طرف متوجہ ہوئے، دریائے
فرات پر چار ہزار سپاہی موکل تھے انہوں نے ہر طرف سے حملہ کردیا لیکن شیر خدا کے
فرزند نے ایک ہی حملہ میں سب کو منتشر کردیا اوراسّی ملاعین کو تہِ تیغ کرکے
دریائے فرات میں جاداخل ہوئے، چلّو میں پانی لیا اورپینے کا ارادہ کیا لیکن جب
امام حسین ؑ اورچھوٹے بچوں کی پیاس یاد آئی توپانی کو گرادیا مشک کو پُرکرکے
دائیں کندھے میں ڈالا اورباہر تشریف لائے، دشمنانِ دین نے جب حضرت عباس ؑ کو پانی
لے کرخیموں کی طرف جاتے دیکھا توہر طرف سے حملہ آور ہوگئے، حضرت ابوالفضل العباس
ؑ نے پو ری جانبازی سے اِن کا مقابلہ کیا، نوفل بن ارزق نے چھُپ کردائیں شانہ
پروار کیا اوردایاں بازُو شہید ہوگیا پس نہایت پھرتی سے آپؑ نے مشکیزہ بائیں
کندھے میں لیا توحکیم بن طفیل نے چھُپ کربائیں بازُو پر وار کیا اوروہ بھی جُدا
ہوگیا، پس آپ ؑ نے مشک کے تسمہ کومنہ میں لیا اورگھوڑے کو مہمیز کیا تاکہ کسی طرح
پانی خیام میں پہنچ جائے لیکن ایک ظالم نے مشک پرایسا تیر مارا کہ مشک چھد گئی
اورپانی بہہ گیا، پھر ایک تیر آپ ؑ کے سینہ مبارک پر لگاکہ آپ ؑ گھوڑ ے پر سنبھل
نہ سکے، نیز بنی دارم کے ایک شخص نے ایک گُرزِگراں سے آپ ؑ کے سراقدس پروارکیا۔
تشریف لے گئے تو ان سے فرمایاتھاکہ اے دشمنانِ خدا حضرت حسین ؑ فرماتے ہیں کہ تم
نے میرے اورمیرے بچوں پر پانی بند کررکھا ہے اگر میرا یہاں رہنا تمہیں پسند نہیں
تومجھے مہلت دو کہ میں اپنے پردہ داروں اوربچوں کے ہمراہ لے کر روم یا ہندوستان کی
سرحدودں کی طرف چلاجائوں؟ اورحجاز وعراق کی سرزمین تمہارے لئے خالی کردوں؟نیزیہ
بھی وعدہ کرتاہوں کہ قیامت کے دن بھی تم سے اس بارہ میں مخاصمہ نہیں کروں گا؟
اورنہ تمہارا شکوہ کروں گا؟ حضرت عباس ؑ کی اِس تقریر نے ان بے دینوں کے سخت دلوں
پرذرا بھر اثر نہ کیا اورشمر نے جواب دیا؟ اگر تمام رُوئے زمین پانی پانی ہوجائے
اورہمارے بس میں ہوتو تمہیں ایک قطرہ بھی نہ دیں گے جب تک یزید کی بیعت نہ کروگے ۔
سرپر پہنچو؟ پس حضرت حسین ؑ نے جونہی آواز سنی توعباس ؑ کے بالین سر پہنچے،
سارابدن خون سے گلگون ہوگیا اور بازو بدن اطہر سے جُدا تھے، امام پاک یہ حالت دیکھ
کربہت رُوئے اورفرمایا اَلآنْ
اِنْکَسَرَظَھْرِیْ وَ قَلّتْ حِیْلَتِی اب میری کمر ٹوٹ گئی اورسہارا نہ رہا۔
زیادہ تھے کہ لاش کا وہاں سے منتقل کرنامشکل تھا؟ اس لئے مولا نے چشم اشکبار اور
دلِ داغدار سے لاش کو وہیں رکھ دیا اورتنہا خیمہ کی طرف پلٹے، جب جناب سکینہ خاتون
نے دیکھا توبچشم گریاں عرض کیا باباجان میرے چچا عباس ؑ کہاں ہیں؟ توفرمایابیٹی وہ
شہید ہوگئے ہیں یہ سُن کر اہل بیت ؑ کے خیام میں ایک کہرام ماتم بپاہوا حضرت سکینہ
خاتون وَاعَمَّاہُ کرکے روتی تھیں۔
توراستہ میں فوجوں کا گھمسان تھا اورامام ؑ کوراستہ نہ ملتاتھا، پس آپ ؑ نے جہاد
شروع کیا اورمیمنہ ومیسرہ پر ایک ایسے زور سے حملہ کیا کہ فوجیں تتر بتر ہوگئیں،
اس حملہ میں آپ ؑ نے ستّر ملاعین کو فی النار کیا اورپھر حضرت عباس ؑ کی لاش پر
پہنچے؟ راوی کہتاہے کہ جب حضرت امام حسین ؑ ہماری طرف متوجہ ہوتے تھے توہمیں گمان
پڑتاتھا کہ حضرت امیر ؑ خود بنفس نفیس جنگ کررہے ہیں، جب حضرت امام حسین ؑ لاش پر
پہنچے توحضرت عباس ؑ کی زخموں سے حالت یہ تھی جس طرح ایک شاعر نے تصویر کشی کی ہے:
فََیَلْثَمٖ
خالی نہ تھی جس پر بوسہ دیا جاسکے؟
کلمات کہے:
ہوگیا۔
میں کئی آنکھیں بیدار رہیں گی جن کا سونا اب مشکل ہے؟
کہا، مروی ہے کہ حضرت عباس ؑ کے دوشہزادوں کا ہاتھ پکڑکر جنت البقیع میں چلی جاتی
تھیں اوروہاں مصروف گریہ رہتی تھیں لوگ ان کا مرثیہ سننے کے لئے جمع ہوجاتے تھے
اورزارو زارروتی تھیں ۔
حضرت عباس ؑ کا رعب وجلال ان کو بے فکری کی نیند نہ سونے دیتا تھا؟ لیکن جب آپ ؑ
جام شہادت نوش فرماکر دریا کے کنارے سوگئے تواس دن کے بعد دشمن حسین ؑ بے
فکرہوکرسوتے تھے ؟اورسادانیوں کو نیند نہیں آ تی تھی ؟حالانکہ شب دہم تک تمام
بیبیاں آرام سے بے فکر ی کی نیند سوتی تھیں؟ غالباً جناب امّ کلثوم نے جوواپسی پر
مدنیہ سے باہر مدینہ کو خطاب کرکے مرثیہ پڑھا اس کے اس شعر کا مقصد یہی ہے:
راتوں کی مسلسل بیداری وبے آرامی نے ہماری نظریں کمزورکردی ہیں۔
کوپیاس ہے تو اپنے غلام قنبر کو حکم دیا پانی لائو، یہ آواز عباس ؑ نے سن لی دوڑ
کوگھر میں تشریف لائے اورماں سے پانی کا جام طلب کیا کہ مجھے جلدی سے پانی دیجئے
کیونکہ میراآقا حسین ؑ پیاسا ہے اوربابانے قنبر کوپانی لانے کا حکم دیا ہے میں
نہیں چاہتا کہ حسین کا سقّامیرے علاوہ کوئی اورہو۔۔ پس قنبر سے پہلے پانی آکرپیش
کیا۔
کوللکار کرکہا کہ میری موجود گی میں خیام کو نہیں اکھاڑاجاسکتا لیکن حضرت امام
حسین ؑ کے فرمان کی تعمیل میں مجبور تھے؟
پس چاروناچار خیام کو دریا کے کنارہ سے الگ جاکر نصب کیا۔
گود میں رکھا اور عباس ؑ کے منہ پر کان لگاکر سنا :تووہ عرض کررہے تھے اے مولامیری
ایک آنکھ میں تیر لگا ہوا ہے اوردوسری آنکھ میں خون بھر چکا ہے میرے منہ سے خون
صاف کیجئے؟ کیونکہ میرے ہاتھ نہیں ہیں تاکہ آپ ؑ کے چہرۂ انور کی ایک دفعہ زیارت
کرلوں؟ چنانچہ امام مظلوم ؑ نے اپنے دامن سے عباس ؑ کے منہ اورآنکھوں سے خون صاف
کیا اورعباس ؑ نے اپنے آقاکی زیارت کرکے دوبارہ آنکھ بند کرلی اورعرض کیا؟
آقامیری لاش کو اٹھا کرخیام کی طرف نہ لے جایئے ؟ وجہ دریافت کی توعرض کیا کہ میں
تیری شہزادی سکینہ سے پانی کا وعدہ کرآیا تھا ؟اب مجھے شرم آتی ہے کہ خالی کیسے
جائوں گا؟ نیز میری یہ حالت دیکھ کربچے برداشت نہ کر سکیں گے؟ نیز میں نے عصمت
مآب بیبیوں کی پردہ داری کی ضمانت لی ہوئی تھی؟ اب وہ عالم بے چارگی میں مجھے
دیکھیں گی توبے حال ہوں گی؟ پس امام عالیمقام ؑ نے عباس ؑ کی لاش کووہیں رکھ دیا
اورحضرت سجاد ؑ نے باعجاز امامت تیرہ محرم کو تشریف لاکربنی اسد کی مددسے ا ن کو
وہیں دفن کردیا۔
دیکھنا نہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا؟ ذاکرین و واعظین کی زبان پر ان روایات کو شہرت
حاصل ہے اورحال کی مناسبت بھی ان کی مویّد ہے۔
البنین کے پاس رہ گیا تھا؟ جب بشیربن جزلم
نے مدینہ میں اسیرانِ اہل بیت کی جانب سے ان کی آمد کی خبر دی تویہ بچہ بشیر کے
سامنے کھڑاہوگیا اور اس نے پوچھاکہ کیا میرے بابابھی واپس آئے ہیں کیونکہ میری
دادی کوان کا سخت انتظار ہے جواس وقت دیوار کے اس طرف کھڑی ہے؟ پس بشیر نے کہا کہ
دادی سے کہوتیرے چاروں فرزنددرجہ شہادت پرفائز ہوچکے ہیں، پس یہ مخدرہ ہرروز جنت
البقیع میںجاکر گریہ فرماتی تھیں کہ لوگ سن کربے تحاشا رودیتے تھے۔۔۔ اوراپنے
بیٹوں کی بجائے بی بی کا گریہ امام حسین ؑ کے لئے ہوتا تھا اورفرماتی تھیں میرے
چار بیٹے مارے گئے کاش حسین ؑ بچ جاتا۔
