عمروبن عبداللہ جندعی
ؑ کی خدمت میں پہنچا اور عاشور کے دن فوج اشقیا ٔ پر حملہ آور ہوا اس کے سر پر
ایک ضرب لگی جس سے بے ہوش ہو کر زمین پر گرا۔۔ پس اس کے قبیلہ والے اس کو اٹھا کر
لے گئے، کوفہ میں ایک سال صاحب فراش رہا اور پھر راہی ٔ جنت ہوا۔
’’ریاض الشہادہ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔
ابن آشوب سے مروی ہے کہ حضرت ابوالفضل العباس ؑ کا ایک فرزند محمد نامی تھا جو واقعہ کربلامیں شہید ہوا، محمد کے علاوہ حضر ت ابوالفضل العباس ؑ کے چارلڑکے بیان کئے گئے ہیں: عبیداللہ ، فضل ، حسن ، قاسم آپ ؑ کی ایک لڑکی بھی ہے جس کا نام معلوم نہیں ہو…
اس کا نام عروہ مذکور ہے لشکر اشقیا ٔ میں داخل تھا جب اپنے آقا حُر کو شہید دیکھا تو فوج اشقیا ٔ پر حملہ آور ہو گیا کافی ملاعین کو تہِ تیغ کر کے خدمت امام ؑ میں پہنچا اور اذن جہاد حاصل کر کے دوبارہ میدان میں گیا اور مصروف جہاد ہو کر…
’’ریاض الشہادۃ‘‘ سے منقول ہے کہ یہ امام حسن ؑ کا غلام تھا اور روز عاشور شہید ہوا، بعض مورّخین نے اس کے مقتولین کی تعداد ایک سو تیس (۱۳۰) بیان کی ہے۔
(۱) انس بن حارث کاہلی (۲)بکر بن حی ثعلبی (۳)جابر بن عروہ غفاری (۴)جنادہ بن حارث انصاری (۵) جنادہ بن بنہان (۶)حبیب بن مظاہر اسدی (۷) ربیعہ بن خوط (۸)زاہربن عمرواسلمی (۹)زیادبن عریب ہمدانی (۱۰) سعد بن حارث (۱۱)شبیب بن عبداللہ بن حارث (۱۲)عبدالرحمن بن عبدربہ انصاری (۱۳)عبدالرحمن الارحبی (۱۴)عقبہ بن صلت جہنی (۱۵)…
صرف زیارتِ رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔