Similar Posts
ابن نوفل لعنہٗ اللہ
مختار نے پوچھا کہ تونے فضہ کوتازیانہ مارکراس کا بازوتوڑاتھا؟ پس ہزار تازیانہ ماراگیا۔۔ ہاتھ کاٹے گئے وہ فی النار ہوا۔
عمرو بن صبیح لعنہٗ اللہ
اس نے بیان کیا کہ میں کربلا میں نیزہ ہاتھ میں لے کر جنگ کرتا رہا لیکن میں نے قتل کسی کو نہیں کیا، پس بحکم مختار نیزہ سے ہی اس کے جسم کو پارہ پارہ کردیا گیا۔
عابس بن ابی شبیب شاکری
زیارت ناحیہ مقدسہ اور رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے، نامی گرامی بہادر لاثانی شہسوار اور فن حرب و ضرب میں آزمودہ کار سپاہی تھا، حضرت علی ؑ کے نامور شیعوں میں سے تھا، نیز بلند پایہ خطیب۔۔ عبادت میں شب بیدار اور تہجد گزار بزرگ تھا بلکہ پورا قبیلہ بنی شاکر وِلائے آل…
سلیمان بن سلیمان ازدی
صرف زیارتِ رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
قاسم بن حبیب ازدی
یہ شخص کوفہ سے سعد کی فوج میں شامل ہو کر نکلا اور کربلا میںپہنچ کر امام حسین ؑ کی فوج میںشامل ہو گیا اور روز عاشور حملہ اولیٰ میںشہید ہو ا،زیارت ناحیہ ورجیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
زید بن رقاد لعنہٗ اللہ
یہ ملعون حضرت عبداللہ بن مسلم کا قاتل تھا، امیر مختار نے عبداللہ بن کامل کو اس کی گرفتاری کیلئے روانہ کیا اس نے فرار کرنے کی ہر چند کوشش کی لیکن فائدہ مند ثابت نہ ہوئی، عبداللہ بن کامل کے ساتھی ننگی تلواریں لے کر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کو گرفتار کر…
